وفاقی حکومت کا کوہلو ترقیاتی پیکیج: 10 منصوبوں پر 7 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ

Spread the love

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع کوہلو کی سماجی و معاشی حالت بدلنے کے لیے جاری کردہ ‘کوہلو ترقیاتی پیکیج’ کے تحت 10 اہم ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان تمام منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

‘ویلتھ پاکستان’ کو موصول ہونے والی باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس خصوصی ترقیاتی پیکیج میں سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی شعبوں سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس روڈ کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اس کی تمام تر رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے جوڑنے والی بلیک ٹاپ سڑکوں پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے اور کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی منظور شدہ رقم مکمل طور پر خرچ کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کوہلو کیڈٹ کالج کا قیام 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے صرف ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کے قیام پر 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے کی لاگت میں سے 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انرجی کے شعبے میں کوہلو کے لیے 132 کے وی (kV) گرڈ اسٹیشن کی تعمیر پر 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے اور مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر 1 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ واٹر سپلائی اور زراعت کے لیے کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ کہان آبپاشی اسکیم پر 1 کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پیکیج کے 10 میں سے 8 اہم ترین منصوبوں کی تمام رقم صد فیصد خرچ کی جا چکی ہے، جبکہ صرف اسپتال اور گرلز کالج کی دو اسکیموں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کی رقم کی بچت یا بقایا اخراجات باقی ہیں۔