اقوام متحدہ کا انکشاف: سال 2025 میں 350 امدادی کارکن ہلاک، غزہ اور سوڈان سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار

محمود احمد, August 18,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ہنگامی امدادی دفتر (او سی ایچ اے) نے تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کی مجموعی تعداد 350 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 186 امدادی اہلکار غزہ اور 71 سوڈان میں ہلاک ہوئے۔ ‘او سی ایچ اے’ کے بیان کے مطابق سال 2025ء امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کا ایک اور انتہائی المناک اور ریکارڈ سال ثابت ہوا، جس کے دوران کل 907 کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا کا شکار ہوئے۔

تحقیقاتی ادارے “ہیومینیٹیرین آؤٹ کمز” کے ڈیٹا بیس کے مطابق یہ تعداد سال 2024ء میں ہلاک ہونے والے 377 امدادی کارکنوں کے مقابلے میں معمولی سی کم ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2026ء کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں مزید 82 امدادی کارکن قتل، 97 شدید زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں اور خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ کم لاگت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلح ڈرونز کا پھیلاؤ ایک انتہائی سنگین اور نیا خطرہ بن چکا ہے، جس سے مختلف فریقین کو مہلک طاقت کے استعمال کا موقع مل رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سوڈان میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والی عام شہریوں کی 80 فیصد اموات انہی ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر مقامی منڈیوں اور طبی مراکزی کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ صرف تین سالوں کے دوران 1000 سے زائد امدادی کارکنان کا مارا جانا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محض مذمت کر دینے سے انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ نہیں ملے گا، بلکہ عالمی ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب یقینی بنانا ہوگا۔ ٹام فلیچر نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے، جنگ کے بنیادی انسانی قوانین کبھی نہیں بدلتے۔

ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں کی بس کھائی میں جا گری، بارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی

محمود احمد, August 16,2026

بوداپیسٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

ہنگری میں پولینڈ کے سیاحوں سے بھری ایک مسافر بس کے کھائی میں گرنے سے بارہ افراد ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دلخراش حادثہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب مسافر بس دارالحکومت بوداپیسٹ کو شمال مشرقی شہر نیریگ ہازا سے ملانے والی ایم تھری موٹروے پر جا رہی تھی کہ اچانک سڑک سے اتر کر گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں سوار تمام مسافروں کا تعلق پولینڈ سے تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ ڈرائیور کو دورانِ ڈرائیونگ نیند کا جھونکا آنے کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحریری تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ستائیس ٹن وزنی بس میں ستاؤن مسافر اور دو ڈرائیور سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے کرینوں کی مدد سے بس کو اٹھا کر نیچے دبے افراد کو نکالا اور پینتیس مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔

ہنگری کی ایمبولینس سروس کے مطابق دس شدید زخمی افراد کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے قریب ترین ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں منتقل کیا گیا، جبکہ مزید سڑتیس افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ہنگری کے وزیراعظم پیٹر میگیار نے اس دردناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر اسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کی شدید مذمت: سعودی عرب نے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا

محمود احمد, August 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں علاقائی صورتحال، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تازہ ترین پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے انعقاد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خصوصی مبارکباد پیش کی اور اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین تاریخی و برادرانہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر باہم مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا بڑا اعلان: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو جیسا اتحاد ہے، مصر بھی جلد شامل ہوگا

محمود احمد, August 09,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔

ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

اسرائیل کا ایران کے خلاف جعلی بیان گھڑنے کا انکشاف، جولائی میں امریکی خفیہ ٹھکانے پر ایرانی حملے میں درجنوں ہلاکتیں: جو کینٹ

محمود احمد, August 09,2026

یروشلم / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

اسرائیل کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ثابت کرنے کے لیے ایرانی حکام کا جعلی بیان گھڑنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ممتاز اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کا ایک من گھڑت بیان تیار کیا گیا جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔

رونن برگمین کے مطابق یہ جعلی بیان سب سے پہلے بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند اکاؤنٹ سے وائرل کروایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، ایک اسرائیلی ٹی وی چینل، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اسے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بدلا جا سکے۔ اس انکشاف نے اسرائیلی اداروں کے دعوؤں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ (جولائی) میں ایران نے خطے کے ایک اہم عرب ملک میں واقع سی آئی اے اور سینٹکام کے انتہائی خفیہ مشترکہ مرکز کو بالکل درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

جو کینٹ کے مطابق اس پراسرار اور حساس ٹھکانے سے امریکی افواج کے اہداف اور جاسوسی کے آپریشنز چلائے جاتے تھے، جس کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو بھی خبر نہ تھی۔ ایرانی میزائلوں کے اس دقیق حملے کے وقت وہاں سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکار موجود تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس دہلا دینے والے حملے نے پینٹاگون اور امریکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذ عالمی طاقتوں کے لیے جدید ہتھیاروں اور ڈرون جنگ کی تجارتی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے اور یوکرینی صدر زیلنسکی اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے۔

سابق ڈائریکٹر نے امریکی سیاسی قیادت کو متنبہ کیا کہ اندرونی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کے شکار امریکہ کو اب نیتن یاہو کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنا ہوگا، بصورتِ دیگر عالمی و علاقائی تباہی کے اثرات بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آسیان کے 59 ویں یومِ تاسیس پر مبارکباد کا پیغام، تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم

کاشف عباسی , August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم کے 59 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے آسیان کے تمام رکن ممالک کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پیغام کے مطابق نائب وزیراعظم نے آسیان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کاؤ کِم ہورن کو بھی ان کی متحرک قیادت اور خطے میں پائیدار خوشحالی و استقامت کے وژن کو فروغ دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘آسیان ڈے’ اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کے اس پائیدار جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس نے جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی، سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان علاقائی انضمام، معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور سفارتی روابط کی ایک مثالی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مثال بن کر ابھری ہے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری روابط کے بنیادی اصولوں پر قائم ہیں۔ پاکستان نے آسیان کے زیرِ اہتمام ہونے والے تمام اہم مذاکراتی فریم ورکس اور ‘آسیان ریجنل فورم’ میں ہمیشہ متحرک کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آسیان کے ساتھ تجارت، بلاواسطہ سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ موجودہ عالمی ناگفتہ بہ حالات اور درپیش چیلنجز کے دور میں آسیان کا امن و بات چیت کا راستہ ہی واحد مؤثر حل ہے اور پاکستان خطے کی جامع ترقی و استحکام کے لیے آسیان کے قریبی اتحادی کے طور پر کام جاری رکھے گا۔

پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔

سری لنکا کی جیلوں میں بیک وقت ہنگامہ آرائی، کورووٹا جیل میں 2 قیدی ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, August 07,2026

کولمبو (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سری لنکا کے شہر رتنا پورہ کے قریب کورووٹا جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سری لنکا کے وزیرِ برائے امورِ عوامی سلامتی آنندا وجے پالا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ کورووٹا جیل میں جمعے کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے بدامنی شروع ہوئی، جس میں 2 قیدی ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے جو رتنا پورہ ٹیچنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ملک بھر کی جیلوں میں بیک وقت بدامنی

وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں نیگمبو، ماہارا، میگزین، کورووٹا اور پالانسینا سمیت متعدد جیلوں میں بدامنی رپورٹ ہوئی ہے، جو مربوط انداز میں پیش آنے کے شواہد ملنے پر تخریب کاری اور سازش کا شبہ ظاہر کرتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان واقعات کے فوری محرکات منشیات اور جرائم پیشہ سرگرمیوں سے جڑے ہیں۔

وزیر کے مطابق میگزین جیل میں تقریباً 40 قیدیوں نے جمعرات رات ساڑھے دس بجے ایک وارڈ سے فرار کی کوشش کی، جس میں ایک قیدی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے۔ پالانسینا جیل میں تقریباً 30 قیدی ناشتے کے بعد جیل کی چھت پر چڑھ گئے اور اندر واپس جانے سے انکار کر دیا، جہاں پولیس اور جیل حکام صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کی یقین دہانی

وزیر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ صورتحال پر قابو پاتے ہوئے قیدیوں کی جان کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقی تمام جیلوں کے واقعات پر قابو پا لیا گیا ہے اور عوامی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی عسکری کشیدگی عالمی مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ، آسٹریلیا کا ایندھن کے ذخائر میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار

محمود احمد, JULY 28,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

آسٹریلیا نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور عسکری بحران عالمی سطح پر مہنگائی کے لیے ایک نیا اور ہولناک خطرہ بن سکتا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق یہ اہم ترین بیان آسٹریلیا کے وزیرِ خزانہ جم چالمرز نے وزارتِ خزانہ کی خصوصی بریفنگ کے دوران دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس اس وقت پہلے جیسے مضبوط حفاظتی ذخائر موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال فروری میں امریکہ-ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے پر تیل کی قیمتوں میں آنے والے جھٹکے کو متبادل راستوں اور ہنگامی ذخائر سے قابو کر لیا گیا تھا، مگر اب وہ ذخائر نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔ جم چالمرز نے زور دیا کہ معاشی بنیادوں پر اس جنگ کا مستقل اور پائیدار خاتمہ جتنی جلد ممکن ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ آسٹریلوی بجٹ 2026-27ء کے منفی تجزیے کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلی تو ستمبر کی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح 7.25 فیصد تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔

پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور؛ فنانشل ٹائمز کا انکشاف

محمود احمد, JULY 27,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

یورپی یونین روس کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنے کے اپنے برسوں پرانے اور روایتی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پالیسی ساز اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں کی منظوری کے موجودہ نظام میں اہم اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یونان نے روس کے خلاف پابندیوں کے حالیہ اور انتہائی اہم پیکج کی منظوری کو مسلسل کئی ہفتوں تک روکے رکھا اور بلاآخر اپنی معیشت اور نجی شعبے کی بقا کی خاطر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق، یونانی حکومت نے یورپی یونین کے اجلاسوں میں اس وقت تک نئے پابندیوں کے مسودے کی تائید اور توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا جب تک کہ دیگر تمام یورپی ممبر ممالک نے یونان کی ایک معروف اور بڑی شپنگ کمپنی ’ڈائنا گیس‘ کو روس کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خصوصی استثنا دینے پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یونان کا بنیادی مقصد اپنی کمپنی کے بحری جہازوں کو اس بات کی قانونی اجازت دلوانا تھا کہ وہ یورپی یونین کی حد سے باہر کے تیسرے ممالک تک روسی مائع قدرتی گیس کی تجارتی ترسیل بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔ یونانی حکام کا موقف تھا کہ اگر ان کی شپنگ انڈسٹری پر یہ یکطرفہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے نہ صرف یونانی معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کے خلاف اجتماعی اور متفقہ اقتصادی پابندیوں کے فریم ورک کے دوران کسی مخصوص ملک کی درخواست پر ایک خاص تجارتی کمپنی کو یوں واضح اور بڑی نرمی دی گئی ہے۔ اس واقعے نے بلاواسطہ طور پر اس حقیقت کو بھی طشت از بام کر دیا ہے کہ ماسکو کے خلاف برسلز کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات اور نقصانات یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک پر ایک جیسے مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ساحلی اور تجارتی لحاظ سے متحرک ممالک کو اس کا زیادہ معاشی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

یونان کی جانب سے ملنے والی اس کامیابی اور مسلسل تاخیر کے بعد، اب برسلز کے اعلیٰ حکام اور یورپی کمیشن میں اس بنیادی نقطے پر گہرا غور و خوض جاری ہے کہ مستقبل میں روس یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف پابندیوں کا منظوری کا عمل کس طرح پیش کیا جائے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق، اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ آئندہ ایک ہی بڑا، پیچیدہ اور جامع پابندیوں کا پیکج لانے کے بجائے چھوٹے، انفرادی اور مخصوص موضوعاتی پیکجز تیار کر کے انہیں مرحلہ وار منظور کروایا جائے۔ اس نئی مجوزہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ایک یا دو رکن ممالک کو کسی مخصوص شعبے پر تحفظات ہوں یا وہ اپنے قومی معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا استعمال یا فیصلے میں تاخیر کریں، تو اس کے باعث پورے پابندیوں کے پلان اور دیگر اہم شقوں کی منظوری بالکل معطل نہ ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کو اپناتی ہے تو یہ یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی اور فیصلوں کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ روسی توانائی پر یورپی ممالک کا انحصار اور معاشی ترجیحات اب بھی اتحاد کی یکجہتی پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران جنگ کے حوالے سے 3 آپشنز زیرِ غور؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا بڑا دعویٰ

محمود احمد, JULY 27,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید ہوتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان تین راستوں میں سے پہلا اختیار ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا اور جنگ میں شدت لانا ہے، دوسرا اختیار ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اس پر غیر معمولی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جبکہ تیسرا اختیار امریکہ کی جانب سے میدانِ جنگ میں اپنی “فتح” کا باقاعدہ اعلان کر کے جنگ سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس خونریز تصادم کے باوجود اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جن میں زبردست عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی مقصد بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان تینوں آپشنز پر غور و خوض کے لیے وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متعدد اہم اور بند کمرہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں میں ماہرین اور عسکری حکام نے ان تینوں میں سے ہر ایک راستے کے ممکنہ نتائج، خطرات اور فائدے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ دوسرا فریق اس بات کا معترف ہے کہ ایران کے خلاف کھلی جنگ امریکہ کے لیے سفارتی، معاشی اور جیو پولیٹیکل سطح پر ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور امریکہ کو فتح کا اعلان کر کے اس غیر سود مند لڑائی کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے۔

یہ تمام تر صورتِ حال اس تناظر میں پیدا ہوئی ہے جب روان سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد علاقوں اور فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ پاکستان کی مؤثر سفارتی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور عارضی فائر بندی قائم ہو گئی تھی، لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا بہانہ بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کے فوری جواب میں ایران نے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد ازاں 24 جولائی کو فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر براہِ راست حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

تاہم، حملے رکنے کے باوجود تہران کا موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی بمباری رکنے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول بلاشرکتِ غیرے برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کی اس اہم ترین شاہراہ پر وہ اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو منقطع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے خود کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر بات چیت کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف اور واشنگٹن کا اپنے مقاصد میں ناکام ہونا، صدر ٹرمپ کو تیسرے اختیار کی طرف مائل کر سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی بڑے معاشی اور جانی نقصان کے اس جنگ سے امریکی فوج کو نکال سکیں۔

امریکی دفاعی صنعت میں چینی نایاب معدنیات کا بحران؛ 2027 کی متبادل سپلائی چین کی آخری تاریخ پر عدم اطمینان کا خدشہ

محمود احمد, JULY 27,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

امریکی دفاعی صنعت چین سے پاک نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کرنے کی مقررہ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بالآخر چینی نژاد معدنیات کے استعمال میں کچھ نرمی دینے یا استثنیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانون اور آخری تاریخ

امریکی وفاقی قانون کے تحت یکم جنوری 2027ء سے ہر امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سرٹیفائی کرے کہ اس کے نایاب ارتھ میگنٹس کی تیاری کے کسی بھی مرحلے — کان کنی سے لے کر حتمی میگنٹ کی تیاری تک — میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کا کوئی کردار شامل نہیں۔ یہ پابندی سماریئم-کوبالٹ اور نیوڈیمیم میگنٹس پر لاگو ہوگی جو جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں کے راستہ متعین کرنے والے نظاموں اور جوہری آبدوزوں سمیت جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں۔

صنعت کو درپیش مشکلات

ماہرین کے مطابق امریکہ میں گھریلو سطح پر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت ابھی تک اس پیمانے پر موجود نہیں جو واشنگٹن کو درکار ہے۔ بڑے دفاعی ادارے اپنے ہزاروں ذیلی سپلائرز کا آڈٹ کر رہے ہیں تاکہ 2027ء کے مکمل تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں، تاہم گھریلو “کان سے میگنٹ تک” سپلائی چین کی تعمیر میں طویل وقت درکار ہے اور چین کی مضبوط اجارہ داری اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک امریکی معدنیات کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی حصص خریداری، ایک اور امریکی نایاب ارتھ کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی امداد کا خط، اور 12 ارب ڈالر مالیت کا اسٹریٹجک ذخیرہ شامل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ ہر سال چین سے تقریباً 10 ہزار ٹن نایاب ارتھ میگنٹس درآمد کرتا ہے، اور یہ طلب دفاعی و توانائی کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

استثنیٰ کا امکان

قانون کے تحت اگر کسی معدنیات کا غیر چینی متبادل دستیاب نہ ہو تو ٹھیکیدار استثنیٰ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے استثنیٰ نایاب ہی دیے جائیں گے۔ تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوری 2027ء تک گھریلو پیداواری صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی تو کئی اہم دفاعی پروگراموں کو یا تو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر انہیں استثنیٰ کے عمل پر انحصار کرنا ہوگا — جسے قانون خود ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

پس منظر

یہ آخری تاریخ اصل میں سال 2024ء کے دفاعی اختیارات کے قانون کے تحت ایک سال کے لیے موخر کی گئی تھی تاکہ صنعت کو متبادل سپلائرز تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ تاہم اب وہ اضافی مہلت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی دفاعی، آٹوموبائل اور برقی آلات کی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دفاعی صنعت وقت پر خود کفیل سپلائی چین قائم کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو یا تو آخری تاریخ میں مزید توسیع دینی پڑے گی یا پھر بڑے پیمانے پر استثنیٰ جاری کرنا پڑ سکتا ہے — جو بالواسطہ طور پر چینی معدنیات پر انحصار جاری رکھنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان؛ بوسنیا کے 5 کوہ پیما ہلاک

محمود احمد, JULY 27,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث بوسنیا اور ہرزیگووینا سے تعلق رکھنے والے 5 کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوہ پیما یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایلبروس سر کرنے کی مہم پر تھے کہ اچانک علاقے میں موسم انتہائی خراب ہو گیا اور شدید طوفان نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید برف باری، تیز ہواؤں اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث کوہ پیماؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی کارروائیوں کے باوجود بوسنیا کے 5 کوہ پیماؤں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

ماؤنٹ ایلبروس کے بارے میں

ماؤنٹ ایلبروس روس کے قفقاز کے علاقے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 5,642 میٹر بلند ہے۔ اسے یورپ کی بلند ترین چوٹی تصور کیا جاتا ہے اور یہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول لیکن انتہائی خطرناک مقام ہے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایلبروس پر موسم انتہائی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، اور اچانک آنے والے برفانی طوفان، شدید ہوائیں اور کم حدِ نگاہ کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا خطرات پیدا کر دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں موسم کی شدت کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی؛ بدخشان کے اضلاع میں شدید جھڑپیں اور ڈرون حملے

محمود احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی آ گئی ہے جس کے بعد صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور طالبان کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان مخالف مسلح تنصیب ‘افغانستان فریڈم فرنٹ’ نے کابل سے بدخشان اضافی نفری لے جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو کابل سے شمالی سالنگ تک تعاقب کے بعد راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل بدخشان کے ضلع زیباک میں جنگجوؤں نے طالبان کے 2 عسکری ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا جبکہ ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ سے روک کر واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق یہ کارروائیاں فریڈم فرنٹ کی بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس اور لاجسٹک صلاحیتوں کا ثبوت ہیں، جبکہ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے مؤقف اپنایا ہے کہ طالبان کی غیر قانونی حکومت کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہو کر ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے گی۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی؛ افغانستان فریڈم فرنٹ کا راکٹ حملہ، 7 طالبان اہلکار ہلاک

منصور احمد, JULY 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں شدید تیزی آ گئی ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک اہم عسکری قافلے پر راکٹ حملہ کیا گیا، جو کابل سے بدخشان کی جانب مزید نفری اور عسکری سامان لے جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اے ایف ایف نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ان کے کسی جنگجو کا نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشان کے ضلع زیبک میں بھی طالبان کے خلاف شدید جھڑپیں اور حملے ہوئے جہاں گزشتہ دو دنوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیبک یونٹ کے کمانڈر ملا شاداب اور بارڈر کمپنیوں کی قیادت کرنے والے 3 دیگر اہم کمانڈر مولوی گل احمدی، ملا فرید اللہ اور قاری عمری لازری شامل ہیں۔

چین کی توانائی صنعت میں تاریخی پیش رفت؛ ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی صلاحیت تھرمل پاور سے تجاوز کر گئی

محمود احمد, JULY 26,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

چائنا انٹرپرائز ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ ریسرچ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ’’2026 انرجی انڈسٹری ایکو سسٹم رپورٹ‘‘ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی تنصیب نے تاریخ میں پہلی بار تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2020ء سے 2025ء کے درمیانی عرصے میں چین کی ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 530 ملین کلوواٹ سے ریکارڈ سطح پر بڑھ کر 1.84 بلین کلوواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ، جوہری توانائی (نیوکلیئر پاور) کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ بائیو ماس پاور جنریشن میں مسلسل ساتویں سال عالمی سطح پر سرفہرست رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین کا آئندہ ہدف توانائی کے شعبے کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کرنا ہے تاکہ ایک محفوظ، صاف اور زیادہ موثر جدید توانائی کا نظام قائم کیا جا سکے۔

چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترے ہیں؛ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بڑا بیان

محمود احمد, JULY 26,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ اور حزوِ جان تعلقات ہمیشہ وقت کے ہر امتحان اور تقاضے پر پورا اترتے آئے ہیں۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حتمی عمل میں پاکستان کے متحرک اور مثبت کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ چینی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ بیجنگ انتظامیہ پاکستان کی ان سفارتی و ثالثی کی کوششوں کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گی۔ وانگ ای نے اعادہ کیا کہ چین تمام متعلقہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور مشرقِ وسطیٰ و خطے میں دیرپا اور پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ پیش رفت اور کوششیں جاری رکھے گا۔