

کاشف عباسی , August 27,2026
تہران/دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء
قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اگرچہ اس ملاقات کی باضابطہ اور تفصیلی جزیات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی تحرک کے تناظر میں اسے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ قطری وزیرِ خارجہ کا یہ اہم دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے تمام تر مثبت نتائج اور دو روز بعد سامنے آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم مسلم ممالک متحرک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مرکزی ممالک میں قطر اور پاکستان سرفہرست شامل ہیں۔
اس دورے کے حوالے سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اپنے دورۂ ایران کے دوران تہران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں، سیکیورٹی امور، کشیدگی میں کمی اور خطے میں ہونے والی حالیہ اہم سیاسی و سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور قطر کا یکے بعد دیگرے تہران کے ساتھ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ امریکہ اور ایران کے مابین درپیش جیو پولیٹیکل مسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے میں انتہائی کلیدی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔