خلیجی تنازعات اور امریکی تجارتی دباؤ: مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات کا شکار

Spread the love

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی تجارتی دباؤ کے پیشِ نظر مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات و کڑی آزمائش کا شکار ہو چکی ہے۔ عالمی منظرنامے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بھارت کو شدید معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹس اور عالمی نشریاتی جائزوں کے مطابق امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک مسودہ قانون کے تحت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک کا بھاری تجارتی ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ بھارتی معیشت پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی پابندیوں کی پروا کیے بغیر روس سے سستا خام تیل خریدنے کی پالیسی اب بھارت کے لیے گلے کا طوق بن چکی ہے اور مودی حکومت توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے اس بل کے بعد مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کے سبب بھارت امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا سب سے نمایاں ملک بن چکا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی جریدے ‘وی آن نیوز’ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی بدلتے ہوئے عالمگیر حالات کے تناظر میں روسی تیل پر شدید انحصار اور اس کے نتیجے میں درپیش سفارتی و معاشی اثرات کے حوالے سے تحفظات پر ردِعمل دیتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کی تائید کی ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت کے معروف توانائی اور تیل و گیس کے ماہر کیرت پاریکھ سمیت معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بھارتی روپے پر مسلسل شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ملک کے اندر مہنگائی میں سنگین اور غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے اور اس کا براہِ راست بوجھ عام بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے۔