پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کا نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا تاریخی دورہ، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد سے اہم ملاقات، کرکٹ اسٹار کو عالمی ادارے کے امن مشنز اور پائیدار ترقی کے امور پر خصوصی بریفنگ، سفیر عاصم افتخار احمد کی جانب سے شاہد آفریدی کی فلاحی خدمات اور جارحانہ بیٹنگ کو شاندار خراجِ تحسین، کھیل کو عالمی سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ قرار دے دیا، اعزاز میں پروقار عشائیہ

Spread the love

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز کپتان، دنیا بھر میں بوم بوم کے نام سے مشہور لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کی خصوصی اور باضابطہ دعوت پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا ایک یادگار اور تفصیلی دورہ کیا ہے، نیویارک کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی خصوصی تفصیلات کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران شاہد آفریدی کو اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کی تاریخی عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کرایا گیا اور انہیں عالمی تنظیم کے طریقہ کار، دنیا بھر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے مستقل فروغ، غریب ممالک کی پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کو بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار کے بارے میں اعلیٰ حکام کی جانب سے خصوصی بریفنگ دی گئی، ہیڈکوارٹرز میں قائم پاکستانی مشن میں ہونے والی اس باضابطہ ملاقات کے دوران مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کا والہانہ خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کے لیے ان کی طویل اور شاندار خدمات کو دل کھول کر سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے شاندار کرکٹ کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی روایتی جارحانہ، بے باک اور دلکش بیٹنگ، خطرناک اسپن بولنگ اور میدان میں طوفانی شاٹس کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں کرکٹ شائقین کے دلوں پر راج کیا اور ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں بلند کیا، پاکستانی سفیر نے کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر شاہد آفریدی کی فلاحی اور انسانی خدمات کی سرگرمیوں، بالخصوص شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے فلاحی کاموں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سماجی بہبود کی مخلصانہ کاوشوں نے ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی زندگیوں پر انتہائی مثبت اور گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جو کہ سب کے لیے قابلِ فخر ہے، دورانِ گفتگو سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم نقطے پر خاص طور پر زور دیا کہ موجودہ دور میں کھیل دراصل سپورٹس ڈپلومیسی (کھیل سفارت کاری) کا ایک سب سے مؤثر اور طاقتور ذریعہ بن چکے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مختلف قوموں اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے میدان دنیا میں باہمی احترام، افہام و تفہیم، عالمی امن، خیرسگالی اور بین الاقوامی برادری کے درمیان جاندار تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک بہترین اور متحرک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مایہ ناز آل راؤنڈر کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی روزمرہ کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر پاکستان کے ٹھوس موقف کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا، جن میں کثیرالجہتی بین الاقوامی نظام کے فروغ، مختلف تہذیبوں کے مابین مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے سمیت دنیا میں امن و سلامتی کے مستقل قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور فعال کاوشیں شامل ہیں، اس موقع پر سابق کپتان شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے اس یادگار دورے کی دعوت دینے اور نیویارک آمد پر انتہائی پرتپاک میزبانی کا مظاہرہ کرنے پر سفیر عاصم افتخار احمد اور پاکستان مشن کے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر پاکستان کے مستقل مشن کی شاندار خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن عالمی سطح پر اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، مفید مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ دیرینہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ ایک قابلِ قدر اور جرات مندانہ کردار ادا کرتا آیا ہے، اس تاریخی دورے نے اس مشترکہ اور مضبوط سوچ کی واضح عکاسی کی ہے کہ کھیل اور روایتی سفارت کاری مل کر عوام اور مختلف اقوام کے درمیان باہمی روابط کو فولادی بنانے اور ایک زیادہ پُرامن، خوشحال اور تعاون پر مبنی عالمی ماحول کی تشکیل میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، بعد ازاں سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے اعزاز میں نیویارک کے ایک پروقار مقام پر شاندار عشائیے کا اہتمام بھی کیا، اس الوداعی تقریب کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، پاکستان مشن کے تمام سینیئر افسران اور نیویارک کی چند دیگر اہم ترین شخصیات بھی موجود تھیں۔