مظالم اور قبضے کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی انتظامی و مالی اصلاحات قابلِ ستائش؛ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا برسلز اجلاس میں اعتراف

Spread the love

محمود احمد, JULY 15,2026

برسلز (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نے اسرائیلی جارحیت، مسلسل فوجی قبضے اور سنگین ترین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے کی جانے والی ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کی پیش رفت کو نمایاں الفاظ میں سراہا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، او آئی سی کے معاون سیکریٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے برسلز میں منعقدہ ایک مقتدر اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا۔ اس اہم اجلاس میں فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ، یورپی کمیشن کی کمشنر ڈوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کیلس بھی موجود تھیں۔ سمیر بکر نے واضح کیا کہ خطے میں دو ریاستی حل کو محفوظ بنانے اور اس پر پائیدار عمل درآمد کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مستحکم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

او آئی سی نے غاصب اسرائیل سے مقتدر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے روکے گئے تمام ٹیکسوں کی آمدنی فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے جاری کرے۔ تنظیم نے عالمی برادری کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس وقت شدید ترین مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنا اور مظلوم شہریوں کو صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسی بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ تنظیم نے تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور امداد دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ریاستِ فلسطین کو فوری مالی امداد فراہم کریں اور فلسطینی معیشت کی دانستہ ناکہ بندی کے سنگین نتائج کا فوری نوٹس لیں۔

اپنے مقتدر بیان میں او آئی سی نے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے بہبود کے ادارے کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے، غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی کے الحاق، جبری بے دخلیوں اور غزہ کی طویل ترین ناکہ بندی کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھائے تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فوری عمل درآمد شروع کرے، جس میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا، تمام سرحدی گزرگاہوں کو کھولنا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام فلسطینی عوام اور فلسطینی سرزمین کی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی وحدت کو ریاستِ فلسطین کی منتخب حکومت کی قیادت میں ہر قیمت پر برقرار رہنا چاہیے۔