وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وفاقی حکومت کی بڑی پیش رفت: چار آکوپیشنل گروپس کے 75 فیصد سول سرونٹس کا سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وفاقی حکومت نے سول سروس میں انسانی وسائل کے انتظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار ختم کرنے کے لیے چار اہم آکوپیشنل گروپس سے تعلق رکھنے والے وفاقی سرکاری افسران کا تقریباً 75 فیصد سروس ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہونے والی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے نفاذ کے ذریعے اس پروسیس میں غیر معمولی اور نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایچ آر ایم آئی ایس ایک ویب بیسڈ اور مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ، پولیس سروس آف پاکستان ، آفس مینجمنٹ گروپ اور سیکریٹریٹ گروپ کے افسران کے تمام سروس ریکارڈز کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق، 75 فیصد ڈیٹا کی کامیاب انٹری کے بعد باقی ماندہ ریکارڈ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ریکارڈ کی سخت جانچ، تصدیق اور درستگی کے مرحلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سسٹم میں شامل تمام تر معلومات سو فیصد مستند اور بلا غلطی رہیں۔ اس جدید پلیٹ فارم میں افسران کے ذاتی ڈیٹا، تقرریوں، ترجیحی سنیارٹی، تعلیمی اسناد، تربیت، رخصت کی تفصیلات، پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹس اور سروس ہسٹری کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا گیا ہے۔

افسران کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لاگ ان کے ذریعے اپنے پورٹل کا خود جائزہ لے سکیں اور اگر کہیں غلطی ہو تو تصحیح کی درخواستیں جمع کروا سکیں، جنہیں چھان بین کے بعد نفاذ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پرانے ریکارڈ کی وجہ سے کام میں کوئی التوا نہیں آ رہا اور تمام تر توجہ ڈیٹا کی مکمل اور مستند انٹری پر مرکوز کی گئی ہے۔

مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد ایچ آر ایم آئی ایس وفاقی افسران کی سروس سے متعلق تمام امور بشمول ترقیوں، تبادلوں اور تربیتی مراحل کے لیے واحد مستند اور مرکزی ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے گڈ گورننس، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی حکومت کا کوہلو ترقیاتی پیکیج: 10 منصوبوں پر 7 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع کوہلو کی سماجی و معاشی حالت بدلنے کے لیے جاری کردہ ‘کوہلو ترقیاتی پیکیج’ کے تحت 10 اہم ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان تمام منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

‘ویلتھ پاکستان’ کو موصول ہونے والی باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس خصوصی ترقیاتی پیکیج میں سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی شعبوں سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس روڈ کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اس کی تمام تر رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے جوڑنے والی بلیک ٹاپ سڑکوں پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے اور کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی منظور شدہ رقم مکمل طور پر خرچ کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کوہلو کیڈٹ کالج کا قیام 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے صرف ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کے قیام پر 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے کی لاگت میں سے 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انرجی کے شعبے میں کوہلو کے لیے 132 کے وی (kV) گرڈ اسٹیشن کی تعمیر پر 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے اور مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر 1 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ واٹر سپلائی اور زراعت کے لیے کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ کہان آبپاشی اسکیم پر 1 کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پیکیج کے 10 میں سے 8 اہم ترین منصوبوں کی تمام رقم صد فیصد خرچ کی جا چکی ہے، جبکہ صرف اسپتال اور گرلز کالج کی دو اسکیموں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کی رقم کی بچت یا بقایا اخراجات باقی ہیں۔