

کاشف عباسی ,May 19 ,2026
رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز
کراچی / استنبول: معروف سماجی رہنما فیصل ایدھی کے صاحبزادے اور مرحوم عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی کو اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے عالمی امدادی قافلے کے دیگر کارکنوں سمیت حراست میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں امدادی فلوٹیلا کے کم از کم 10 جہازوں کو روک کر کارروائی کی گئی۔
فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے جہازوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روکا، جبکہ مجموعی طور پر 23 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ غزہ پر عائد “قانونی بحری ناکہ بندی” کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب فیصل ایدھی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ دوپہر تقریباً ایک بجے اسرائیلی فورسز نے قبرص کے قریب امدادی قافلے کو روک کر اس میں شامل افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ان کے صاحبزادے سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستانی دفتر خارجہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ گرفتاریاں بین الاقوامی پانیوں میں کی گئیں، جہاں اسرائیل کو کارروائی کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر انہیں حراست میں لیا ہے اور ان کے مقام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”
فیصل ایدھی نے بتایا کہ سعد ایدھی بطور پاکستانی شہری غزہ کے جنگ متاثرہ عوام کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جا رہے تھے، جبکہ قافلے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک تھے۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی کارروائی کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور غزہ میں جاری “انسانی المیے” کو روکا جائے۔
قبل ازیں سعد ایدھی نے بھی غزہ صمود فلوٹیلا سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا: “میں سعد ایدھی، ایک پاکستانی شہری ہوں۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے روکا جا چکا ہے یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔”
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں آئرلینڈ کے صدر کی بہن اور اٹلی کی ایک خاتون رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے