

کاشف عباسی , JULY 30,026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء
لاہور ہائیکورٹ نے بانی تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے روکتے ہوئے ان کی ایک ہفتے کے لیے باضابطہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے نورین نیازی کی استدعا کو قانونی اور آئینی حق مانتے ہوئے ان کی ضمانت قبول کی اور انہیں واضح اور سخت ہدایت جاری کی کہ وہ اس ایک ہفتے کے اندر متعلقہ متعلقہ اور مجاز عدالت سے باقاعدہ رجوع کر کے قانونی طریقہ کار مکمل کریں۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نورین نیازی کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درخواست گزار کے خلاف پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ان کی گرفتاری کا قوی خدشہ موجود ہے۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ قانون سازی کی روشنی میں اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے موقع فراہم کرتے ہوئے عبوری اور حفاظتی ضمانت دیں تاکہ وہ قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے رجوع کر سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نورین نیازی کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور خاندان نے اس اقدام کو ریلیف اور قانون کی پاسداری کا اہم قدم قرار دیا ہے۔