

منصور احمد, JULY 22,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جی ٹین پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایمرجنسی اور ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ کی سہولت کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاعات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد پاسپورٹ آفس کے باہر کارروائی کی گئی، جس کے دوران مرکزی ملزم محمد مزمل کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ملزم خاص طور پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اسلام آباد کے جعلی رہائشی پتے دکھا کر ترجیحی بنیادوں پر پاسپورٹ بنوانے کے عوض فی کیس 20 ہزار روپے وصول کرتا تھا۔
گرفتار ملزم کی نشان دہی پر دو مزید سہولت کاروں نصیر احمد اور محمد تصور کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے موبائل فونز کے جائزے سے ثابت ہوا کہ ملزم نصیر احمد آن لائن پیغامات کے ذریعے شہریوں کے ٹوکن نمبرز پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار رضا کو بھجواتا تھا جو جواب میں خصوصی نمبرز فراہم کر کے ترجیحی کلیرنس ممکن بناتا تھا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ پاسپورٹ اہلکار رضا فی کیس بھاری رقوم آن لائن رقم کی منتقلی کے ذریعے حاصل کرتا رہا، جس سے اس کا مجرمانہ نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت کرنے والے واضح ثبوت قائم ہو چکے ہیں۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں سے مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔ پاسپورٹ آفس کے ملوث اہلکار اور دیگر افراد کا حتمی کردار تفتیش کے دوران متعین کیا جائے گا۔
ایف آئی اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی سرکاری خدمت کے حصول کے لیے ایجنٹوں سے رابطہ کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے براہِ راست رجوع کریں اور ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر ادارے کو فراہم کریں۔