

منصور احمد ,May 23,2026
چانگژو، چین/ نیوز اینڈ نیوز
حکومتِ پاکستان نے چین کے ساتھ صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے چینی صنعتی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ پیشرفت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے چین کے صوبہ جیانگسو کے صنعتی شہر چانگژو کے دورے کے دوران سامنے آئی۔
پاکستانی وفد نے معروف چینی کمپنی Star Charge کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وفد کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی سسٹمز، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ بیسڈ انرجی مینجمنٹ پلیٹ فارمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمپنی اس وقت دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی منصوبوں اور مقامی صنعتی پیداوار کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفد کو پاکستان میں کمپنی کے مجوزہ مقامی دفتر، صنعتی توسیعی منصوبوں اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
پاکستانی وفد نے بعد ازاں Changfa Group کا بھی دورہ کیا، جو زرعی اور صنعتی مشینری کی تیاری میں چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس موقع پر کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت پاکستان میں زرعی اور صنعتی مشینری کی مقامی تیاری، تکنیکی تعاون اور جدید مینوفیکچرنگ منصوبوں کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔
چینی حکام اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی صنعتی جدیدکاری، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں صنعتی روابط، مشترکہ منصوبوں اور مینوفیکچرنگ شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
دورے کے دوران چانگژو کے میئر ژو وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور چین کے صنعتی ترقیاتی ماڈل، سرمایہ کاری سہولت کاری اور جدید صنعتی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی تعاون پاکستان کی معیشت، مینوفیکچرنگ شعبے اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔