

محمود احمد, JULY 25,2026
نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء
مقبوضہ جموں و کشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماحولیاتی فعال پسند سونم وانگچک نے انکشاف کیا ہے کہ 18 جولائی کو پولیس نے انہیں احتجاجی مقام سے زبردستی حراست میں لے کر اسپتال منتقل کیا جہاں ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سونم وانگچک نے اپنے ایک جاری بیان میں بتایا کہ سرکاری و نجی اسپتالوں کو چھاؤنی میں تبدیل کر کے انہیں ملاقاتوں، موبائل اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے مکمل روک دیا گیا۔ انہوں نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی سودے بازی کرنی ہوتی تو وہ اتنے دن بھوکے نہ رہتے، بلکہ انہوں نے طلباء پر متوقع تشدد اور حالات کو کشیدگی سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ سونم وانگچک نے واضح کیا کہ بھارتی مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جیتیندر سنگھ نے اسپتال میں ان سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ میں بحث، معاوضے کی ادائیگی اور مظاہرین کے خلاف مقدمات نہ بنانے کی تحریری ضمانت دی، جس کے بعد ہی انہوں نے ہڑتال ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔