بلوچستان کے اضلاع خاران، چاغی، قلات اور مستونگ میں شدت پسندوں کے حملے، سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان

Spread the love

کاشف عباسی , August 26,2026

خاران/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ صوبے کے دیگر تین اضلاع چاغی، قلات اور مستونگ میں مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ سے نقصان پہنچانے اور ایک رابطہ پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے ناخوشگوار واقعات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تفصیلا ت بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند عناصر نے خاران شہر میں اندر آنے اور باہر جانے والے راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور ہائی الرٹ جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، جبکہ جوابی فائرنگ سے حملہ آوروں کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ خاران کے مقامی ذرائع اور پولیس اہلکار کے مطابق رات دس بجے کے بعد شہر میں سنگین فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد بلا کسی نقصان کے چھوڑ دیا۔

خاران میں ناکام حملے کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی تخریب کاری کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ضلع چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ ضلع قلات میں بھی مسلح عناصر نے سیمنٹ سے لدی دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے ان کے ٹائر برباد ہو گئے، تاہم قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے بعد حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔ دوسری جانب کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر قائم ایک اہم پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس سے پل کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، مگر شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہوئی۔ بلوچستان بھر میں ان پے در پے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔