

منصور احمد, JULY 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، محدود وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور ہم آہنگ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) کے موقع پر جاری کردہ اپنے ایک تزویراتی پیغام میں انہوں نے بتایا کہ عالمی آبادی 8 ارب 20 کروڑ جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ ملک میں فرٹیلیٹی کی شرح 3.6 تک پہنچ گئی ہے، جو بدقسمتی سے پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو 2050ء تک پاکستان کی مجموعی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے بروقت اور مقتدر منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیز رفتار اضافہ پانی کے وسائل، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے، لہٰذا حکومت خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنائے۔
سماجی و معاشی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے پی پی پی کی مقتدر رہنما نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جبکہ ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا رہا ہے اور غیر کنٹرول شدہ آبادی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کی نمو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر خاندان اور پوری قوم کی فکر ہے۔
اپنے مقتدر پیغام کے اختتام پر سینیٹر شیری رحمان نے تاکید کی کہ آبادی کی نمو کو منظم کرنا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مذہبی علماء، اساتذہ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ مل کر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں، کیونکہ درست پالیسی سازی اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کے ذریعے ہی اس آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک حقیقی قومی تزویراتی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔