

منصور احمد june 04,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر ایک بڑی عوامی تحریک چلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزِ منصورہ سے ملک بھر کے جماعتی ذمہ داران اور تنظیمی عہدیداروں کے ایک اہم ترین آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی خالصتاً عوامی حمایت کے ذریعے ملکی نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پسِ پردہ سازش یا غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے پر رتی بھر یقین نہیں رکھتی۔
لاکھوں نئے ارکان کی شمولیت: رکنیت سازی مہم تیز کرنے کی سخت ہدایت حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر کے کارکنان اور ذمہ داران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے دس روز کو مکمل طور پر رکنیت سازی مہم کے لیے وقف کر دیا جائے اور مقررہ اہداف کے فوری حصول کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے مہم کے اہداف کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:
پچھلا مرحلہ: رکنیت سازی کے گزشتہ مرحلے میں ملک بھر سے تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔
موجودہ ہدف: اس موجودہ مرحلے میں بھی پندرہ سے بیس لاکھ نئے ارکان کو شامل کرنے کا بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بڑے شہروں پر فوکس: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے تمام بڑے شہروں پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے ہر علاقے اور گلی محلے کو اس مہم میں کور کیا جائے۔
مہنگائی اور عوامی مسائل پر دو ٹوک موقف امیرِ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں نے غریب عوام کو زندہ درگور اور شدید ترین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی مظلوم عوام کی توانا آواز بنے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی کہ
جدید مواصلاتی ذرائع کے گروپس کے ذریعے جماعت کا منشور اور اصلاحی پیغام گھر گھر پہنچایا جائے۔
عوامی مسائل کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر اور بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔
نچلی سطح تک تنظیمی رابطوں اور نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔
بجٹ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والے وفاقی بجٹ اور عوامی مشکلات کے تناظر میں جماعت اسلامی کسی بھی وقت ملک گیر احتجاج یا بڑی عوامی تحریک کی حتمی کال دے سکتی ہے، جس کے لیے ملک بھر کے کارکنان کو ذہنی اور تنظیمی طور پر ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔
نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے اور سماجی اصلاحات پر زور اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو ایک سنگین قومی بحران قرار دیا۔ انہوں نے اساتذہ، علمائے کرام، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر بااثر سماجی شخصیات کو ساتھ ملا کر ایک منظم اور ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صرف ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی و اصلاحی تحریک ہے جو معاشرتی بہتری، بلا تفریق عوامی خدمت اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔