پنجاب میں مون سون کا چوتھا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نورپور تھل، لاہور اور سیالکوٹ سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں شدید بارشیں ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مستحکم؛ دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی، پی ڈی ایم اے کا انتباہ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 26,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کا بہاؤ مستحکم رہا ہے جبکہ دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رکنے کے باعث طغیانی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ بالترتیب 3 لاکھ 34 ہزار، 3 لاکھ 70 ہزار اور 3 لاکھ 13 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں پر سیلابی صورتحال نچلے درجے پر آ گئی ہے، جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ندی نالوں میں نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے درجے جبکہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں 5 ہزار کیوسک کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب رپورٹ ہوا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے پاٹ اور نشیبی علاقوں میں موجود شہریوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے فلڈ ریلیف کیمپس اور تمام بنیادی سہولیات و ادویات کی فرہمی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل، کالا باغ اور خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتِ حال درج کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ six ہزار کیوسک ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل سطح پر ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد کے مقامات پر بھی بہاؤ فی الحال نارمل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔ تاہم، دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ قدرتی نالوں بشمول بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل ہے، لیکن ناگہانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کچے کے علاقوں اور پاٹ میں مقیم شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں جہاں تمام بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم اور سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

پنجاب کے اہم دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری؛ پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ الرٹ جاری کر دیا

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مانسون کی حالیہ مقتدر لہر کے پیشِ نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے کے مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور بڑے شہروں کے لیے سیلاب کی ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے. ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ الرٹ کے مطابق، 20 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح اور صورتحال میں شدید اضافے کا تزویراتی خدشہ ہے، جس کے باعث متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں.

آفیشل اعلامیے کے مطابق، دریائے راوی اور دریائے چناب سے ملحقہ برساتی نالوں بشمول بہیں، بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں طغیانی اور سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے. اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر بھی پانی کے بڑے ریلے کے پیشِ نظر سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے. ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان سے نکلنے والی رود کوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ (ایک دم آنے والے سیلاب) کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا قوی امکان ہے. اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مقتدر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، واسا حکام، ریسکیو 1122، لوکل گورنمنٹ، اور محکمہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک و ٹرانسپورٹ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی طور پر متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضلعی ایمرجنسی کنٹرول رومز میں عملے کی 24 گھنٹے حاضری کو یقینی بنایا جائے. انہوں نے خصوصی تادیبی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کے پاس پٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک وافر مقدار میں ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی آپریشن میں تاخیر نہ ہو. ڈی جی نے انتظامیہ کو پابند کیا کہ دریاؤں کے پاٹ (کچے کے علاقوں) میں موجود انسانی بستیوں اور مال مویشیوں کے فوری و محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جائے اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی مدد یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں.