لاہور کے علاقے سندر میں انتطامیہ کی مجرمانہ غفلت کا ہولناک نتیجہ، سڑک پر کھلا مین ہول پانچ سالہ معصوم حسن کی زندگی نگل گیا، ریسکیو کی لاش نکالنے کی تصدیق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی رپورٹ طلب، ضلعی انتطامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم

Spread the love

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں انتظامیہ کی شدید لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ایک اور دلخراش اور انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کھلا مین ہول معصوم بچے کی زندگی نگل گیا، حاصل ہونے والی لرزہ خیز تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ معصوم بچہ حسن سڑک کنارے کھیلتے ہوئے اچانک بغیر ڈھکن کے کھلے ہوئے گہرے مین ہول میں جا گرا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو الیون ٹو ٹو کی ٹیمیں اور مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی آپریشن شروع کیا، ریسکیو اہلکاروں نے سخت تگ و دو کے بعد معصوم بچے حسن کو مین ہول کے گندے پانی سے باہر نکال لیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا اور جانبر نہ ہو سکا، معصوم بچے کی موت کی خبر گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا اور پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، پولیس کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق واسا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے اور اسے کھلا چھوڑنے کے باعث ہی یہ پُردرد حادثہ پیش آیا ہے، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سندر میں معصوم بچے کے جاں بحق ہونے کے اس ہولناک واقعے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور اور واسا حکام سے فوری طور پر تفصیلی اور ہنگامی رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

شہری اور سماجی حلقوں نے اس دردناک واقعے پر واسا اور لاہور انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا قتل قرار دیا ہے، شہریوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ لاہور بھر میں موجود تمام کھلے مین ہولز اور دیگر خطرناک گٹروں کی فوری نشاندہی کر کے وہاں نئے ڈھکن لگائے جائیں اور غفلت برتنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور غریب کا معصوم بچہ اس طرح کے المناک اور اندوہناک واقعات کا شکار ہونے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکے۔