پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن نے کرکٹ تاریخ کے تمام مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ساڑھے سات ارب روپے سے زائد کا تاریخی منافع، ٹیموں کی تعداد آٹھ کرنے کا فیصلہ ترین فیصلہ ثابت ہوا، پی سی بی نے سینیٹ کمیٹی میں باقاعدہ تفصیلات پیش کر دیں

Spread the love

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس میں ہونے والے شاندار ایڈیشن نے ملک میں کرکٹ کی تاریخ کے تمام سابقہ مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے ہیں جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مرتبہ سات ارب چوّن کروڑ روپے سے زائد کی ریکارڈ توڑ آمدنی اور منافع حاصل ہوا ہے جبکہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر آٹھ کرنے کے انقلابی اقدام کی بدولت بورڈ کا مجموعی منافع دو ارب روپے سے اچانک چھلانگ لگا کر ساڑھے سات ارب روپے کی خطیر رقم تک جا پہنچا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس کے تمام اخراجات، مجموعی آمدن اور خالص منافع کی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اہم اجلاس میں پیش کر دی ہے، سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی پی سی بی کی اس سرکاری رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق اس سال پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد پر مجموعی طور پر دو ارب چونسٹھ کروڑ چوّن لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئے جبکہ اس کے مقابلے میں لیگ کے مختلف تجارتی و نشریاتی ذرائع سے ہونے والی مجموعی آمدن دس ارب انیس کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، اس طرح تمام اخراجات نکالنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیکس کی ادائیگی سے قبل خالصتاً سات ارب چوّن کروڑ اٹھانوے لاکھ روپے سے زائد کا تاریخی منافع حاصل ہوا ہے جو کہ ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے، کرکٹ بورڈ کے مالیاتی تقابل کے مطابق گزشتہ سال دو ہزار پچیس کے ایڈیشن کے دوران بورڈ کو محض دو ارب روپے کا منافع ہوا تھا جبکہ سال دو ہزار چوبیس کے ایڈیشن کے دوران پی سی بی کو دو ارب چھیالیس کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا تھا تاہم اس سال ٹیموں کی تعداد آٹھ تک بڑھانے اور سنسنی خیز مقابلوں کی بدولت منافع میں یہ بے پناہ اور تاریخی اضافہ ممکن ہوا ہے جس پر سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے بھی بورڈ کی انتظامیہ کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔