بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دو دنوں میں 48 عسکریت پسند ہلاک

منصور احمد, September 04,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں پاک فوج کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 12 عسکریت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 04,2026

راولپنڈی / قلات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 2 ستمبر کو قلات کے دشوار گزار علاقے میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کی مسلسل نگرانی اور نشاندہی کے بعد فورسز کی جانب سے انتہائی مہارت سے فوری ‘سرجیکل ایکشن’ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اس حتمی اور موثر سرجیکل ایکشن کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 12 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے رکھے گئے بارودی مواد کے بڑے ذخیرے کو بھی قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن اور معائنہ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاک بحریہ کی کراچی میں عظیم الشان بحری جنگی مشق ‘سی سپارک-2026’ کا باضابطہ آغاز، آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ

کاشف عباسی , September 02,2026

راولپنڈی/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان کے سیکیورٹی ماحول اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک بحریہ کی کراچی میں تاریخی اور میجر میری ٹائم ایکسرسائز ‘سی سپارک-2026’ کا شاندار و باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں پاک بحریہ اپنی مکمل جنگی تیاریوں، حربی حکمتِ عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کا بھرپور عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس اہم جنگی مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر پاک مسلح افواج کے مختلف اہم شعبوں کے اعلیٰ اور سینئر عسکری افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس وسیع المیعاد مشق کے دوران پاکستان نیوی کی روایتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے تمام تر بحری خطرات کے خلاف جنگی صلاحیت کو سخت اور کٹھن جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ مشق میں جدید ترین بحری جہازوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون نظام (UAVs)، میرینز، کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے مشترکہ جنگی وسائل کو مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔

افتتاحی بریفنگ سے قبل چیف آف دی نیول سٹاف نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سمندر میں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

تربیت میں مصروف افسران اور جوانوں سے اپنے جوشیلے خطاب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے زور دے کر کہا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں غیر متزلزل جنگی تیاری، تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید مؤثر انضمام، حالات کے مطابق خود کو فوری ڈھالنے کی صلاحیت اور زمینی و معلوماتی شعبوں میں اعلیٰ مؤثریت ہر صورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشق ‘سی اسپارک-2026’ کا بنیادی مقصد ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کرنا ہے، جس میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک جگہ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفارمیشن انوائرنمنٹ میں آپریشنز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ سمندر میں فعال کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی جنگ میں دشمن پر فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں: دو طرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 31,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کے دوران استنبول میں اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی و عسکری ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے اہم امور، دوطرفہ دفاعی و تکنیکی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے قیام کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان ، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاسر گلر اور چیف آف ترک جنرل سٹاف جنرل سلچوک بایراکتار اوغلو سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی امن و امان سے متعلق سٹریٹجک امور پر گفتگو کی گئی۔

دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کے اہم اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں ممالک شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تینوں اسلامی برادر ممالک نے سٹریٹجک روابط اور دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف عملی اقدامات اور مستقبل کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

ترجمان کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک و دفاعی تعاون کی روشن عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکی پہنچ گئے: مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے تاریخی اجلاس میں شرکت متوقع

منصور احمد, August 30,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے ایک اہم سرکاری دورے پر ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس اعلیٰ سطحی عسکری دورے کی آمد کے علاوہ مزید تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں، تاہم عالمی دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل ترکی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے تمام رکن ممالک ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی نمائندوں کی شرکت کی مکمل توقع ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پہلے ہی سے ترکی کے دورے پر موجود ہیں اور وہاں مختلف اہم سفارتی مصروفیات، دوطرفہ میٹنگز اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے مزید تفصیلات یا مکہ معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کو خفیہ رکھا ہے۔

سفارتی و دفاعی ذرائع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل کے اندر مزید اہم مسلم ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تناظر میں عرب جمہوریہ مصر کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام بھی بعض دفاعی خبروں میں سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے فی الحال اس تین ملکی سیکیورٹی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ یا رسمی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد سے ہی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس کی ساخت اور اہداف کے بارے میں متنوع آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض عالمی ماہرین اس سہ فریقی بلاک کو ایک ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ دفاعی شراکت داری خطے کے اہم کھلاڑیوں یعنی ایران اور اسرائیل کے لیے ایک واضح سیاسی و سیکیورٹی پیغام فراہم کرتی ہے۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے سلامتی و دفاعی امور کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار کم کرنے کی ایک وسیع تر اور خود مختار حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوچستان کی تقدیر صرف اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صوبے کی سیاسی و سماجی قیادت سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 21,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنایا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، اور بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام ہی صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں جنہیں بااختیار بنانا پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے منفی پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجھک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ صرف اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں موجود ممبران اور رہنماؤں نے بھی امن و ترقی کی راہ میں افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

منصور احمد, August 12,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: خودکش بمبار سمیت ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد جہنم واصل

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں انڈین پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خودکش بمبار سمیت 7 انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔

ہفتہ کے روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز کے مطابق، 30 اور 31 جولائی 2026ء کی درمیانی شب انتہائی مہارت سے کیے گئے اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی خفیہ جائے پناہ کی درست نشاندہی کی۔ فورسز کی بروقت اور موثر سرجیکل کارروائی کے نتیجے میں خودکش بمبار سمیت تمام 7 انڈین سپانسرڈ دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا بھاری مقدار میں گولہ بارود اور دستی ساختہ دھماکہ خیز مواد کا ذخیرہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دیگر انڈین سپانسرڈ دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشن مسلسل جاری ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیانیے میں اس عزم کا دہرایا کہ سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کی تمام قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں وفاقی اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے “عزمِ استحکام” کے ویژن کے تحت بیرونی امداد و مالی معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے اس ناسور کو ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنی بلاامتیاز انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گی۔

سکیورٹی فورسز کا ضلع خضدار میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، 4 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 30,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں چیک پوسٹ پر خارچیوں کا بزدلانہ حملہ ناکام؛ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید

منصور احمد, JULY 24,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے ناکام بناتے ہوئے فرار ہونے والے 12 خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب خوارج نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی لیکن جوانوں نے غیر معمولی بہادری سے ان کا تعاقب کیا، جس پر ناکامی سے ہٹ دھرم ہو کر دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی۔ اس شدید دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور 15 بہادر سپوت جامِ شہادت نوش کر گئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا 1 سرکاری اہلکار شامل ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔