

کاشف عباسی ,May 16 ,2026
بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز):
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دو روزہ دورۂ چین بغیر کسی بڑی سفارتی یا تجارتی پیشرفت کے اختتام پذیر ہو گیا، جبکہ ایران، تجارت اور نایاب معدنی دھاتوں کے معاملات پر کوئی اہم معاہدہ طے نہ پا سکا۔
بیجنگ میں قیام کے دوران امریکی صدر نے چینی صدر شی جن پنگ کی بھرپور تعریف کی، تاہم ایران جنگ کے خاتمے یا آبنائے ہرمز کی صورتحال پر چین کی جانب سے کوئی واضح عملی تعاون سامنے نہیں آیا۔
چینی حکام کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق تنازع کبھی پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، جبکہ بیجنگ نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے پر زور دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واپسی کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر ان کا صبر جواب دے رہا ہے، تاہم اگر سنجیدہ پیش رفت ہوئی تو ایران کے جوہری پروگرام پر بیس سالہ پابندی کے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی پر اتفاق پاکستان کے فائدے کے لیے کیا گیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں نرم یا ختم کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ چین اس وقت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان باہمی بے اعتمادی بھی نمایاں رہی، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف دیکھا گیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی غلطی سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے انہیں بتایا کہ چین تائیوان کی آزادی کے خلاف ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کوئی وعدہ نہیں کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق زیر التوا فیصلے پر جلد غور کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ اس دورے میں فوجی اعزازات، خصوصی تقریبات اور تاریخی مقامات کے دورے شامل تھے، لیکن بند کمرے کے مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر واضح اختلافات برقرار رہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے مطابق صدر شی جن پنگ رواں سال خزاں کے موسم میں امریکی صدر کی دعوت پر امریکہ کا دورہ بھی کریں گے۔
بیجنگ میں آخری ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین دورہ تھا اور اس سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق عملی طور پر کسی بڑے معاہدے یا پیشرفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔