Latest news

ایران کا دعویٰ: کرمان میں مبینہ بھرتی اور تربیتی نیٹ ورک کے پانچ ارکان گرفتار

Spread the love

محمود احمد, October29,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء

ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک کے جنوبی صوبے کرمان میں مبینہ طور پر ایران مخالف سرگرمیوں کے لیے افراد کو بھرتی اور تربیت دینے والے ایک نیٹ ورک کے پانچ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کا سراغ چار ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد لگایا گیا، جبکہ گرفتار افراد سے متعلق مزید معلومات جمع کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق کرمان کے پبلک پراسیکیوٹر مہدی بخشی نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے نے چار ماہ کی تحقیقات کے بعد مبینہ نیٹ ورک کی نشاندہی کی اور اس کے پانچ ارکان کو گرفتار کیا۔

بخشی نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک ایک ایسے ’’فرقے‘‘ سے وابستہ تھا جسے مبینہ طور پر اسرائیل سے ہدایات موصول ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق اس نیٹ ورک کے یورپی پارلیمنٹ کے بعض ارکان سے بھی روابط تھے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان روابط کی نوعیت، مبینہ ہدایات یا گرفتار افراد کے خلاف پیش کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

چار ماہ کی تحقیقات کے بعد گرفتاریاں

ایرانی پراسیکیوٹر کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے نے مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد کارروائی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

مہدی بخشی نے کہا کہ تفتیش میں نیٹ ورک کی قیادت، افراد کی بھرتی، تربیتی سرگرمیوں اور تنظیمی منصوبہ بندی سے متعلق تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ ان پہلوؤں کی جانچ سے حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مبینہ نیٹ ورک کس طرح کام کرتا تھا اور اس کے ارکان کے درمیان ذمہ داریاں کس انداز میں تقسیم تھیں۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے گرفتار افراد کے نام، ان کی قومیت یا ان کے خلاف عائد کیے گئے مخصوص قانونی الزامات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے یا ان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔

اسرائیل اور یورپی پارلیمنٹ سے روابط کا الزام

پبلک پراسیکیوٹر مہدی بخشی نے دعویٰ کیا کہ مبینہ نیٹ ورک کو اسرائیل سے ہدایات ملتی تھیں اور اس کے یورپی پارلیمنٹ کے بعض ارکان سے بھی رابطے تھے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان ارکان کی شناخت یا مبینہ روابط کے حق میں کوئی تفصیلی ثبوت بیان نہیں کیا گیا۔

اسرائیل سے روابط کا الزام ایران میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات میں شمار ہوتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تہران اور تل ابیب کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ تاہم کسی نیٹ ورک کے بیرونی روابط سے متعلق دعوے کی تصدیق کے لیے دستاویزی شواہد، رابطوں کی نوعیت اور تحقیقات کے نتائج اہم ہوتے ہیں۔

فی الحال یہ الزامات ایرانی حکام کے بیان تک محدود ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق یا کسی نامزد فرد یا ادارے کی جانب سے ردِعمل کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔

بہائی برادری اور ’’فرقے‘‘ کی اصطلاح کا پس منظر

فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایرانی حکام بعض اوقات ’’فرقے‘‘ کی اصطلاح بہائی عقیدے کے پیروکاروں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان پر اسرائیل سے تعلقات کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ایران بہائی مذہب کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، جبکہ بہائی برادری کو کئی دہائیوں سے ملک میں امتیازی سلوک اور مختلف پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

تاہم پراسیکیوٹر کے بیان میں مبینہ نیٹ ورک سے متعلق ’’فرقے‘‘ کی شناخت واضح طور پر نہیں بتائی گئی۔ اس لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ گرفتار افراد کا تعلق بہائی مذہب سے تھا یا تمام زیرِ تفتیش افراد کسی مخصوص مذہبی برادری سے وابستہ تھے۔

کسی مذہبی برادری کی شناخت اور کسی فرد کے خلاف مخصوص الزامات کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ کسی شخص کی مذہبی وابستگی بذاتِ خود کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی۔

تحقیقات جاری، مزید تفصیلات کا انتظار

ایرانی حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مبینہ نیٹ ورک کی قیادت، بھرتی، تربیت اور تنظیمی منصوبہ بندی تک پھیلا ہوا ہے۔ آئندہ کارروائی میں ان امور سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، تاہم تفتیش کی تکمیل یا ممکنہ عدالتی کارروائی کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

اس وقت دستیاب معلومات کا بنیادی حصہ ایرانی پراسیکیوٹر کے دعووں پر مشتمل ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی قانونی حیثیت، مبینہ غیر ملکی روابط اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا حتمی تعین مزید شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پانچ افراد کی گرفتاری اور مبینہ نیٹ ورک کے اسرائیل اور یورپی پارلیمنٹ سے روابط سے متعلق تفصیلات ایرانی حکام سے منسوب ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں ان الزامات کی آزادانہ تصدیق یا گرفتار افراد کے مؤقف کی تفصیل موجود نہیں، جبکہ مبینہ فرقے کی شناخت بھی واضح نہیں کی گئی۔

ماخذ: تسنیم نیوز ایجنسی، کرمان کے پبلک پراسیکیوٹر مہدی بخشی کا بیان