

منصور احمد, August 30,2026
راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے ایک اہم سرکاری دورے پر ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس اعلیٰ سطحی عسکری دورے کی آمد کے علاوہ مزید تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں، تاہم عالمی دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل ترکی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے تمام رکن ممالک ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی نمائندوں کی شرکت کی مکمل توقع ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پہلے ہی سے ترکی کے دورے پر موجود ہیں اور وہاں مختلف اہم سفارتی مصروفیات، دوطرفہ میٹنگز اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے مزید تفصیلات یا مکہ معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کو خفیہ رکھا ہے۔
سفارتی و دفاعی ذرائع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل کے اندر مزید اہم مسلم ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تناظر میں عرب جمہوریہ مصر کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام بھی بعض دفاعی خبروں میں سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے فی الحال اس تین ملکی سیکیورٹی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ یا رسمی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد سے ہی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس کی ساخت اور اہداف کے بارے میں متنوع آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض عالمی ماہرین اس سہ فریقی بلاک کو ایک ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ دفاعی شراکت داری خطے کے اہم کھلاڑیوں یعنی ایران اور اسرائیل کے لیے ایک واضح سیاسی و سیکیورٹی پیغام فراہم کرتی ہے۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے سلامتی و دفاعی امور کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار کم کرنے کی ایک وسیع تر اور خود مختار حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔