

محمود احمد, October29,2026
میڈرڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء
اسپین میں دو ٹرینوں کے ہولناک تصادم سے قبل ٹرین ڈرائیوروں اور ریلوے کنٹرول سینٹر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر آنے کے بعد حادثے کی وجوہات پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 69 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا سگنلنگ نظام میں خرابی اور ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دینے میں ممکنہ غلطی اس سانحے کا سبب بنی۔
حادثہ بدھ کی صبح اس وقت پیش آیا جب میڈرڈ سے سیویل جانے والی رینفے کی ٹرین اسی ریلوے لائن پر آگے موجود نجی کمپنی اریو کی ایک ٹرین سے ٹکرا گئی۔ اطلاعات کے مطابق اریو کی ٹرین تکنیکی خرابی کے باعث رکی ہوئی تھی، جبکہ رینفے کی ٹرین اس کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ہسپانوی میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی تین آڈیو ریکارڈنگز میں ڈرائیوروں اور دارالحکومت میڈرڈ میں قائم ریلوے کنٹرول سینٹر کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے۔ ان ریکارڈنگز سے بظاہر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک ٹرین کے رکے ہونے اور نظام میں خرابی کی اطلاع موجود تھی تو دوسری ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
رینفے ٹرین کو آگے بڑھنے کی ہدایت
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلی ریکارڈنگ میں کنٹرول سینٹر کا اہلکار رینفے ٹرین کے ڈرائیور سے رابطہ کرتا ہے۔ اس ٹرین کو کچھ تکنیکی مشکلات کا سامنا تھا اور وہ اریو کی ٹرین کے پیچھے چل رہی تھی۔
گفتگو کے دوران کنٹرول اہلکار ڈرائیور کو سفر جاری رکھنے اور متبادل سگنلنگ طریقۂ کار کے تحت معمول کی رفتار سے آگے بڑھنے کی ہدایت دیتا ہے۔ ڈرائیور اس ہدایت کی تصدیق کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ کیا اسے معمول کی رفتار سے آگے بڑھنا ہے۔ کنٹرولر جواب میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔
یہ گفتگو تحقیقات کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اسی دوران ریلوے لائن پر سگنلنگ اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کے نظام میں خرابی کی اطلاعات تھیں۔ تاہم صرف آڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ حادثے کی مکمل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
اریو ٹرین کے ڈرائیور نے بھی خرابی کی اطلاع دی
دوسری آڈیو ریکارڈنگ میں اریو ٹرین کا ڈرائیور کنٹرول سینٹر کو بتاتا ہے کہ ٹرین کا کنٹرول سسٹم سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور ٹرین حرکت نہیں کر رہی۔ ڈرائیور کے مطابق ٹرین اُردا کے داخلی سگنل کے سامنے رکی ہوئی ہے۔
گفتگو کے دوران اسے سفر دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے، لیکن بعد میں ہونے والی تیسری ریکارڈنگ میں وہ دوبارہ کنٹرول سینٹر سے رابطہ کرتا ہے۔ اس مرتبہ ڈرائیور بتاتا ہے کہ ٹرین کا حفاظتی نظام اسے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دے رہا اور وہ اب بھی داخلی سگنل کے سامنے رکا ہوا ہے۔
اس گفتگو سے بظاہر ظاہر ہوتا ہے کہ کنٹرول سینٹر کو اریو ٹرین کے رکے رہنے کی اطلاع دی جا چکی تھی۔ اسی دوران رینفے ٹرین کو آگے بڑھنے کی ہدایت دیے جانے کے معاملے نے تحقیقات میں اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سگنلنگ نظام کی خرابی اور ممکنہ انسانی غلطی
اطلاعات کے مطابق خودکار سگنلنگ نظام اور کمپیوٹر میں خرابی کے باعث متاثرہ ریلوے حصے میں ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں متبادل سگنلنگ طریقۂ کار کے ذریعے ٹرینوں کو چلانے کے لیے خصوصی احتیاط اور واضح ہدایات درکار ہوتی ہیں۔
اسپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے کہا کہ رفتار پر کسی قسم کی پابندی کے بغیر ٹرینوں کو دوبارہ چلنے کا حکم دینا ’’ناقابلِ فہم‘‘ تھا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ خرابی کے دوران ٹرینوں کی نقل و حرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیسے کیا گیا۔
تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حادثہ صرف انسانی غلطی یا صرف تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ اس کے لیے سگنلنگ نظام کے ریکارڈ، کنٹرول سینٹر کی ہدایات، ٹرینوں کے حفاظتی نظام اور ڈرائیوروں کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوگا۔
دونوں ٹرینوں میں سینکڑوں مسافر سوار تھے
فراہم کردہ معلومات کے مطابق رینفے کی ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے، جبکہ نجی کمپنی اریو کی ٹرین میں 147 مسافر موجود تھے۔ اس طرح دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر 544 مسافر سوار تھے۔
حادثے میں کم از کم 69 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی ٹرین کے لحاظ سے الگ الگ تعداد، زخمیوں کی موجودہ طبی حالت یا متاثرین کی شناخت کے بارے میں مکمل معلومات شامل نہیں۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی شناخت کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کے تباہ شدہ حصوں کا معائنہ بھی تحقیقات کا اہم حصہ ہوگا۔ آڈیو ریکارڈنگز کے علاوہ تکنیکی شواہد یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ دونوں ٹرینیں کس طرح ایک دوسرے کے قریب پہنچیں اور تصادم کو روکا کیوں نہیں جا سکا۔
تحقیقات میں کن سوالات کے جواب تلاش کیے جائیں گے؟
اس حادثے کی تحقیقات میں چند بنیادی سوالات اہم ہوں گے: کیا کنٹرول سینٹر کو دونوں ٹرینوں کی درست پوزیشن معلوم تھی؟ کیا متبادل سگنلنگ نظام کے تحت رفتار کی کوئی پابندی ہونی چاہیے تھی؟ اریو ٹرین کے حفاظتی نظام نے اسے آگے بڑھنے سے کیوں روکا؟ اور جب اس کے رکے ہونے کی اطلاع دی گئی تو رینفے ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟
ان سوالات کے جوابات حادثے کی وجہ اور ذمہ داری کا تعین کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ آڈیو ریکارڈنگز اہم شواہد ضرور ہیں، لیکن انہیں دیگر تکنیکی ریکارڈ اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کے ساتھ ملا کر جانچنا ہوگا۔
اسپین کے حکام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ حادثے میں تکنیکی خرابی، آپریشنل فیصلوں یا دیگر عوامل نے کس حد تک کردار ادا کیا۔ اس دوران متاثرین کے اہلِ خانہ کے لیے امداد اور زخمیوں کے علاج کی فراہمی بھی اہم ترجیحات میں شامل رہے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: آڈیو ریکارڈنگز میں ہونے والی گفتگو حادثے سے پہلے کے حالات پر سوالات اٹھاتی ہے، لیکن یہ بذاتِ خود کسی فرد یا ادارے کی قانونی ذمہ داری ثابت نہیں کرتی۔ ہلاکتوں کی تعداد، حادثے کی وجہ اور ممکنہ غفلت سے متعلق حتمی نتائج سرکاری تحقیقات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر ہی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
ماخذ: ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے کا بیان، ہسپانوی ریلوے حکام، فراہم کردہ آڈیو ریکارڈنگز اور حادثے سے متعلق معلومات