لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ کر ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے؛ ناک آؤٹ میچز میں 12 گول کا نیا عالمی سنگِ میل

Spread the love

محمود احمد, JULY 10,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے مقتدر کپتان اور دنیا کے صفِ اول کے اسٹار فٹ بالر کیلین ایمباپے نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے کوارٹر فائنل میں مراکش کے خلاف شاندار گول کر کے فٹ بال کی تاریخ میں متعدد نئے اور تاریخی عالمی اعزازات اپنے نام کر لیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 27 سالہ فرانسیسی کپتان کیلین ایمباپے نے مراکش کے خلاف تزویراتی میچ کے 60 ویں منٹ میں ایک شاندار گول اسکور کیا، اور اس کے ساتھ ہی وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیز ترین 20 گول مکمل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، کیلین ایمباپے نے صرف 20 ورلڈ کپ میچز کھیل کر اپنے 20 گول مکمل کیے، اور اس مقتدر کارنامے کے ساتھ انہوں نے ارجنٹائن کے مایہ ناز فٹ بالر لیونل میسی کا تاریخی ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے یہ سنگِ میل 30 ورلڈ کپ میچز کھیل کر حاصل کیا تھا۔ ایمباپے نے یہ حیران کن کارنامہ اپنے تین ورلڈ کپ ایڈیشنز (2018، 2022 اور 2026) کے دوران انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی کیلین ایمباپے 27 سال اور 201 دن کی عمر میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں 20 گول اسکور کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین فٹ بالر بھی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک 2018 کے ورلڈ کپ میں 4، 2022 میں 8 اور رواں ٹورنامنٹ 2026 میں اب تک 8 گول اسکور کیے ہیں۔

اس شاندار کارکردگی کی بدولت کیلین ایمباپے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچز میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں وہ ناک آؤٹ مرحلوں میں اب تک مجموعی طور پر 12 مقتدر گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ فرانس کی جانب سے بین الاقوامی فٹ بال میں 100 گولز میں براہِ راست کردار (گول کنٹریبیوشن) ادا کرنے والے پہلے فرانسیسی کھلاڑی بن گئے ہیں، جن کے نام اب 64 انفرادی گول اور 36 گول اسسٹ موجود ہیں۔ رواں ورلڈ کپ 2026 میں 8 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ کیلین ایمباپے 1966 کے بعد پہلے فٹ بالر بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں 10 سے زائد گول کنٹریبیوشنز ریکارڈ کیں۔ ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے مجموعی 14 گول کنٹریبیوشنز بھی اب لیونل میسی کے برابر ہو گئے ہیں، جو گزشتہ 60 برسوں میں مشترکہ طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔