

کاشف عباسی ,May 18 ,2026
رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز
اسلام آباد / کراچی: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین نے اس تجویز کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کروڑوں نوجوان ووٹرز حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ انتخابات لڑنے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے، اس لیے ووٹ ڈالنے کی عمر بھی اسی سطح پر لانے پر بحث ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “اگر کوئی شخص 25 سال سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو یا الیکشن لڑنے کی عمر 18 سال کی جائے یا پھر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال ہونی چاہیے۔”
رانا ثناء اللہ کے مطابق 25 سال کی عمر کو سیاسی و سماجی بلوغت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور نمائندگی اور ووٹ ڈالنا دونوں یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور اسے حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی حتمی پالیسی نہ سمجھا جائے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس تجویز کو “سیاسی گھبراہٹ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت 18 سال کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے، شادی کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل تو سمجھتی ہے، مگر انہیں اپنی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں ملک کے دفاع کے لیے بالغ سمجھا جاتا ہے، لیکن ووٹ دینے کے لیے اچانک نابالغ قرار دیا جا رہا ہے۔”
قانونی ماہرین نے بھی اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ووٹنگ کی عمر 25 سال کی گئی تو تقریباً 23.7 فیصد ووٹرز، یعنی لگ بھگ 3 کروڑ نوجوان، انتخابی عمل سے باہر ہو جائیں گے، جو جمہوری نمائندگی کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی تبدیلی ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں