

محمود احمد june 16,2026
اسلام آباد / برن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء
امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل ترین مذاکرات کے بعد طے پانے والے انتہائی حساس اور مجوزہ تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کے مقام میں سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر اچانک بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے پر اب سابقہ طے شدہ مقام جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے دنیا بھر میں مشہور اور جھیل کے کنارے واقع پرسکون ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ یہ تاریخی اور عالمی تقریب رواں ہفتے جمعہ ۱۹ جون کو منعقد ہو گی، سوئس سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ برجن اسٹاک ریزورٹ کو اس کی غیر معمولی سیکیورٹی اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے شاندار ٹریک ریکارڈ کی بدولت منتخب کیا گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے اور وزرائے خارجہ اس حتمی امن معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں جاری ہولناک کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نیا باب شروع کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا اور تاریخی اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی میزبانی اور ثالثی کے تحت منعقد ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو بڑے ممالک کے مابین روایتی مفاہمت یا ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی غیر جانبدار سفارت کاری، باہمی مکالمے اور مستقل امن کی جیت کی ایک عظیم علامت ہے، وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے پسِ پردہ طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف گرم محاذوں پر جاری تمام فوجی کارروائیوں اور بمباری کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے اور یہ امن معاہدہ پورے خطے میں پائیدار استحکام، تجارتی ترقی اور اعتماد سازی کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس امن معاہدے کے حتمی مسودے کے حوالے سے دونوں طاقتوں کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، ان کے مطابق ایرانی حکومت اور اعلیٰ قیادت دستخطی تقریب کے باقاعدہ انعقاد سے قبل اپنے تمام پڑوسی مسلم ممالک اور برادر خطوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینے کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات میں لبنان اور شام میں فوری جنگ بندی، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور بعض دیگر پیچیدہ مالی و سفارتی پابندیوں کے مستقل حل سے متعلق امور شامل ہیں، عالمی سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین اس معاہدے کو رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔