بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی: سعودی میڈیا نے عالمی و علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا

Spread the love

محمود احمد, September 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کی یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی علاقوں اور عالمی جہاز رانی کی اہم شاہراہ کی جانب تیز رفتار پیش قدمی نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، علاقائی توازن اور بین الاقوامی بحری تجارت سے متعلق سنگین ترین خدشات کو جنم دیا ہے، جس پر سعودی ذرائع ابلاغ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آبنائے باب المندب کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل ‘الاخباریہ’ نے اپنے خصوصی تجزیئے میں کہا ہے کہ تہران انتظامیہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے شدید سفارتی و عسکری دباؤ کو حکمتِ عملی کے تحت باب المندب کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حوثی فورسز نے حال ہی میں بحیرۂ احمر کے تاریخی اور تزویراتی ساحلی شہر المخا (موچا) پر قبضہ جمانے کے بعد باب المندب کے قریبی علاقوں میں اپنی پوزیشنز کو انتہائی مضبوط کر لیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس عسکری پیش قدمی کے نتیجے میں حوثی جنگجوؤں کو آبنائے کے دہانے، قریبی ساحلی پٹی اور متصل جزائر تک مکمل اور بلاشرکتِ غیرے رسائی حاصل ہو گئی ہے۔

یہ تمام تر ساحلی اور سمندری علاقے اس سے قبل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی اتحادی فورسز کی سیکیورٹی تحویل میں تھے۔ تاہم، حالیہ برق رفتار پیش قدمی نے حوثیوں کو بحیرۂ احمر اور باب المندب کے انتہائی حساس بحری حصوں کے بکلل قریب پہنچا دیا ہے۔

سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری مسلسل کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی بحری برآمدات پہلے ہی متاثر ہو رہی تھیں، جس کی وجہ سے بحیرۂ احمر کا راستہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی خام تیل اور تجارتی اشیاء کی برآمد کے لیے متبادل کے طور پر انتہائی اہم ہو چکا تھا۔ الاخباریہ نے حوثیوں کے اس اقدام کو ایران کی وسیع تر علاقائی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کا بنیادی مقصد دونوں بڑی عالمی بحری گزرگاہوں کو ایک وقت میں یرغمال بنانا ہے۔

دوسری جانب، سعودی نشریاتی ادارے ‘العربیہ’ نے بھی انکشاف کیا ہے کہ ایرانی عسکری ماہرین حوثیوں کی ان تمام تر ساحلی کارروائیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے تہران حکومت تک سعودی عرب کا ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام پہنچایا ہے، جس میں حوثیوں کو لگام دینے اور سعودی عرب کی سرحدی سلامتی کے خلاف ان کی کارروائیوں کو فوراً روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رائٹرز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے تہران کو حوثیوں کے متوقع حملوں سے خبردار کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان سفارتی تحرکات کے تناظر میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی تازہ ترین کشیدہ صورتحال پر سعودی وزیرِ خارجہ اور پاکستان کے سپہ سالار (آرمی چیف) سے الگ الگ اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے۔ عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق حوثیوں کے اس علاقے پر مؤثر کنٹرول سے عالمی منڈیوں کے لیے خام تیل اور برآمدی سامان کی ترسیل کا وہ متبادل راستہ بھی بند ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو آبنائے ہرمز کے دباؤ کے باعث استعمال کیا جا رہا تھا، جس سے یمن کی جنگ ایک نئی اور خوفناک دلدل میں داخل ہو گئی ہے۔