

محمود احمد, September 12,2026
اہواز (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء
ایران اور عراق کے سرحدی امور میں اچانک اور شدید بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب عراقی حکام نے احتیاطی و سیکیورٹی اقدامات کے تحت ایرانی صوبے خوزستان سے متصل دو اہم ترین تجارتی و مسافر سرحدی گزرگاہوں—شلمچہ اور چذابہ—کو فوری طور پر مکمل بند کرنے کا حکم دے دیا۔
ایران کے صوبہ خوزستان کے گورنر کے سیکیورٹی امور کے نائب ولی اللہ حیاتی نے شلمچہ اور چذابہ کی سرحدی گزرگاہوں کی اچانک بندش کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ عراقی حکام کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے بعد دونوں اہم تجارتی و سرحدی ٹرمینلز سے ہر قسم کی رفت و آمد روک دی گئی ہے۔
نائب گورنر ولی اللہ حیاتی کا کہنا تھا کہ عراقی حکام کے اعلان کے مطابق صوبہ خوزستان میں واقع شلمچہ اور چذابہ کی بین الاقوامی سرحدیں اگلی کسی واضح ہدایات تک مکمل بند رہیں گی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں فی الحال ان اہم گزرگاہوں کے ذریعے نہ تو تجارتی سامان کی برآمد و درآمد ہو رہی ہے اور نہ ہی زائرین یا عام مسافروں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
خوزستان کی صوبائی انتظامیہ اور گورنر سیکیورٹی امور نے تمام مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں، اور عام مسافروں سے شدید تاکید کے ساتھ اپیل کی ہے کہ وہ ناخوشگوار حالات اور پریشانی سے بچنے کے لیے اگلے احکامات تک ان دونوں سرحدی ٹرمینلز کا رخ کرنے سے مکمل طور پر گریز کریں۔
دوسری جانب مہرآن سرحد سے متعلق صورتحال کو واضح کرتے ہوئے مہرآن کے مقامی گورنر نے بتایا کہ ایلام کے علاقے میں واقع مہرآن سرحدی گزرگاہ مکمل طور پر کھلی ہے اور وہاں سے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت جاری ہے۔
عراقی ذرائع ابلاغ اور سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق عراق کی جانب سے ان اہم بین الاقوامی سرحدوں کو بند کرنے کا ہنگامی فیصلہ سعودی عرب کی تزویراتی مشرق-مغرب خام تیل کی پائپ لائن پر عراقی سرزمین کے اندر سے کیے جانے والے مبینہ ڈرون حملے کے فوراً بعد احتیاطی سیکیورٹی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ شلمچہ اور چذابہ کی دونوں سرحدی گزرگاہیں ایرانی صوبے خوزستان اور جنوبی عراق کے درمیان نہ صرف اربوں ڈالر کی سالانہ دوطرفہ تجارت کا سب سے بڑا راستہ ہیں بلکہ یہ مذہبی سیاحت اور زائرین کی سفر کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔