پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل، کالا باغ اور خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتِ حال درج کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ six ہزار کیوسک ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل سطح پر ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد کے مقامات پر بھی بہاؤ فی الحال نارمل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔ تاہم، دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ قدرتی نالوں بشمول بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل ہے، لیکن ناگہانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کچے کے علاقوں اور پاٹ میں مقیم شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں جہاں تمام بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم اور سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔