او آئی سی کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اسلام آباد میں شروع، پاکستان آئندہ دو سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھالے گا

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ موقر کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 اہم نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور سفارت کار شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران مسلم امہ میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے گا۔

موقر تفصیلات کے مطابق، یہ کانفرنس “او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ” کے اہم موضوع پر منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا بنیادی فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل تزویراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران کے تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف پیر کے روز وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے ساتھ ہی پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ طور پر سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔ یہ رہنما پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کی پائیدار ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔