عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئیں، پاکستان میں تاحال پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہو سکیں

Spread the love

روزینہ اسماعیل.june 18,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے مابین تاریخی امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق اس بڑے سٹریٹجک معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت یکسر گر کر ۷۵ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) ۷۷ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مشہورِ زمانہ مربن خام تیل بھی عالمی منڈی میں ۷۴ ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، عالمی معاشی ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے اسٹاک انڈیکسز میں زبردست بہتری اور تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زمین پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو اب تک اس کا کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے جس پر عوامی و تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

ملکی معاشی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے دو ماہ کا وافر پٹرولیم ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود رواں سال فروری کے مہینے میں ایران جنگ شروع ہوتے ہی ہنگامی بنیادوں پر ملک میں پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن اب عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے تاحال صرف داخلی مشاورت کا سست عمل جاری ہے، پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کا ۷۴ اور ۷۵ ڈالر فی بیرل کی سطح پر آنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے امپورٹ بل میں اربوں ڈالر بچانے کا سنہری موقع ہے مگر اس کے باوجود اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرول سستا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی صارفین تاحال مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں اور عوامی سطح پر حکومت سے فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔