گوگل میپس کا بڑا اقدام: امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا گیا

Spread the love

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

عالمی ٹیک کمپنی گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی مشہور زمانہ سروس ‘گوگل میپس’ پر کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ سرحد پر واقع تاریخی جھیل ‘اونٹاریو’ کا باقاعدہ نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، جغرافیائی نام میں یہ غیر معمولی تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے حالیہ باضابطہ اعلان کے بعد کی گئی ہے۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں موجود صارفین کو ان کے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور اپنے روایتی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تاریخی جڑیں خطے کی مقامی آبادی کی قدیم زبان اور تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو اب یہ جھیل “لیک امریکا” کے نام سے نظر آئے گی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے باہر دنیا بھر کے دیگر ممالک کے صارفین کو دونوں نام بیک وقت دکھائی دیں گے۔ ٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جغرافیائی ناموں کی اپڈیٹ کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب ٹیک کمپنی ‘ایپل’ نے اپنی ‘ایپل میپس’ ایپ پر جھیل کا اصل نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔

جھیل کے نام کی اس اچانک تبدیلی پر کینیڈین حکام اور اعلیٰ قیادت نے شدید غم و غصے اور ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا کے اہم صوبے اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی شدید سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور دونوں اتحادی ممالک کو ’’الٹی سمت میں لے جانے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ جغرافیائی اور سفارتی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی و برآمدی مصنوعات پر بھاری جوابی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب کینیڈا کی ساختہ گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کسی بھی قسم کی کینیڈین پروڈکٹس نہیں خریدنا چاہتا۔

صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگی، لیکن اس کے منفی اثرات امریکہ پر کہیں زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں اور سپیئر پارٹس کا سب سے بڑا اور بنیادی خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کا بائیکاٹ کیا تو امریکی آٹو فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، اور کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانا دراصل امریکی عوام کی جیبوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ‘جھیل اونٹاریو’ شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل شمار کی جاتی ہے اور یہ جغرافیائی طور پر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔