معرکۂ حق کے اثرات عالمی مباحث کا حصہ، سربیا کے صدر کے بیان نے بھارتی دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے

Spread the love

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

معرکۂ حق کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور عسکری نتائج پر بین الاقوامی سطح پر بحث کا سلسلہ اب بھی عروج پر ہے، جبکہ اسی دوران سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے حالیہ تہلکہ خیز بیان نے بھارتی دفاعی دعوؤں اور نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کی قلعی کھولتے ہوئے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سربین صدر کا انٹرویو اور زمینی شواہد کا تذکرہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک حالیہ اہم انٹرویو میں جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی اور عسکری صورتحال کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں جدید دفاعی نظاموں کی کارکردگی اس وقت عالمی دفاعی اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سربین صدر کا کہنا تھا کہ اس معرکے کے حوالے سے دستیاب معلومات اور ناقابلِ تردید زمینی شواہد بعض ایسے حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں جو بھارتی حکومت کے سرکاری دعوؤں سے بالکل مختلف اور برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی سربین صدر نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے باعث اب جنگی میدان میں ہونے والی سرگرمیوں اور نقصانات کو دنیا سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور شواہد اس بات کی صاف اشارہ کرتے ہیں کہ معرکے کے دوران بھارتی فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کے بعض انتہائی اہم حصے حملوں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئے تھے۔

عالمی رائے عامہ اور معلومات کی اہمیت دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار بین الاقوامی شخصیات اور دیگر ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے یہ تجزیے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید تنازعات میں اب محض پروپیگنڈا کام نہیں آتا، بلکہ شواہد اور تکنیکی ڈیٹا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کسی بھی عسکری واقعے کے بارے میں عالمی رائے عامہ اب صرف بھارتی میڈیا اور ان کے سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کے ماہرین آزاد اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

خطے کا عسکری توازن اور پائیدار امن کا راستہ ماہرین کے مطابق، سربیا کے صدر کے ان ریمارکس نے بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سرکاری مؤقف کے جھوٹے پہلوؤں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے میں عسکری توازن، جدید دفاعی نظاموں کی اصل افادیت اور جنگی حکمت عملیوں پر بھی دنیا بھر میں ایک نئی تزویراتی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں حقائق پر مبنی معلومات، ذمہ دارانہ بیانات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت بن سکتا ہے۔