یمن میں عسکری تصادم کے بعد ہولناک انسانی بحران: 76 ہزار سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے

Spread the love

محمود احمد, September 12,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

یمن میں حوثی فورسز، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کے درمیان جاری خونریز اور شدید تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 76 ہزار افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے پناہ گزین (آئی او ایم -) کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی رپورٹ میں یمن میں پیدا ہونے والی اس سنگین معاشی و عسکری صورتحال کو ایک ایسے بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے تعبیر کیا گیا ہے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انتہائی خوفناک اور وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔

آئی او ایم کی تازہ ترین رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق چند روز قبل تک یمن میں جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 46 ہزار تھی، جو اب برق رفتاری سے بڑھ کر 76 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتہائی مختصر عرصے میں دوگنے ہو چکے ہیں، جبکہ جنگی محاذوں پر عسکری شدت آنے کے باعث یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے ریکارڈ کے مقابلے میں چار گنا تک بڑھ گئی ہے۔

آئی او ایم کی سربراہ ایمی پوپ نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یمن کے مغربی ساحلی پٹی کے خطوں اور جنوبی تعز کے اہم محاذوں پر فریقین کے درمیان تصادم کی شدت لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی ہے۔

ایمی پوپ کے مطابق جنوبی صوبہ تعز اس تازہ ترین لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے، جہاں سے 8 ہزار 300 سے زائد خاندان، یعنی تقریباً 50 ہزار افراد، اپنے گھر بار، جائداد اور معیشت کو چھوڑ کر کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس تباہ کن لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے مظلوم خاندانوں کی غالب اکثریت تعز کے مختلف علاقوں جبل حبشی، المعافر، مقبنہ، موزع اور الوزعیہ سے تعلق رکھتی ہے، جہاں شیلنگ اور زمینی پیش قدمی جاری ہے۔

طبی و امدادی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر لڑائی کی اس خوفناک لہر کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو آئندہ دنوں میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کے باعث یمن میں مزید لاکھوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں۔