میگا ایونٹ کی تاریخ میں ناروے پہلی بار کوارٹر فائنل میں داخل؛ میچ میں ایرلنگ ہالینڈ کے دو شاندار گول، ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹنے پر نیمار جونیئر آبدیدہ

محمود احمد, JULY 06,2026

نیو جرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حیران کن پری کوارٹر فائنل میچ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جس کے فوراً بعد برازیل کے مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بین الاقوامی فٹبال سے ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی معرکے میں ناروے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

میچ میں ناروے کی فتح کے ہیرو مقتدر اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ رہے، جنہوں نے کھیل کے آخری لمحات میں برازیلی دفاع کو تہس نہس کرتے ہوئے دو شاندار گول داغے۔ ایرلنگ ہالینڈ نے پہلا گول 79 ویں منٹ میں اسکور کیا، جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے بالکل اختتام یعنی 90 ویں منٹ میں کر کے اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔ دوسری جانب، برازیل کی طرف سے واحد اور تسلی بخش گول میچ کے آخری لمحات میں نیمار جونیئر نے پنالٹی کک پر اسکور کیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے نہ بچا سکے۔

اس غیر متوقع شکست کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا تزویراتی خواب چکنا چور ہونے پر نیمار جونیئر میدان میں ہی رو پڑے اور بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 34 سالہ نیمار نے برازیلین صحافی سے انتہائی جذباتی گفتگو میں کہا کہ “میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میرا بین الاقوامی کیریئر سال 2010ء میں اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوا تھا اور آج میں نے یہیں اس کا اختتام کیا ہے؛ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے”۔ واضح رہے کہ نیمار نے برازیل کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 10 اگست 2010ء کو نیو جرسی میں ہی امریکہ کے خلاف کھیلا تھا۔ نیمار اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ 80 بین الاقوامی گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی کے طور پر کر رہے ہیں، جو فٹبال کے عظیم لیجنڈ پیلے سے 3 گول زیادہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور جنگ بندی پر زور، عسکری ذرائع دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا مطالبہ

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔

روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، امریکہ کی جنوبی ایران پر شدید فضائی بمباری، پاسدارانِ انقلاب کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہولناک جوابی میزائل اور ڈرون حملہ، دنیا لرز اٹھی

محمود احمد june 10,2026

تہران(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اب باقاعدہ ایک ہولناک عسکری تصادم اور کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں امریکی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست اور جارحانہ احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے متعدد اسٹریٹجک اہداف پر شدید فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت ردِعمل دیتے ہوئے خطے میں موجود کئی امریکی فوجی تنصیبات پر بڑے جوابی حملوں کا دعویٰ کر دیا ہے، تہران اور واشنگٹن کے جنگی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی فضائیہ نے جنوبی ایران میں قائم متعدد اہم ترین فوجی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، ایرانی حکام نے امریکی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایران کے انتہائی اہم ساحلی شہر بندر عباس، جسک اور دیگر جنوبی علاقوں کے قریب قائم فوجی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ حملوں کے نتیجے میں خطے کے بعض بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، دوسری جانب اس امریکی حملے کے فوراً بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی طاقت کو نشانہ بناتے ہوئے یہ بڑا اور سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو اپنے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات کے مطابق ان کے جوابی حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے سب سے بڑے مرکز ”ففتھ فلیٹ“، اردن کے اسٹریٹجک ”الازرق ایئر بیس“ اور کویت کے اندر قائم اہم ”علی السالم“ فوجی اڈے کو براہِ راست ہدف بنا کر تباہی مچائی گئی ہے، اگرچہ امریکی دفاعی حکام نے اب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں اور اپنے اڈوں پر ہونے والے نقصان کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صرف اتنا اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر ان کا فضائی آپریشن اب مکمل ہو چکا ہے اور فی الحال واشنگٹن کی جانب سے مزید کسی نئی کارروائی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کے برعکس ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز نے امریکہ کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکی فوج کی جانب سے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا مزید حملے کیے گئے، تو ایران کا اگلا اور حتمی جواب پہلے سے کہیں زیادہ ہولناک، سخت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والا ہوگا، دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین اس براہِ راست اور خونی تصادم نے دنیا بھر کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

افغان طالبان قیادت اور مقامی عسکری رہنماؤں میں شدید اختلافات، امیرِ اعلیٰ کا نیا اور سخت حکم نامہ جاری

منصور احمد june 03,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 03 جون 2026ء

بین الاقوامی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے دور دراز اور تزویراتی طور پر اہم صوبہ بدخشاں میں امارتِ اسلامیہ کی مرکزی قیادت اور بعض بااثر مقامی عسکری رہنماؤں (کمانڈروں) کے درمیان داخلی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس ابھرتی ہوئی سنگین صورتحال پر مکمل انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے اور داخلی انتشار کو روکنے کے لیے طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا اور ہنگامی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

معدنی وسائل کی تقسیم اور عوامی احتجاج کے بعد وفد کا قیام ذرائع کے مطابق، صوبہ بدخشاں میں قیمتی معدنی وسائل کی مالیت، مقامی انتظامی امور پر گرفت اور حالیہ عوامی احتجاج کے تناظر میں مرکزی حکومت اور مقامی رہنماؤں کے مابین شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس صورتحال کے بعد، ناراض مقامی عسکری کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے مالی و عسکری اثاثوں کی سخت جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے لیے وائٹ ہاؤس نما مرکزی دارالحکومت کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی وفد مقرر کر دیا گیا ہے جو معاملے کی بیخ کنی کرے گا۔

مرکزی فیصلوں کی پابندی اور حکم عدولی پر سخت ترین کارروائی کا انتباہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امیرِ اعلیٰ کے نئے حکم نامے میں تمام مقامی کمانڈروں اور انتظامی مقتدرہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کابل کی مرکزی قیادت کے تمام فیصلوں پر بلا چوں چراں عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی حکم عدولی، خود مختار فیصلے یا سرکشی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی اور عسکری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، بدخشاں میں امن و امان کی نازک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے قندھار اور کابل سے اضافی سکیورٹی اہلکار اور عسکری دستے بھی روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی عہدیداروں کی حراست اور غیریقینی صورتحال کچھ غیر ملکی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بدخشاں کے بعض اہم مقامی طالبان عہدیداروں اور عسکری رہنماؤں کو مرکزی احکامات کی خلاف ورزی پر باقاعدہ حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم زمینی حالات اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل اور قطعی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

انتظامی ڈھانچے کے اختلافات پر ماہرین کی آراء سیاسی، علاقائی اور افغان امور کے بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، بدخشاں کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال طالبان حکومت کے اندرونی انتظامی، سیاسی اور مقامی سطح پر پائے جانے والے گہرے اختلافات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور علاقائی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کے اس معاملے پر باقاعدہ سرکاری موقف اور آئندہ کے اقدامات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ اہم ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ صوبے میں گزشتہ کئی روز سے عوامی سطح پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج اور مقامی آبادی کی جانب سے عسکری ردعمل کی خبریں بھی مسلسل گردش کر رہی ہیں۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملے، اہم تنصیبات کو نقصان، ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ

منصور احمد june 03,2026

کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

خلیجی ملک کویت سے اس وقت کی سب سے بڑی اور ہولناک فوجی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ کویت کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، ملکی فضائی دفاعی نظام نے رات گئے دشمن کی طرف سے کیے جانے والے خطرناک فضائی ہتھیاروں (میزائلوں) اور بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جنگی طیاروں (ڈرونز) کے حملوں کو کامیابی سے روکتے ہوئے متعدد بیرونی اہداف کو فضا میں ہی مار گرایا اور تباہ کر دیا۔

دھماکوں کی گونج اور فضائی دفاعی نظام کی ہنگامی کارروائی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رات گئے دارالحکومت میں سنے جانے والے انتہائی زوردار اور لرزہ خیز دھماکے دراصل کویتی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی کا نتیجہ تھے، جن کے ذریعے ملک کی حدود میں داخل ہونے والے دشمن کے تباہ کن فضائی ہتھیاروں اور بارود بردار بغیر پائلٹ کے طیاروں کو گرایا گیا۔

بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شدید نقصان اور ہنگامی حالت کا نفاذ دوسری جانب، کویت کی شہری ہوا بازی کی انتظامیہ (سول ایوی ایشن) نے اس سنگین عسکری واقعے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان فضائی حملوں کے فوری بعد کویت کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مکمل طور پر ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے اور امدادی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

ایرانی فضائی ہتھیاروں سے تباہی اور شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات شہری ہوا بازی کی انتظامیہ کے مطابق، پڑوسی ملک ایران کی حدود سے داغے جانے والے ان فضائی ہتھیاروں اور بغیر پائلٹ کے جنگی طیاروں کے براہِ راست حملوں کے باعث کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی متعدد اہم ترین عمارتی و تکنیکی تنصیبات کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہوائی اڈے پر موجود کئی افراد کے زخمی ہونے کی افسوسناک اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

تمام ملکی و غیر ملکی پروازیں معطل، طیاروں کا رخ موڑ دیا گیا اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کے تحفظ کے لیے فوری طور پر سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن کے تحت ہوائی اڈے پر آنے اور وہاں سے جانے والی تمام ملکی و بین الاقوامی پروازیں اگلے سرکاری نوٹس تک مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہوا میں موجود بعض مسافر طیاروں کا رخ متبادل اور محفوظ ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ، شہریوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا حکم کویت کے اعلیٰ انتظامی حکام نے ملک کے تمام شہریوں اور وہاں مقیم تارکینِ وطن کو موجودہ نازک صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس وقت ملک کے تمام سکیورٹی اور عسکری ادارے کسی بھی دوسرے ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں

لبنان میں شفا خانوں پر حملے جاری، خواتین اور لڑکیاں شدید ترین انسانی بحران کا شکار: اقوامِ متحدہ کی ہنگامی رپورٹ

محمود احمد june 03,2026

بیروت / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ذیلی ادارے نے دنیا بھر کو شدید خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک لبنان میں خواتین اور کم عمر لڑکیاں اس وقت ایک ہولناک اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں عارضی جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود وہاں کے مقامی طبی مراکز اور علاج گاہوں پر حملوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

خوف و بے یقینی کا ماحول اور کمزور طبقے شدید مشکلات میں عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پورے لبنان میں اس وقت شدید خوف، معاشی و سیاسی بے یقینی اور عسکری کشیدگی کی سنگین صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث ملک کے عام شہری اور خصوصاً خواتین، نوزائیدہ بچے اور لڑکیاں شدید ترین مشکلات اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہیں۔

مقدس طبی مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کی تباہی رپورٹ میں اس لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ فضائی و زمینی حملوں میں عام شہریوں کی جان بچانے والے طبی مراکز اور خواتین کے لیے قائم کردہ ان محفوظ مقامات کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے، جو براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مالی اور انتظامی تعاون سے چلائے جا رہے تھے۔ جنوبی لبنان کے اضلاع میں خواتین کے لیے زچگی کی طبی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود تھیں اور اب ان شفا خانوں پر ہونے والے تازہ حملوں سے صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں داؤ پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق، زچگی کے مخصوص کمروں اور شفا خانوں کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین اور پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی قیمتی زندگیاں شدید ترین خطرے میں آ گئی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی کے باعث اس وقت ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکی ہیں اور وہ زچگی کے دوران ملنے والی بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تصدیق اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ابتر صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طبی مراکز اور ڈاکٹروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث لبنان کا پورا مقامی نظامِ صحت اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شفا خانے اب انتہائی محدود وسائل اور بجلی و ادویات کی شدید قلت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور عالمی برادری سے اس انسانی المیے پر فوری توجہ دینے اور مداخلت کرنے کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر نہ روکے گئے، تو لبنان میں جاری یہ انسانی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین اور بے قابو ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کے صدر کا تاریخی انتخاب، بنگلہ دیش کے سفارتکار خلیل الرحمان کامیاب

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

عالمی سفارت کاری کے میدان میں جنوبی ایشیا کے لیے بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں (81ویں) سالانہ اجلاس کے صدر کے معرکہ آرا انتخاب میں بنگلہ دیش کے سینیئر اور مایہ ناز سفارتکار خلیل الرحمان حتمی طور پر کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ ستمبر 2026ء سے لے کر ستمبر 2027ء تک قائم رہنے والے اس اہم ترین عالمی اجلاس کے صدر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

جنرل اسمبلی میں ریکارڈ رائے شماری اور سو فیصد حاضری اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے صدر کے منصب کے لیے ہونے والی اس ہنگامی رائے شماری کے دوران دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر ایک سو نوے (190) ووٹ ڈالے گئے۔ اس تاریخی انتخاب کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ دنیا کا کوئی بھی رکن ملک اس اہم ووٹنگ کے عمل سے نہ تو غیر حاضر رہا اور نہ ہی کسی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، بلکہ تمام ممالک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابی نتائج اور دونوں امیدواروں کے ووٹوں کا موازنہ دنیا کے اس سب سے بڑے سفارتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ انتخابی نتائج کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین سخت جوڑ پڑا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

خلیل الرحمان (بنگلہ دیش): 99 ووٹ حاصل کیے
اینڈریاس کاکوریس (قبرص): 91 ووٹ حاصل کیے

    اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق، صدارت کی کرسی حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت کے تحت کم از کم چھیانوے (96) ووٹ درکار تھے، جس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے ننانوے (99) ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین اس انتخاب کو اس لحاظ سے انتہائی سنسنی خیز اور اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت رہا اور ہار جیت کا فیصلہ محض آٹھ (8) ووٹوں کے معمولی فرق سے ہوا۔

    نئے صدر کی آئینی ذمہ داریاں اور عالمی منصب بنگلہ دیشی سفارتکار خلیل الرحمان رواں سال ستمبر 2026ء میں شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اجلاس کی صدارت کا باقاعدہ حلف اٹھا کر چارج سنبھالیں گے اور پورے ایک سال تک اس معتبر عالمی منصب پر فائز رہیں گے۔ ان کی کلیدی ذمہ داریوں میں جنرل اسمبلی کے تمام اہم ترین اجلاسوں کی صدارت کرنا، کائنات کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور بحرانوں کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کے درمیان قریبی سفارتی مشاورت کو فروغ دینا اور نازک عالمی امور پر عالمی برادری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا شامل ہوگا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی عالمی حیثیت واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس وقت کرہ ارض کے تقریباً تمام خودمختار اور آزاد ممالک پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین عالمی فورم ہے۔ یہ وہ تاریخی پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر میں پائیدار امن کے قیام، علاقائی سلامتی کے تحفظ، موسمیاتی و پائیدار ترقی، انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور بین الاقوامی برادری کے درمیان باہمی معاشی و عسکری تعاون سمیت تمام بڑے اور سنگین عالمی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔

    اٹلی میں چار پاکستانی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلا کر قتل کرنے کا ہولناک انکشاف، دو پاکستانی ملزمان گرفتار

    محمود احمد june 02,2026

    روم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

    یورپی ملک اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک دل دہلا دینے والا اور انتہائی سفاکانہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چار پاکستانی کھیت مزدوروں کو مبینہ طور پر ایک منی وین کے اندر بند کر کے زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا ہے۔ اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ واقعے میں ملوث ہونے کے قوی شبے میں دو پاکستانی شہریوں کو ہی گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    پٹرول پمپ پر جلتی ہوئی وین سے لاشوں کی برآمدگی اطالوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ کلابریا کے علاقے امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر پیش آیا، جہاں ایک جلتی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی شہریوں کی بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی کرائم سین تحقیقات کے مطابق، چاروں مقتولین گاڑی کے اندر ہی موجود تھے جب نامعلوم سفاک ملزمان نے مبینہ طور پر گاڑی کے تمام دروازے باہر سے مضبوطی سے بند کر دیے۔

    نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ اور لرزہ خیز مناظر تحقیقاتی اداروں کو پٹرول پمپ پر لگے حفاظتی نگرانی کیمروں (سی سی ٹی وی) کی جو ریکارڈنگ موصول ہوئی ہے، اس کے مطابق دو افراد نے گاڑی کے قریب آ کر مبینہ طور پر کوئی انتہائی تیز رفتار آتش گیر مادہ (پٹرول یا کیمیکل) پھینکا، جس کے نتیجے میں وین میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی پر آگ پھینکنے کے فوری بعد ملزمان بڑی آسانی سے موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ گاڑی کے دروازے باہر سے بند ہونے کے باعث اندر موجود بے بس افراد اپنی جانیں بچانے میں ناکام رہے۔

    فائر بریگیڈ کی آمد اور پولیس کی جانب سے قتل کی تصدیق اطلاعات کے مطابق، پٹرول پمپ انتظامیہ کی اطلاع پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر گاڑی میں لگی آگ پر قابو پایا، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور گاڑی کے اندر موجود چاروں بدقسمت پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے تھے۔ مقامی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس واقعے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ‘سنگین قتل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار ملزمان سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    تارکینِ وطن کے گروہوں میں دیرینہ کشیدگی اور تنازعات مقامی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، اٹلی کا یہ مخصوص علاقہ گزشتہ کچھ عرصے سے غیر قانونی و قانونی تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مقامی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے (کھیتوں) میں مزدوری کرنے، رہائش کے مسائل اور قانونی دستاویزات (ویزہ و پیپرز) سے متعلق دیرینہ تنازعات کے باعث وہاں مقیم مختلف گروہوں کے درمیان شدید اختلافات اور دشمنی موجود تھی۔

    سخت سزا کا یقین اور پاکستانی برادری میں صدمے کی لہر اطالوی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کے تمام اصل محرکات، پسِ پردہ کارفرما عناصر، ممکنہ دیگر مفرور ساتھی ملزمان اور واقعے کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اطالوی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یقین دلایا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔

    دوسری جانب، یورپ کے ملک اٹلی میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے نے وہاں مقیم پوری پاکستانی برادری کو شدید صدمے اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اطالوی حکومت سے اس واقعے کی مکمل، شفاف اور فوری تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان سخت ٹیلیفونک گفتگو، ایران اور لبنان کے معاملات پر شدید اختلافات نمایاں

    کاشف عباسی ,june 02,2026

    واشنگٹن / تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    امریکہ اور اسرائیل کے روایتی گہرے گٹھ جوڑ میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں شدید تلخی اور تکرار سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ جاری سفارتی کوششوں اور لبنان کی موجودہ نازک صورتحال کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر اپنے سخت ترین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ایرانی مذاکرات اور اسرائیل کے غیر متناسب فوجی اقدامات رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے دوٹوک گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ اسرائیلی اقدامات سے خطے میں عسکری کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایران کے ساتھ جاری نازک مذاکراتی عمل کے مکمل طور پر متاثر ہونے اور ختم ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ‘غیر متناسب’ قرار دیا۔

    ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ اور الفاظ کی تلخی عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو واضح طور پر خبردار کیا کہ ان کی موجودہ ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو شدید تنقید، سفارتی تنہائی اور بدنامی کا سامنا ہے۔ بعض باخبر ذرائع کے مطابق، گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف انتہائی سخت اور تند و تیز الفاظ بھی استعمال کیے، تاہم ان دعوؤں کی دونوں ممالک کے آزاد یا سرکاری ذرائع سے اب تک مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

    حالیہ برسوں کی سب سے کشیدہ اور تلخ ترین بات چیت رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے اس ٹیلیفونک گفتگو کو دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ کئی برسوں کی سب سے سخت، تلخ اور کشیدہ ترین بات چیت قرار دیا ہے۔ سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران, لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جنگی صورتحال پر اب واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تزویراتی اختلافات کھل کر دنیا کے سامنے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

    ایران کی تشویش اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ دوسری جانب، ایران نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ یکطرفہ کارروائیاں فوری طور پر نہ روکی گئیں، تو خطے میں بحالیِ امن کے لیے جاری تمام پسِ پردہ سفارتی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور مستقل استحکام کے لیے سب سے پہلے جنگی کشیدگی میں فوری کمی لانا ناگزیر ہے۔

    سیاسی و بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ مثلثی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور دھماکہ خیز بنا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی شدید ترین نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں پر مقناطیسی میدان کے مضبوط شواہد دریافت، فلکیات کی دنیا میں بڑی پیش رفت

    روزینہ اسماعیل.june 02,2026

    لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دور دراز کائنات میں موجود مختلف سیاروں پر مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) کی موجودگی کے اب تک کے سب سے اہم اور ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ سائنسی حلقوں کی جانب سے اسے فلکیات اور خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    جدید دوربینوں کی مدد سے سات بڑے سیاروں کا مطالعہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، فلکیاتی سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی کے خطوں میں نصب دنیا کی جدید ترین دوربینوں کے مشاہدات اور ڈیٹا کی مدد سے نظامِ شمسی سے باہر موجود سات بڑے اور انتہائی گرم گیسوں سے بھرپور سیاروں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس جدید ترین تحقیق کے دوران ان دور دراز سیاروں پر چلنے والی خوفناک حد تک تیز رفتار ہواؤں کے رویے اور رخ کا گہرا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گرد ایک مضبوط مقناطیسی میدان کی موجودگی کے واضح اور ناقابلِ تردید آثار سامنے آئے۔

    مقناطیسی میدان کیا ہے اور اس کی اہمیت؟ خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقناطیسی میدان دراصل ایک غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) حفاظتی قوت یا ڈھال ہوتی ہے، جو کسی بھی سیارے کے اندرونی حصے میں موجود برقی طور پر متحرک مادّوں کی تیز حرکت کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ ہماری زمین سمیت ہمارے پورے نظامِ شمسی کے بیشتر سیاروں میں یہ مقناطیسی میدان پہلے سے موجود ہے، جو ان سیاروں کو سورج کی تباہ کن شعاعوں اور مختلف دیگر خطرناک خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

    مشتری جیسے دیو ہیکل سیارے اور وہاں کا درجہ حرارت حالیہ تحقیق میں جن ساتوں سیاروں کا مطالعہ کیا گیا ہے، وہ حجم اور بناوٹ کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے ‘مشتری’ جیسے یا اس سے بھی کہیں زیادہ بڑے (دیو ہیکل) ہیں۔ یہ تمام سیارے کائنات میں اپنے اپنے میزبان ستاروں (سورج) کے انتہائی قریب ہو کر گردش کرتے ہیں، جس کے باعث ان سیاروں کا ایک حصہ مسلسل شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ مستقل تاریکی اور سردی کا شکار رہتا ہے۔ درجہ حرارت کے اسی شدید ترین فرق کے باعث ان سیاروں پر خوفناک فضائی دباؤ بنتا ہے اور انتہائی تیز رفتار طوفانی ہوائیں چلتی ہیں۔

    پچیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں سائنس دانوں کے مطابق، ان میں سے بعض سیاروں پر چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً پچیس ہزار (25,000) کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے، جو کہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر چلنے والی طوفانی ہواؤں کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ انہی ہواؤں کی غیر معمولی حرکات، دباؤ اور رفتار کے جدید ترین ریاضیاتی تجزیے نے محققین کو ان سیاروں کے گرد مقناطیسی میدان کی موجودگی کے حتمی شواہد فراہم کیے۔

    کائنات میں زندگی کی تلاش کے لیے نئی امید ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان نئے دریافت ہونے والے سیاروں کے مقناطیسی میدان مشتری کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان جتنے مضبوط نہیں ہیں، تاہم ان کی موجودگی اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وسیع کائنات میں سیاروں کی بنیادی ساخت اور ان کے ارتقاء کے عمل میں مقناطیسی میدان ایک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، یہ شاندار دریافت نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ کرے گی اور مستقبل میں کائنات کے دور دراز حصوں میں ایسے نئے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی جہاں زندگی کے وجود کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

    لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

    محمود احمد june 02,2026

    نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 02 جون 2026ء

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی مسلسل بگڑتی ہوئی تزویراتی اور انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے لبنان پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، غیر قانونی زمینی دراندازیوں اور لبنانی علاقوں پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی منشور (چارٹر) کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ اور شہریوں کی جبری نقل مکانی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے انتظامات اور تمام تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس وقت لبنان کے تقریباً بیس فیصد رقبے پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ قائم ہو چکا ہے، جبکہ وہاں کی مقامی شہری آبادی کو جبری نقل مکانی اور شدید ترین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور امدادی کارکنوں پر حملے پاکستانی مندوب نے ہنگامی اجلاس کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم انسان ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    ثقافتی ورثے کی تباہی اور ملکی خودمختاری کا مطالبہ سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ لبنان کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا دنیا بھر میں ہر صورت احترام کیا جائے۔

    سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان ان تمام سفارتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے زور دے کر یہ مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ تاریخی ‘قرارداد نمبر 1701’ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کروایا جائے اور اسرائیلی افواج کا ‘بلیو لائن’ (لبنانی سرحد) تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔

    لبنانی عوام سے یکجہتی اور عالمی برادری کو پکار پاکستان نے لبنان کی حکومت اور وہاں کے غیور عوام کے ساتھ اپنے مکمل اور برادرانہ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم، آزاد اور پرامن لبنان پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے، مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

    اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں دیرپا اور مستقل امن صرف اور صرف باہمی مذاکرات، سنجیدہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یکطرفہ فوجی اقدامات مسائل کے مستقل حل کے بجائے ہمیشہ نئی اور پیچیدہ جنگی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔

    پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

    محمود احمد june 02,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

    سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

    ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

    جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

    جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔

    پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    کاشف عباسی ,june 01,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں جاری سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر الجہتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا شدید خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین تجارتی، معاشی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو آنے والے دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

    دفترِ وزیراعظم میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور شرکا وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

    تزویراتی مکالمے کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جاری ‘تزویراتی مکالمے’ (اسٹریٹجک ڈائیلاگ) کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت، نئی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات، علاقائی سلامتی، ہجرت کے قوانین، پائیدار ترقی اور باہمی رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت اور برآمدات انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں ‘جی ایس پی پلس’ (GSP Plus) سہولت کی کلیدی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس تجارتی رعایتی پروگرام نے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں اضافے اور دونوں خطوں کے معاشی روابط کو مستحکم بنانے میں ہمیشہ ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

    خلیجی خطے میں امن اور عسکری و سفارتی قیادت کا کردار وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق امور اور مختلف دیگر پیچیدہ علاقائی و عالمی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو دل کھول کر سراہا اور پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے میں یورپی یونین کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    انگلش فٹبال کے ایک یادگار دور کا اختتام؛ مایہ ناز فٹبالر جیمز ملنر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

    محمود احمد june 01,2026

    لندن (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

    انگلینڈ کے مایہ ناز اور انتہائی تجربہ کار فٹبالر جیمز ملنر نے چوبیس طویل سیزنز پر محیط اپنے شاندار اور تاریخی پیشہ ورانہ سفر کے بعد فٹبال کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے (ریٹائرمنٹ) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ چالیس سالہ مڈفیلڈر نے انگلش پریمیئر لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والے کھلاڑی کے طور پر اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کیا ہے۔

    آخری سیزن اور میچز کا منفرد عالمی ریکارڈ جیمز ملنر نے اپنے فٹبال کیریئر کے آخری تین سیزن مشہور کلب ‘برائٹن اینڈ ہوو البیون’ کے ساتھ گزارے اور مجموعی طور پر چھ سو اٹھاون (658) لیگ میچز کھیل کر تاریخ کا ایک انتہائی منفرد اور ناقابلِ شکست ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے رواں سال فروری کے مہینے میں سابق ریکارڈ ہولڈر گیرتھ بیری کا سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا ریکارڈ توڑ کر یہ تاریخی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

    سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام اور سفر کا آغاز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک انتہائی جذباتی پیغام میں جیمز ملنر نے کہا کہ انگلش پریمیئر لیگ میں چوبیس یادگار سیزن گزارنے کے بعد اب کھیل کو باوقار طریقے سے الوداع کہنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محض سولہ برس کی عمر میں اپنے پسندیدہ کلب ‘لیڈز یونائیٹڈ’ کی نمائندگی کرتے ہوئے جس سفر کا آغاز انہوں نے کیا تھا، وہ ان کی ذاتی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب اور سنسنی خیز ثابت ہوا۔

    مختلف نامور کلبز کی نمائندگی اور کامیابیاں اپنے طویل اور تاریخی کیریئر کے دوران انہوں نے دنیا کے مایہ ناز فٹبال کلبز جیسے کہ نیو کیسل یونائیٹڈ، ایسٹن ولا، مانچسٹر سٹی، لیورپول اور برائٹن کی کامیابی کے ساتھ نمائندگی کی۔ عسکری اور تزویراتی میدان کی طرح فٹبال میں بھی ان کا ‘مانچسٹر سٹی’ کے ساتھ دور سب سے زیادہ کامیاب رہا جہاں انہوں نے دو بڑے لیگ ٹائٹل جیتے، جبکہ ‘لیورپول’ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی متعدد دیگر اہم عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اپنے ملک انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو عالمی کپ (ورلڈ کپ) اور دو یورپی چیمپئن شپ مقابلوں میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔

    فٹبال سے وابستہ یادیں اور عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جیمز ملنر کا اپنے پیغام کے اختتام پر کہنا تھا کہ فٹبال کے اس کھیل نے انہیں زندگی میں ان کی سوچ اور توقعات سے کہیں زیادہ نوازا ہے۔ کھیل کے دوران بننے والی سچی دوستیوں، یادگار لمحات اور تاریخی کامیابیوں کو وہ ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ پریمیئر لیگ کی تاریخ میں چھ سو سے زائد میچز کھیلنے والے دنیا کے گنتی کے چند عظیم کھلاڑیوں میں جیمز ملنر کے علاوہ ریان گگز اور فرینک لیمپارڈ جیسے لیجنڈز بھی شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کی جانب سے ان کی اس ریٹائرمنٹ کو انگلش فٹبال کے ایک سنہری اور یادگار دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بڑا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ

    محمود احمد june 01,2026

    تہران (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تمام پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کو فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل بند کرنے اور دیگر علاقائی محاذوں کو فعال کرنے کا سنگین عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اب مذاکرات کے تمام امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور خطے کی صورتحال ایک نئے اور ہولناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

    اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فی الفور اور مکمل انخلا کرے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں جاری اس تمام خونریزی اور کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

    آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کرنے کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران حکام نے تزویراتی طور پر اہم ترین بین الاقوامی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل بند کرنے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے ‘باب المندب’ سمیت دیگر مزاحمتی محاذوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، سفارتی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور ان کے حتمی وقت کے بارے میں ابھی تک تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کابینہ اجلاس سے اہم خطاب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ہر قسم کے بیرونی چیلنج اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے اصولی مؤقف اور دفاعی پالیسیوں پر سختی سے ثابت قدم رہے گا اور ہر مشکل ترین صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے قومی اتحاد، ملکی استقامت اور اسلامی مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے چنے ہوئے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔

    وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر سنگین الزامات اور سخت موقف دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر شدید ترین تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خطے میں معصوم انسانوں کے خلاف جاری تمام اسرائیلی اقدامات اور جنگی جرائم کا برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے جو مسلسل اپنا سفارتی مؤقف تبدیل کرتا ہے اور مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر نئے مطالبات سامنے لاتا رہتا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کو مکمل محفوظ سمجھتا ہے، اور اگر کسی بھی پڑوسی یا دور کے ملک کی سرزمین یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کی گئیں، تو ایران ان کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کا پورا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔

    عالمی منڈیوں اور تجارتی حلقوں میں شدید ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید ترین عسکری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کی بندش کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی حلقے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تہران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

    محمود احمد june 01,2026

    تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔

    ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔

    خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

    عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

    عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔