جام کمال خان کا بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم پر زور: منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات کے بجائے ضرورت اور محرومی کی بنیاد پر ہونی چاہیے

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اور صوبے میں ترقیاتی منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات یا پسند ناپسند کی بجائے حقیقی ضرورت، آبادی، معاشی شراکت اور محرومی کی سطح کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔

منگل کے روز یہاں جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے صوبے کے تمام اضلاع میں متوازن انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے بعض علاقوں میں منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے تجویز کردہ عوامی فلاحی سکیموں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، جنہیں فوری طور پر ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

جام کمال خان نے کہا کہ پائیدار اور متوازن ترقی کے حصول کے لیے ایک شفاف اور مناسب منصوبہ بندی انتہائی ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے ضلع کو معاشی اور سماجی ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی تقسیم میں پائی جانے والی عدم مساوات ہمیشہ سے صوبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ پورے صوبے اور اتحادی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اضلاع اور علاقوں کے ساتھ مکمل طور پر متوازن اور غیر جانبدارانہ سلوک روا رکھا جائے۔

وفاقی حکومت کا کوہلو ترقیاتی پیکیج: 10 منصوبوں پر 7 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضلع کوہلو کی سماجی و معاشی حالت بدلنے کے لیے جاری کردہ ‘کوہلو ترقیاتی پیکیج’ کے تحت 10 اہم ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 7 ارب 91 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان تمام منصوبوں کی مجموعی منظور شدہ لاگت 7 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

‘ویلتھ پاکستان’ کو موصول ہونے والی باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس خصوصی ترقیاتی پیکیج میں سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبپاشی کے بنیادی شعبوں سے متعلق اہم منصوبے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیکیج کا سب سے بڑا اور اہم ترین منصوبہ سبی۔رکھنی روڈ کی تعمیر ہے، جو مائیوند کے راستے ٹلی۔کوہلو سیکشن (کلومیٹر 24 تا 164) پر مشتمل ہے۔ اس روڈ کے منصوبے کی منظور شدہ لاگت 6 ارب 54 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے اور اس کی تمام تر رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دیہات کو کوہلو شہر سے جوڑنے والی بلیک ٹاپ سڑکوں پر 22 کروڑ 22 لاکھ 45 ہزار روپے اور کوہلو بائی پاس روڈ کی تعمیر پر 19 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار روپے کی منظور شدہ رقم مکمل طور پر خرچ کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں کوہلو کیڈٹ کالج کا قیام 21 کروڑ 87 لاکھ 54 ہزار روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ انٹر گرلز کالج کوہلو کے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے منصوبے پر اب تک 10 کروڑ 20 لاکھ 96 ہزار روپے صرف ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں کوہلو میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کے قیام پر 22 کروڑ 57 لاکھ 4 ہزار روپے کی لاگت میں سے 20 کروڑ 50 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انرجی کے شعبے میں کوہلو کے لیے 132 کے وی (kV) گرڈ اسٹیشن کی تعمیر پر 33 کروڑ 4 لاکھ 30 ہزار روپے اور مست توالکی تک 11 کے وی ٹمبو فیڈر کی تنصیب پر 1 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ واٹر سپلائی اور زراعت کے لیے کوہلو واٹر سپلائی اسکیم پر 6 کروڑ 75 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ کہان آبپاشی اسکیم پر 1 کروڑ 64 لاکھ 34 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پیکیج کے 10 میں سے 8 اہم ترین منصوبوں کی تمام رقم صد فیصد خرچ کی جا چکی ہے، جبکہ صرف اسپتال اور گرلز کالج کی دو اسکیموں میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 35 لاکھ 14 ہزار روپے کی رقم کی بچت یا بقایا اخراجات باقی ہیں۔