آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ۲۰۱۷ء کی تاریخی فتح کو ۹ سال مکمل، روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار کامیابی قومی کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب، سرفراز احمد اور فخر زمان کے تاثرات

Spread the love

منصور احمد june 18,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ۱۸ جون ۲۰۱۷ء ایک انتہائی سنہرا اور لازوال باب ہے جب قومی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر کی تمام تر توقعات اور کرکٹ ماہرین کے تجزیوں کے یکسر برعکس گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل معرکے میں اپنے روایتی حریف بھارت کو ۱۸۰ رنز کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست دے کر پہلی بار یہ عالمی اعزاز اپنے نام کیا تھا، اس تاریخی اور ناقابلِ فراموش کامیابی کو آج پورے نو سال مکمل ہو گئے ہیں مگر اس شاندار فتح کی سحر انگیز یادیں آج بھی ملکی و بین الاقوامی شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں پوری طرح تازہ ہیں، اس یادگار دن کے موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے مایہ ناز کپتان سرفراز احمد نے اپنے خصوصی پریس بیان میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اوول کے تاریخی میدان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو فضا میں اٹھانا بلاشبہ ان کے پورے کرکٹ کیریئر کا یادگار ترین اور سنہرا لمحہ تھا، سابق کپتان کے مطابق یہ عظیم کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم، محنتی کوچنگ سٹاف، اسپورٹنگ مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ اور مخلصانہ کاوشوں کا خوبصورت نتیجہ تھی جس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

اس تاریخی فائنل معرکے میں بھارتی بالنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کرنے والے مایہ ناز اوپننگ بیٹر فخر زمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میچ میں کھیلی گئی جارحانہ اننگز اور وہ تاریخی دن آج بھی ان کی زندگی اور یادوں کا سب سے اہم حصہ ہیں کیونکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نے انہیں بطور انٹرنیشنل کرکٹر بہت کچھ سکھایا اور ان کے مجموعی کیریئر کو بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، دوسری جانب قومی ٹیم کے موجودہ مایہ ناز اسپنر ابرار احمد نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۱۷ء کا یہ ہائی وولٹیج فائنل میچ اپنے گھر پر بیٹھ کر دیکھا تھا اور پاکستان کی تاریخی جیت پر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی تھی، ان کے بقول جب کپتان سرفراز احمد عالمی ٹرافی لے کر کراچی پہنچے تو وہ دیوانہ وار ان کے گھر گئے تھے تاہم شائقین کے بے پناہ رش کی وجہ سے وہ اس وقت ٹرافی کو قریب سے دیکھنے میں یکسر ناکام رہے تھے لیکن آج ٹرافی کو اپنے بالکل قریب دیکھنا ان کے لیے ایک انتہائی خاص اور سحر انگیز لمحہ ہے، فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے لگائے گئے تربیتی کیمپ کے دوران وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں پاکستان ٹیم کے نیٹ بولر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ملکی ٹیم کی اس عظیم کامیابی کو وہ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔

عالمی اعزاز حاصل کرنے کی نویں سالگرہ کے موقع پر قومی ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر عامر جمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم الشان فخر کا لمحہ تھا اور اس ایونٹ کے سیمی فائنل و فائنل کی سنسنی خیز یادیں آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں، انہوں نے فائنل میچ کا ایک انتہائی نازک موڑ یاد کرتے ہوئے کہا کہ پچ پر جب بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اہم کیچ ڈراپ ہوا تو پوری ٹیم اور شائقین شدید دباؤ کا شکار ہو گئے تھے تاہم اگلی ہی گیند پر شاداب خان کے ایک انتہائی شاندار اور ناقابلِ یقین کیچ نے پاکستان کو دوبارہ مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلائی جس سے ٹیم کے حوصلے آسمان پر پہنچ گئے اور یوں روایتی حریف کے خلاف ایک تاریخی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی۔