یمن جنگ میں سنگین موڑ: حوثیوں کا جنوبی سعودی عرب کے اہم ’شرورہ فوجی اڈے‘ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے حملے کا دعویٰ

منصور احمد,September 13,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

یمن کے مسلح حوثی گروپ نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی خطے میں واقع تزویراتی ‘شرورہ فوجی اڈے’ پر متعدد بیلسٹک میزائلوں اور عسکری ڈرونز کی مدد سے ایک بڑا اور تباہ کن حملہ کرنے کا باضابطہ دعویٰ کیا ہے۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے 13 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے جاری کردہ ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ اس وسیع عسکری کارروائی کا بنیادی ہدف سعودی ملٹری بیس کے اندر قائم اسلحہ ڈپو اور حساس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز تھے۔

یحییٰ سریع کے مطابق، اس حملے کے دوران جدید ترین بیلسٹک میزائل اور مہلک ڈرون بیک وقت استعمال کیے گئے، اور حوثی فورسز کی سیکیورٹی مانیٹرنگ کے مطابق تمام داغے گئے میزائل اور ڈرونز کامیابی کے ساتھ اپنے مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

حوثی عسکری ترجمان نے واضح کیا کہ یہ خونریز حملہ یمن کے مختلف اضلاع پر سعودی عرب کی مسلسل فضائی و عسکری کارروائیوں کا جواب ہے۔ انہوں نے ریاض حکومت کو کڑے الفاظ میں تنبیہ کی کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف عسکری اقدامات اور زمینی کارروائیاں فوری نہ روکیں تو ان کی فورسز سعودی سرزمین کے گہرائی میں موجود تنصیبات پر اس سے بھی زیادہ بڑے اور تباہ کن حملے کریں گی۔

سعودی عرب کی حکومت یا اتحادی عسکری ترجمان کی جانب سے شرورہ ملٹری بیس پر حوثیوں کے اس حملے کے دعوے پر فی الوقت کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے حساس موقع پر سامنے آئی ہے جب یمن کی ساحلی پٹی اور جنوبی اضلاع میں حوثی اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان معرکہ آرائی میں ہولناک شدت آ چکی ہے۔ حالیہ ایام میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر تزویراتی و تیل تنصیبات پر مسلسل کارروائیوں کے دعووں نے خلیجی خطے کی مجموعی سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

یمن میں حوثیوں کا سب سے بڑا عسکری و بحری کنٹرول: بحیرۂ احمر کی تقریباً پوری ساحلی پٹی پر قبضے کا دعویٰ

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں شدید اور خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً تمام تر مغربی ساحلی خطے اور اس سے ملحقہ اہم جزائر پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرنے کا باضابطہ دعویٰ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے فرانس پریس (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر قائم حکومت کے تمام آخری مضبوط عسکری مراکز اب حوثیوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یمنی فوجی اہلکار نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مغربی ساحل کے جس خطے پر بھی اب تک حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی عملداری تھی، وہ اب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر میں ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی حساس اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریبی سمندر میں واقع مزید دو اہم جزائر پر بھی اپنا عسکری قبضہ جما لیا ہے۔

یہ تشویشناک عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے 11 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ حوثی عسکریت پسندوں نے باب المندب کے عین وسط میں واقع تاریخی پیریم (میون) جزیرے پر کامل تصرف حاصل کر لیا ہے۔

اس تاریخ ساز پیش قدمی سے قبل حوثی عسکری ڈویژنز نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ اور ساحلی شہر موچا (المخا) پر مکمل قبضہ کیا تھا اور وہاں سے جنوب کی سمت برق رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم علاقے دھباب (ذباب) پر قبضہ جمایا تھا۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی دنیا کی سب سے مصروف اور حساس ترین سمندری شاہراہ ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔ اس شاہراہ کے بالکل وسط میں واقع پیریم (میون) جزیرہ پورے خطے کا عسکری توازن برقرار رکھنے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

دفاعی و بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی فورسز اس طویل ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے گرد و پیش میں اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے اور دفاعی مورچے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی بحری جہاز رانی مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پر دباؤ اور بحری تحفظ کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔

برکس ممالک قومی کرنسیوں میں تجارت کو وسعت دیں اور آزاد مالیاتی نظام قائم کریں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بڑا مطالبہ

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے آزاد و موثر بین الاقوامی مالیاتی و ادائیگیاں کا نظام ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔ برکس بزنس فورم کا اہم اور کثیر الجہتی اجلاس 11 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ مرکزی برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا۔

برکس بزنس فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو مستحکم کرنا دورِ حاضر کا اہم ترین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے باہمی ادائیگیوں کے ایسے جدید مالیاتی اور بینکنگ کے ذرائع تشکیل دینا ناگزیر ہیں جو رکن ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر مضبوط بنا سکیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام محدود تعداد میں طاقتور کرنسیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی دباؤ، تحکم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں شدید غیر محفوظ اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو پائیدار اور حقیقی اقتصادی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بینک تمام رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

انہوں نے بینکنگ نظام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز کے قیام، مقامی اور قومی کرنسیوں میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مناسب اور قابلِ اعتماد ضمانتی نظام فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام برکس ممالک باہمی تجارت، سرحد پار سے ہونے والی ادائیگیوں کے تحفظ اور عالمی مالیاتی اداروں میں دور رس اصلاحات کے لیے مربوط تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، کم لاگت، شفاف اور محفوظ بنانے کی ضرورت پر کامل اتفاق کیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا سعودی عرب کی دفاعی خود مختاری کی کامل حمایت کا اعادہ؛ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری رہائی اور سیاسی تصفیے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن اور خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سلامتی کونسل کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی گروپ کی جانب سے شہری آبادی اور معاشی اہداف پر کیے گئے فضائی و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال پر دی گئی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور اجلاس میں مملکتِ سعودی عرب اور یمن کے معزز مستقل نمائندگان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور معاشی تنصیبات پر حوثیوں کے یہ غیر قانونی اقدامات سعودی عرب کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے یمن کے تنازع کو پرامن اور پائیدار سفارتی راستے سے حل کرنے کی تمام تر جاری کوششوں کو شدید ترین دھچکا پہنچ رہا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیراعظم پاکستان کے جامع موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس نوعیت کے تمام بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے برادر ملک سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی اور پائیدار خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے علاقے، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی بیرونی عسکری خطرے کے مقابلے میں اپنے تمام قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کے جائز اور قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف محاذوں پر جاری عسکری کارروائیوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے پیہم حملے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر بمباری اور یمن کے اندر بگڑتا ہوا انسانی بحران عالمی برادری کے لیے گہرے تحفظات کا باعث ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان پیش رفت کے پورے خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو فوراً متحرک کرنا ہوگا تاکہ 2022ء سے برقرار قائم شدہ نسبتاً پرسکون صورتحال کو دوبارہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یمن میں سنگین انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی امدادی کارکنوں اور سفارتی اہلکاروں کو حوثیوں کی جانب سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھنے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے یکجا ہو کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے متحد رہنے کا مطالبہ کیا۔

ایران کا سرکاری بینک سپہ جرمنی میں دیوالیہ: فرینکفرٹ شاخ مالیاتی واجبات کی ادائیگی میں ناکام

محمود احمد, September 10,2026

برلن (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

جرمنی کے بااختیار وفاقی مالیاتی نگران ادارے بافن نے ایران کے سرکردہ سرکاری بینک “بینک سپہ” کی جرمنی کے تجارتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم باضابطہ شاخ کو اپنے تمام مالیاتی قرضوں اور دیگر تمام انتظامی و تجارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے یکسر قاصر قرار دے دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی یہ جرمن شاخ اب اپنے کھاتے داروں اور تجارتی صارفین کی جمع شدہ کروڑوں یورو کی رقوم واپس کرنے کی عملی و قانونی پوزیشن میں بالکل نہیں رہی ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اس سخت قانونی نوٹس کے بعد جرمنی کی بینکاری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے بینک سپہ کی اہم جرمن شاخ یورو زون کے سب سے اہم اور بنیادی مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں واقع ہے، جو نہ صرف جرمنی کا معاشی حب ہے بلکہ جہاں یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔

ایران کے اس بینک کی جرمن سرگرمیاں اور تجارتی لین دین اس سے قبل بھی جرمن مالیاتی نگران ادارے کی خصوصی توجہ اور کڑی نگرانی کا مرکز رہے ہیں۔ بافن نے اس سے قبل نومبر 2017ء کے دوران بھی فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی اس شاخ کو اگلے حکمِ ثانی تک صارفین یا تجارتی کمپنیوں کو نئے قرضے جاری کرنے سے سخت قانونی حکم کے تحت روک دیا تھا۔

اس وقت بافن کی جانب سے عائد کی جانے والی اس پابندی کی حتمی یا تفصیلی وجوہات میڈیا کے سامنے عام نہیں کی گئی تھیں اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا تھا کہ نگران ادارے کے شدید تحفظات بینک کی طرف سے دیے گئے مجموعی قرضوں کے حجم پر تھے یا صارفین کے قرضوں کی واپسی سے متعلق معاہدوں اور قانونی طریقہ کار پر مرکوز تھے۔

جرمن مالیاتی اتھارٹی کے موجودہ حتمی فیصلے اور بینک کو نااہل قرار دیے جانے سے جرمنی میں ایران کے سرکاری بینک سپہ کی مالیاتی صورتحال، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور صارفین کے کروڑوں روپے کے واجبات کی بحفاظت ادائیگی کی صلاحیت پر انتہائی سنجیدہ عالمی اور قانونی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

یمن میں فضائی حملوں کی نئی لہر: حوثیوں کا سعودی عرب کے 40 بمبار حملوں کا دعویٰ، باب المندب میں شدید کشیدگی

محمود احمد, September 10,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف تزویراتی (اسٹریٹجک) اور ساحلی علاقوں میں تقریباً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب حملوں اور زمینی جھڑپوں میں یکبارگی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حوثی انتظامیہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے سبأ کے مطابق سعودی طیاروں نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے اہم صوبوں میں قائم عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 40 فضائی حملے کیے، تاہم ان شدید حملوں سے متعلق حوثیوں کے اس دعوے کی کسی بھی غیر جانبدار یا آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق یہ خطرناک پیش رفت سعودی عرب کے سرحدی و جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حالیہ تباہ کن میزائل اور ڈرون حملوں کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم قائم ملٹری اتحاد کے باضابطہ بیانات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے گنجان آباد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد جدید بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون داغے تھے۔

یمنی دفاعی رپورٹس کے مطابق یمن میں دوبارہ سے ابھرنے والی اس بدترین عسکری کشیدگی نے سال 2022ء کے دوران فریقین کے مابین قائم ہونے والے نازک اور تاریخی معاہدے کو انتہائی شدید دباؤ اور داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چند انتہائی اہم صوبوں اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی لڑائی بار دیگر شدت اختیار کر چکی ہے۔

دریں اثنا، بحیرہ احمر کی عالمی اہمیت کی حامل باب المندب کی آبنائے کے اطراف بھی سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی علاقوں اور چوکیوں پر اپنی حتمی پوزیشنز مضبوط کرتے ہوئے اس عالمی اہمیت کی حامل تجارتی بحری گزرگاہ کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو باہم جوڑنے والا دنیا کا وہ اہم ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی تجارت اور خام تیل و توانائی کا ایک بڑا اور اہم حصہ دوسرے براعظموں کو منتقل ہوتا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر آئس لینڈ سمیت گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی پرچم میں لپٹا دکھانے کا معاملہ؛ ریکیاوک انتظامیہ نے پوسٹ کو مکمل طور پر نامناسب قرار دے دیا

محمود احمد, September 08,2026

کوپن ہیگن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یورپی ملک آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور اشتعال انگیز نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد ریکیاوک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں آئس لینڈ سمیت خطے کے کئی آزاد اور خود مختار ممالک کو امریکی پرچم کے نیچے دکھایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بغیر کسی تحریری وضاحت کے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین کے تمام تر جغرافیائی علاقوں کو امریکی پرچم کے اندر ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا، جبکہ اس پورے خطے کو مجموعی طور پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ” کا لیبل دیا گیا تھا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گُنّارسڈوتیر نے نو تعینات شدہ امریکی سفیر بلی لانگ کو ہنگامی بنیادوں پر وزارتِ خارجہ طلب کیا۔ واضح رہے کہ سفیر بلی لانگ نے گزشتہ ماہ ہی آئس لینڈ میں بحیثیت امریکی سفیر اپنی باضابطہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے مقامی میڈیا اور نشریاتی اداروں کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ آئس لینڈ جیسے خود مختار ملک کو امریکہ کے نقشے اور پرچم میں دکھانا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ پوسٹ سفارتی آداب کے منافی اور “مکمل طور پر نامناسب” تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ، کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں قائم امریکی سفارت خانوں، نیز نوک میں واقع امریکی قونصل خانے نے آئس لینڈ کے اس احتجاج اور طلبی پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی یہ تنازع سے بھرپور تصویر ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے حساس معاشی و تزویراتی خطے سے متعلق امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے خدشات پر پہلے ہی یورپی و سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا عالمی قوانین، آزادانہ نگرانی اور اے آئی کی سخت ریگولیشن کا فوری مطالبات کے ساتھ زور

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔

وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تہران میں ہنگامی پناہ گاہوں اور میٹرو اسٹیشنز کی نشاندہی کے لیے سائن بورڈز نصب کرنے کا بڑا فیصلہ

محمود احمد, September 08,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

تہران سٹی کونسل کے سربراہ مہدی چمران نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حساس علاقوں اور بالخصوص معینہ میٹرو اسٹیشنز میں قائم ہنگامی پناہ گاہوں کی واضح نشاندہی کے لیے باقاعدہ سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔

مہدی چمران نے سٹی کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کونسل کی حالیہ منظوریوں کی روشنی میں ان تمام تر مقامات پر نمایاں بورڈز لگانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں عوام کی حفاظت کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر مختص کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو بلا تاخیر معلوم ہو سکے کہ قریب ترین محفوظ ترین مقامات کہاں واقع ہیں۔

سٹی کونسل کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پناہ گاہوں کی صلاحیت رکھنے والے تمام میٹرو اسٹیشنز کی فہرست اور تفصیلات سے بھی عوام کو جامع انداز میں آگاہ کیا جائے گا اور وہاں معلوماتی سائن بورڈز اور رہنمائی کے واضح انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔

ایرانی دارالحکومت کی انتظامیہ کا یہ اہم اور تحفظاتی اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماضی کی جنگوں اور پرتشدد کشیدگی کے دوران تہران کے رہائشیوں نے شہر میں بم پناہ گاہوں کی شدید کمی اور موجودہ محفوظ مقامات تک رسائی کے لیے گائیڈ لائنز یا سائن بورڈز کے نہ ہونے پر گہرے تحفظات اور شکایات کا اظہار کیا تھا۔

مہدی چمران نے اس امر پر زور دیا کہ شہریوں کو ممکنہ خطرات کے دوران اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا فضائی حملوں کی صورت میں وہ کم سے کم وقت میں ان محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچ سکیں۔ تہران انتظامیہ کے اس قدم سے دارالحکومت کے باشندوں کے تحفظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری ردِعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا قومی امکان

منصور احمد,September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی تجارتی اشیا کی خرید و فروخت اور درامد پر سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کرنے جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ آج پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ اقدامات کی تفصیلی خاکہ پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان ممکنہ پابندیوں میں بالخصوص غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی زرعی مصنوعات کی برطانیہ میں تجارت پر مکمل بندش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ ہفتے اپنے اہم بیان میں کہا تھا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور تجارتی پالیسی میں ایک جامع تبدیلی لانے کا اعلان کرے گی۔ برطانوی حکومت اس سے قبل بھی مقبوضہ بستیوں کی مسلسل توسیع کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے، جبکہ اگست میں برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ایسی آبادکاری دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکومت کے اس موقف کو اس وقت مزید تقویت ملی جب 7 ستمبر کو برطانوی وزیراعظم نے امیرِ قطر سے اہم گفتگو کے دوران بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غصب شدہ زمینوں پر آبادکاری کے منصوبوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے لندن کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کی تجارتی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لاگو کیں تو تل ابیب کی جانب سے فوری اور سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے بھی ممکنہ برطانوی اقدامات کی شدید مخالفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس حساس معاملے پر واشنگٹن کی طرف سے سخت اور واضح ردِعمل سامنے آئے گا۔

برطانیہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ بڑا اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہا ہے جب لندن کی حکومت اسرائیلی آبادکاری کی نئی پالیسی کو خطے میں پائیدار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم پر بستیوں کی توسیع روکنے کے لیے سفارتی و معاشی دباؤ بڑھا رہی ہے۔

یو ایس اوپن ٹینس: ٹاپ سیڈ ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کی جوڑی مینز ڈبلز کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, September 07,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

فن لینڈ کے نامور ٹینس سٹار ہیری ہیلیواارا اور انگلینڈ کے ہنری پیٹن پر مشتمل ٹاپ سیڈ جوڑی نے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے مینز ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل (ٹاپ 16 مرحلے) میں باآسانی جگہ بنا لی ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں جاری عالمی ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ کے اہم میچ میں فن لینڈ اور انگلینڈ کی جوڑی نے شاندار فنکارانہ کھیل اور اعلیٰ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹلی کے میتھیو آرنلڈی اور جرمنی کے جان لینارڈ سٹرف کی جوڑی کو سیدھے سیٹوں میں 5-7 اور 2-6 سے مات دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

ٹورنامنٹ کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق ہیری ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کو اس میگا ایونٹ کے مینز ڈبلز زمرے میں پہلی سیڈ حاصل ہے۔ رواں سال دونوں کھلاڑی انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور حال ہی میں ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اب مسلسل دوسری گرینڈ سلام ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

نیویارک کے ہارڈ کورٹس پر کھیلے جا رہے اس عالمی میگا ایونٹ میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہیلیواارا اور پیٹن کی پیش قدمی سے ایونٹ میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

سیاست دانوں کو تعلیمی اداروں کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے، کاکروچ جنتا پارٹی کی “سکول ٹھیک کرو” مہم کا آغاز

محمود احمد, August 16,2026

ممبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ریاست مہاراشٹر کے ضلع ہنگولی میں واقع اپنے آبائی گاؤں سنوک پیچری کے ایک سرکاری سکول سے باقاعدہ طور پر “سکول ٹھیک کرو” مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ بانی صدر نے طلباء سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے اور عوامی سطح پر یہ شعور بیدار ہو چکا ہے کہ اب سیاست دانوں سے تعلیم کے بنیادی حق پر سوالات پوچھے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں ماضی و حال کی حکومتوں نے سرکاری سکولوں کی بدحالی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی، جس کے باعث اب عوامی دباؤ کے ذریعے انہیں کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی ترجیحات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بینروں، اشتہار بازی اور دیگر مہمات پر خرچ ہونے والے خطیر فنڈز اگر سرکاری سکولوں اور وہاں زیرِ تعلیم بچوں کی سہولیات پر خرچ کیے جاتے تو اس سے معاشرے کا مستقبل بہتر ہوتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سیاست دان اپنے لیے نئی اور تجدید شدہ سرکاری عمارتیں تعمیر کر سکتے ہیں تو وہ اپنے ہی دیہات اور علاقوں میں معیاری تعلیمی ادارے کیوں قائم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کو بھی یکساں اور معیاری تعلیم کا پورا حق حاصل ہے اور پارٹی جلد ہی سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کے لیے بھی ایسی ہی آگاہی مہم شروع کرے گی۔

کابل میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولا جائے اور سرمایہ کاری کی جائے، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا مطالبہ

محمود احمد, August 16,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

افغانستان کی طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے اور افغانستان کی معیشت و بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے۔ امریکی جریدے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کے باب کو ختم سمجھتی ہے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت روابط کے ایک نئے باب کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ طالبان انتظامیہ امریکہ میں بھی اپنا سفارتی مشن دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا کہ افغان انتظامیہ کو غیر ملکی سرمائے کی اشد ضرورت ہے، اس لیے امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک افغانستان کے معدنی ذخائر اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آزادانہ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا خواتین کی تعلیم اور حقوق پر پابندیاں عالمی سطح پر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے تحریری ردِعمل میں واضح کیا ہے کہ طالبان اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں میں ناکام رہے ہیں اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے لیے لانچ پیڈ بننے سے نہیں روک سکے، لہٰذا فی الحال تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان نہیں اور امریکہ صرف اپنے قومی مفاد کے تحت ہی طالبان سے رابطہ قائم رکھتا ہے۔

میگا ایونٹ کی تاریخ میں ناروے پہلی بار کوارٹر فائنل میں داخل؛ میچ میں ایرلنگ ہالینڈ کے دو شاندار گول، ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹنے پر نیمار جونیئر آبدیدہ

محمود احمد, JULY 06,2026

نیو جرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حیران کن پری کوارٹر فائنل میچ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جس کے فوراً بعد برازیل کے مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بین الاقوامی فٹبال سے ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی معرکے میں ناروے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

میچ میں ناروے کی فتح کے ہیرو مقتدر اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ رہے، جنہوں نے کھیل کے آخری لمحات میں برازیلی دفاع کو تہس نہس کرتے ہوئے دو شاندار گول داغے۔ ایرلنگ ہالینڈ نے پہلا گول 79 ویں منٹ میں اسکور کیا، جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے بالکل اختتام یعنی 90 ویں منٹ میں کر کے اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔ دوسری جانب، برازیل کی طرف سے واحد اور تسلی بخش گول میچ کے آخری لمحات میں نیمار جونیئر نے پنالٹی کک پر اسکور کیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے نہ بچا سکے۔

اس غیر متوقع شکست کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا تزویراتی خواب چکنا چور ہونے پر نیمار جونیئر میدان میں ہی رو پڑے اور بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 34 سالہ نیمار نے برازیلین صحافی سے انتہائی جذباتی گفتگو میں کہا کہ “میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میرا بین الاقوامی کیریئر سال 2010ء میں اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوا تھا اور آج میں نے یہیں اس کا اختتام کیا ہے؛ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے”۔ واضح رہے کہ نیمار نے برازیل کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 10 اگست 2010ء کو نیو جرسی میں ہی امریکہ کے خلاف کھیلا تھا۔ نیمار اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ 80 بین الاقوامی گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی کے طور پر کر رہے ہیں، جو فٹبال کے عظیم لیجنڈ پیلے سے 3 گول زیادہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور جنگ بندی پر زور، عسکری ذرائع دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا مطالبہ

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔

روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، امریکہ کی جنوبی ایران پر شدید فضائی بمباری، پاسدارانِ انقلاب کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک جوابی میزائل اور ڈرون حملہ، دنیا لرز اٹھی

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب باقاعدہ ایک ہولناک عسکری تصادم اور کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں امریکی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست اور جارحانہ احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے متعدد اسٹریٹجک اہداف پر شدید فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی تنصیبات پر بڑے جوابی حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے، تہران اور واشنگٹن کے جنگی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران میں قائم متعدد اہم ترین فوجی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، ایرانی حکام نے امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایران کے انتہائی اہم ساحلی شہر بندر عباس، جسک اور دیگر جنوبی علاقوں کے قریب قائم فوجی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں خطے کے بعض بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، دوسری جانب اس امریکی حملے کے فوراً بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طاقت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات کے مطابق ان کے جوابی حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے سب سے بڑے مرکز ”ففتھ فلیٹ“، اردن کے اسٹریٹجک ”الازرق ایئر بیس“ اور کویت کے اندر قائم اہم ”علی السالم“ فوجی اڈے کو براہِ راست ہدف بنا کر تباہی مچائی گئی ہے، اگرچہ امریکی دفاعی حکام نے اب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں اور اپنے اڈوں پر ہونے والے نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صرف اتنا اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر ان کا فضائی آپریشن اب مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال واشنگٹن کی جانب سے مزید کسی نئی کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز نے امریکہ کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی فوج کی جانب سے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا مزید حملے کیے گئے، تو ایران کا اگلا اور حتمی جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک، سخت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہوگا، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین اس براہِ راست اور خونی تصادم نے دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

افغان طالبان قیادت اور مقامی عسکری رہنماؤں میں شدید اختلافات، امیرِ اعلیٰ کا نیا اور سخت حکم نامہ جاری

منصور احمد june 03,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

بین الاقوامی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے دور دراز اور تزویراتی طور پر اہم صوبہ بدخشاں میں امارتِ اسلامیہ کی مرکزی قیادت اور بعض بااثر مقامی عسکری رہنماؤں (کمانڈروں) کے درمیان داخلی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس ابھرتی ہوئی سنگین صورتحال پر مکمل انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے اور داخلی انتشار کو روکنے کے لیے طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا اور ہنگامی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

معدنی وسائل کی تقسیم اور عوامی احتجاج کے بعد وفد کا قیام ذرائع کے مطابق، صوبہ بدخشاں میں قیمتی معدنی وسائل کی مالیت، مقامی انتظامی امور پر گرفت اور حالیہ عوامی احتجاج کے تناظر میں مرکزی حکومت اور مقامی رہنماؤں کے مابین شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس صورتحال کے بعد، ناراض مقامی عسکری کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے مالی و عسکری اثاثوں کی سخت جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے لیے وائٹ ہاؤس نما مرکزی دارالحکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی وفد مقرر کر دیا گیا ہے جو معاملے کی بیخ کنی کرے گا۔

مرکزی فیصلوں کی پابندی اور حکم عدولی پر سخت ترین کارروائی کا انتباہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امیرِ اعلیٰ کے نئے حکم نامے میں تمام مقامی کمانڈروں اور انتظامی مقتدرہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کابل کی مرکزی قیادت کے تمام فیصلوں پر بلا چوں چراں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی حکم عدولی، خود مختار فیصلے یا سرکشی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی اور عسکری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، بدخشاں میں امن و امان کی نازک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے قندھار اور کابل سے اضافی سکیورٹی اہلکار اور عسکری دستے بھی روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی عہدیداروں کی حراست اور غیریقینی صورتحال کچھ غیر ملکی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بدخشاں کے بعض اہم مقامی طالبان عہدیداروں اور عسکری رہنماؤں کو مرکزی احکامات کی خلاف ورزی پر باقاعدہ حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم زمینی حالات اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل اور قطعی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

انتظامی ڈھانچے کے اختلافات پر ماہرین کی آراء سیاسی، علاقائی اور افغان امور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، بدخشاں کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان حکومت کے اندرونی انتظامی، سیاسی اور مقامی سطح پر پائے جانے والے گہرے اختلافات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کے اس معاملے پر باقاعدہ سرکاری موقف اور آئندہ کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ اہم ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ صوبے میں گزشتہ کئی روز سے عوامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور مقامی آبادی کی جانب سے عسکری ردعمل کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔