

منصور احمد june 11,2026
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 11 جون 2026ء
پاکستان میں معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا اور موذی مرض سے مستقل نجات دلانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں تھیلیسیمیا کے مسلسل بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شادی سے قبل اسکریننگ ٹیسٹ کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی ”تھیلیسیمیا موبائل وین“ کی پروقار افتتاحی تقریب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں اس وقت تھیلیسیمیا کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی خطرناک اور تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت سمیت پورے معاشرے کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہر سال معصوم بچے اس دردناک بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، انہوں نے اصرار کیا کہ شادی سے پہلے کا یہ لازمی ٹیسٹ کم از کم مردوں کے لیے فوری طور پر قانونی شکل میں نافذ ہونا چاہیے کیونکہ جب دو کیریئرز یعنی اس بیماری کے جراثیم رکھنے والے مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں خصوصی شرکت کے دوران وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ بل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس بل کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے تیار ہے اور قانون میں یہ شق لازمی شامل ہونی چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہر دلہے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہو اور اگر دلہا پازیٹو آ جائے تو دلہن کا بھی فوری ٹیسٹ کروایا جائے کیونکہ ہم صرف اور صرف اس سخت قانون سازی کے ذریعے ہی اپنی آنے والی نسلوں اور معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا کی معذوری سے بچا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے ایک اور بڑا اعلان کیا کہ اب بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے اور پیچیدہ علاج سے پہلے لی جانے والی تمام سرکاری منظوریاں اور شرطیں فوری ختم کر دی گئی ہیں تاکہ بچوں کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
طبی ماہرین اور وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت کی انتھک کوششوں کے بعد اب نیشنل اسمبلی نے اس تاریخی بل کو باقاعدہ پاس کر دیا ہے جس کے بعد اب اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ ایکٹ کے تحت چند انتہائی اہم اور سخت ترین قوانین لاگو کر دیے گئے ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: ۱۔ اب وفاقی دارالحکومت میں شادی سے پہلے دلہا اور دلہن دونوں کے لیے تھیلیسیمیا کی بلڈ اسکریننگ کروانا قانونی طور پر لازمی ہو گا۔ ۲۔ تھیلیسیمیا کے موجودہ مریضوں کے تمام خون کے قریبی رشتہ داروں کو باقاعدہ طبی کونسلنگ کے ذریعے مشورہ دیا جائے گا کہ وہ بھی شادی سے قبل اپنا بلڈ ٹیسٹ لازمی کروائیں۔ ۳۔ ایسی تمام حاملہ خواتین جو اس مرض کی کیریئر ہیں اور ان کے شوہر بھی کیریئر پائے گئے ہیں تو اس جوڑے کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ حمل کے دوران ہی اینٹینٹل ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ بچے کی صحت کا قبل از وقت پتہ چل سکے۔ ۴۔ ملک بھر میں ہونے والے ان تمام ٹیسٹوں کے نتائج کو ایک مرکزی ڈیٹا بینک میں رجسٹر کیا جائے گا تاکہ ملک میں تمام کیریئرز کا ایک باقاعدہ اور محفوظ ریکارڈ موجود رہے۔ ۵۔ تمام غیر سرکاری اداروں اور تھیلیسیمیا سینٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مجموعی بجٹ کا کم از کم دس فیصد حصہ لازمی طور پر پیدائش سے پہلے کی تشخیص یعنی پری نیٹل ڈائیگنوسس کی جدید سہولیات پر خرچ کریں گے۔
طبی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق تھیلیسیمیا بنیادی طور پر خون کی ایک موروثی اور خطرناک بیماری ہے جس کی تین بڑی اقسام مائنر، میجر اور انٹرمیڈیا ہیں، جن میں سے میجر کی قسم میں مبتلا معصوم بچوں کو زندہ رہنے کے لیے زندگی بھر مہینے میں ایک سے دو بار باہر سے نیا خون لگوانا پڑتا ہے جس پر ہزاروں روپے کی مہنگی ادویات کا ماہانہ خرچہ آتا ہے جبکہ اس بیماری کی تشخیص محض ایک انتہائی سادہ اور سستے خون کے ٹیسٹ سی بی سی اور ایچ بی اے ٹو لیول کے ذریعے باآسانی ہو جاتی ہے، اس بیماری کا مستقل علاج صرف خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے لیے ڈونر ملنا انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ پچاس ہزار افراد میں سے محض ایک شخص کا بون میرو میچ کرتا ہے، اسی حساس صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے والدین کے نام اپنے ایک اہم ترین پیغام میں اپیل کی ہے کہ یہ تمام والدین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شادیوں سے قبل یہ ٹیسٹ کروا کر اپنے بچوں کو تھیلیسیمیا جیسی عمر بھر کی اذیت سے بچائیں کیونکہ یہ اب صرف صحت کا ایک عام مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے پورے خاندان، آنے والی نسلوں اور پورے معاشرے کی بقا اور حفاظت کا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔