

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو چیلنج کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کر سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر چیمبر ہاؤس میں مختلف کاروباری وفود سے تزویراتی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طاہر ایوب نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے درمیان متوازن ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت صرف اس کی آبادی کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے قومی ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اگر انسانی وسائل کی ترقی پر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہی آبادی معاشی اور سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں میں کاروباری رجحان پیدا کرنے اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں کا تسلسل، معاشی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ہی سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی مقتدر سرپرستی پر زور دیا۔
اس تزویراتی موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال ایس ایم ای سیکٹر، سازگار حکومتی پالیسیوں اور آسان مالیاتی سہولیات کی بدولت لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو ملک میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔