Latest news

محمود عباس کو امید، اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے

Spread the love

محمود احمد, October29,2026

نیکوسیا (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اکتوبر 2026ء

فلسطینی صدر محمود عباس نے امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینی قیادت کئی برسوں سے اسرائیل کے ساتھ پُرامن تعلقات کے قیام کے لیے کوششیں کرتی آ رہی ہے اور دونوں فریقوں کو سلامتی، استحکام اور امن کے ساتھ رہنے کا موقع ملنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمود عباس نے جمعرات کو قبرص کے دارالحکومت نیکوسیا میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس سے ملاقات کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت مسلسل اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتی رہی ہے تاکہ تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔

محمود عباس نے کہا، ’’ہم کئی برسوں سے اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے آ رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ امن قائم کیا جا سکے اور اسرائیل اور فلسطین سلامتی، استحکام اور امن کے ساتھ رہ سکیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت قائم ہوتے ہی دونوں فریق دوبارہ بات چیت اور مذاکرات کا آغاز کر سکیں گے۔

نئی اسرائیلی حکومت سے سفارتی پیش رفت کی امید

فلسطینی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ اتحادوں پر توجہ مرکوز ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد کسی ایک سیاسی بلاک کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی صورت میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت اہم ہو سکتی ہے۔

محمود عباس کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی امید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فلسطینی قیادت نئی اسرائیلی حکومت کے قیام کو سفارتی رابطوں کے لیے ایک ممکنہ موقع سمجھتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ نئی اسرائیلی حکومت کی پالیسی فلسطینی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کیا ہوگی۔

امن مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کی سیاسی آمادگی، باہمی اعتماد اور بنیادی اختلافات پر بات چیت ضروری ہوگی۔ محض نئی حکومت کا قیام مذاکرات کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں، لیکن اس سے سفارتی رابطوں کے لیے نئی راہیں کھلنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

قبرص کے صدر سے ملاقات

نیکوسیا میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کے ساتھ ملاقات کے دوران محمود عباس نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے بیان میں سلامتی، استحکام اور امن کو دونوں فریقوں کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

قبرص یورپی خطے کا ایک اہم ملک ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کے معاملات اور علاقائی سفارت کاری پر بھی تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس ملاقات کے دوران کسی نئے معاہدے، مشترکہ اعلامیے یا مذاکرات کی بحالی کے لیے کسی مخصوص عملی منصوبے کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

امن عمل کے لیے آگے کا راستہ

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف ادوار میں سفارتی مذاکرات کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی سیاسی اختلافات، سلامتی کے خدشات اور دیگر متنازع معاملات امن عمل کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔

محمود عباس نے اپنے بیان میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی امید تو ظاہر کی، لیکن کسی ممکنہ مذاکراتی تاریخ، ایجنڈے یا ثالثی کے طریقۂ کار کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے موجودہ بیان کو امن مذاکرات کی باقاعدہ بحالی کے بجائے فلسطینی قیادت کی جانب سے سفارتی عمل آگے بڑھانے کی خواہش کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آئندہ پیش رفت کا انحصار نئی اسرائیلی حکومت کے مؤقف، فلسطینی قیادت کے ساتھ رابطوں اور دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے عملی اقدامات پر ہوگا۔ اگر سیاسی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا ہوتا ہے تو امن عمل دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: محمود عباس نے اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کی ہے، تاہم اس بیان میں مذاکرات شروع کرنے کی کوئی حتمی تاریخ یا باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ امن عمل کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کی آمادگی اور آئندہ سفارتی پیش رفت اہم ہوگی۔

ماخذ: فلسطینی صدر محمود عباس کا بیان، قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس سے ملاقات، اے ایف پی