

محمود احمد, October29,2026
دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء
قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کے الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں اسرائیل کی داخلی سیاسی ناکامیوں کا ذمہ دار قطر کو ٹھہرانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ یہ الزامات اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق یا تحقیقات کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ الزامات نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ خطرناک بھی ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی انتخابی مہم اور سیاسی مباحثوں میں بار بار قطر کا نام لیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاسی اور میڈیا شخصیات قطر کے حوالے سے غیر معمولی حساسیت رکھتی ہیں۔
قطر کا مؤقف: سیاسی ناکامیوں کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے
ماجد الانصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر کو بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے قربانی کا بکرا نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں کو قطر پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے ووٹروں کی ضروریات، عوام کی زندگی بہتر بنانے اور خطے میں ہونے والے نقصان کے ازالے پر توجہ دینی چاہیے۔
قطری ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوحہ ان الزامات کو انتخابی سیاست سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے اور انہیں اپنے خلاف سیاسی مہم کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ تاہم اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اسرائیلی تحقیقات کے نتائج اور متعلقہ شواہد اہم ہوں گے۔
قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابی عمل میں مداخلت یا نتائج پر اثر انداز ہونے کی کسی سرگرمی کی مالی معاونت سے انکار کرتا ہے۔ اس معاملے پر ترکی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات بھی اہم ہو سکتی ہیں، کیونکہ الزامات میں دونوں ممالک سے مبینہ مالی منتقلی کا ذکر کیا گیا ہے۔
شن بیت کی تحقیقات کا اہم مرحلہ
اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ بیرونِ ملک سے رقوم اسرائیل منتقل کی گئیں اور ان کا مقصد عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں کو متاثر کرنا تھا۔
تحقیقات میں یہ جانچنا اہم ہوگا کہ آیا ایسی کوئی مالی منتقلی ہوئی، اس کا مقصد کیا تھا اور آیا اس کا انتخابی سرگرمیوں سے کوئی ثابت شدہ تعلق موجود ہے۔ محض الزام عائد کیے جانے سے کسی ملک یا فرد کی ذمہ داری ثابت نہیں ہوتی، اس لیے شواہد اور تحقیقات کے نتائج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ تحقیقات کب مکمل ہوں گی یا ان کے نتائج کب عام کیے جائیں گے۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر غیر ملکی مداخلت یا انتخابی بدعنوانی کے دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا محتاط مؤقف
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات کے باعث اسرائیل کی پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
صدر ہرزوگ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب جماعتیں اسرائیلی انتخابات میں نمایاں نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی پارلیمانی نمائندگی حکومت سازی اور سیاسی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اسرائیل میں انتخابی الزامات اور عرب شہریوں کی سیاسی شرکت کا معاملہ حساس اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ انتخابی خلاف ورزی کی تحقیقات ضروری ہو سکتی ہیں، لیکن انفرادی یا مخصوص الزامات کی بنیاد پر پوری برادری کو ذمہ دار قرار دینا سیاسی اور سماجی تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔
عرب جماعتوں کی نشستیں حکومت سازی میں اہم
فراہم کردہ انتخابی معلومات کے مطابق عرب جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تعداد انہیں کنیسٹ میں نمایاں سیاسی قوت بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑے سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
عرب جماعتوں کی حمایت یا مخالفت حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم ان کے حتمی فیصلوں اور ممکنہ سیاسی معاہدوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
مجموعی طور پر قطر کی تردید، اسرائیلی تحقیقات اور صدر ہرزوگ کا محتاط بیان اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابات کے بعد سیاسی کشمکش صرف حکومت سازی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں غیر ملکی تعلقات، انتخابی شفافیت اور عرب شہریوں کی سیاسی نمائندگی کے معاملات بھی شامل ہو گئے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور مالی معاونت کے الزامات مسترد کیے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام نے تحقیقات شروع کی ہیں۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک الزامات کی تصدیق یا کسی فریق کی ذمہ داری کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ماخذ: قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا بیان، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا بیان، فراہم کردہ انتخابی معلومات