امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران جنگ کے حوالے سے 3 آپشنز زیرِ غور؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا بڑا دعویٰ

محمود احمد, JULY 27,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید ہوتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان تین راستوں میں سے پہلا اختیار ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا اور جنگ میں شدت لانا ہے، دوسرا اختیار ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اس پر غیر معمولی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جبکہ تیسرا اختیار امریکہ کی جانب سے میدانِ جنگ میں اپنی “فتح” کا باقاعدہ اعلان کر کے جنگ سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس خونریز تصادم کے باوجود اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جن میں زبردست عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی مقصد بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان تینوں آپشنز پر غور و خوض کے لیے وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متعدد اہم اور بند کمرہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں میں ماہرین اور عسکری حکام نے ان تینوں میں سے ہر ایک راستے کے ممکنہ نتائج، خطرات اور فائدے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ دوسرا فریق اس بات کا معترف ہے کہ ایران کے خلاف کھلی جنگ امریکہ کے لیے سفارتی، معاشی اور جیو پولیٹیکل سطح پر ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور امریکہ کو فتح کا اعلان کر کے اس غیر سود مند لڑائی کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے۔

یہ تمام تر صورتِ حال اس تناظر میں پیدا ہوئی ہے جب روان سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد علاقوں اور فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ پاکستان کی مؤثر سفارتی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور عارضی فائر بندی قائم ہو گئی تھی، لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا بہانہ بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کے فوری جواب میں ایران نے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد ازاں 24 جولائی کو فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر براہِ راست حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

تاہم، حملے رکنے کے باوجود تہران کا موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی بمباری رکنے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول بلاشرکتِ غیرے برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کی اس اہم ترین شاہراہ پر وہ اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو منقطع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے خود کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر بات چیت کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف اور واشنگٹن کا اپنے مقاصد میں ناکام ہونا، صدر ٹرمپ کو تیسرے اختیار کی طرف مائل کر سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی بڑے معاشی اور جانی نقصان کے اس جنگ سے امریکی فوج کو نکال سکیں۔

امریکی دفاعی صنعت میں چینی نایاب معدنیات کا بحران؛ 2027 کی متبادل سپلائی چین کی آخری تاریخ پر عدم اطمینان کا خدشہ

محمود احمد, JULY 27,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

امریکی دفاعی صنعت چین سے پاک نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کرنے کی مقررہ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بالآخر چینی نژاد معدنیات کے استعمال میں کچھ نرمی دینے یا استثنیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانون اور آخری تاریخ

امریکی وفاقی قانون کے تحت یکم جنوری 2027ء سے ہر امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سرٹیفائی کرے کہ اس کے نایاب ارتھ میگنٹس کی تیاری کے کسی بھی مرحلے — کان کنی سے لے کر حتمی میگنٹ کی تیاری تک — میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کا کوئی کردار شامل نہیں۔ یہ پابندی سماریئم-کوبالٹ اور نیوڈیمیم میگنٹس پر لاگو ہوگی جو جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں کے راستہ متعین کرنے والے نظاموں اور جوہری آبدوزوں سمیت جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں۔

صنعت کو درپیش مشکلات

ماہرین کے مطابق امریکہ میں گھریلو سطح پر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت ابھی تک اس پیمانے پر موجود نہیں جو واشنگٹن کو درکار ہے۔ بڑے دفاعی ادارے اپنے ہزاروں ذیلی سپلائرز کا آڈٹ کر رہے ہیں تاکہ 2027ء کے مکمل تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں، تاہم گھریلو “کان سے میگنٹ تک” سپلائی چین کی تعمیر میں طویل وقت درکار ہے اور چین کی مضبوط اجارہ داری اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک امریکی معدنیات کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی حصص خریداری، ایک اور امریکی نایاب ارتھ کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی امداد کا خط، اور 12 ارب ڈالر مالیت کا اسٹریٹجک ذخیرہ شامل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ ہر سال چین سے تقریباً 10 ہزار ٹن نایاب ارتھ میگنٹس درآمد کرتا ہے، اور یہ طلب دفاعی و توانائی کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

استثنیٰ کا امکان

قانون کے تحت اگر کسی معدنیات کا غیر چینی متبادل دستیاب نہ ہو تو ٹھیکیدار استثنیٰ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے استثنیٰ نایاب ہی دیے جائیں گے۔ تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوری 2027ء تک گھریلو پیداواری صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی تو کئی اہم دفاعی پروگراموں کو یا تو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر انہیں استثنیٰ کے عمل پر انحصار کرنا ہوگا — جسے قانون خود ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

پس منظر

یہ آخری تاریخ اصل میں سال 2024ء کے دفاعی اختیارات کے قانون کے تحت ایک سال کے لیے موخر کی گئی تھی تاکہ صنعت کو متبادل سپلائرز تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ تاہم اب وہ اضافی مہلت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی دفاعی، آٹوموبائل اور برقی آلات کی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دفاعی صنعت وقت پر خود کفیل سپلائی چین قائم کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو یا تو آخری تاریخ میں مزید توسیع دینی پڑے گی یا پھر بڑے پیمانے پر استثنیٰ جاری کرنا پڑ سکتا ہے — جو بالواسطہ طور پر چینی معدنیات پر انحصار جاری رکھنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مزید حملے روکنے کا حکم؛ 13 دن سے جاری روزانہ کی ملٹری کارروائیاں معطل

محمود احمد, JULY 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فوج کو ایران میں فی الوقت کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد پچھلے دو ہفتوں سے ایران پر جاری روزانہ کی امریکی بمباری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ 13 دنوں سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں کی منظوری دے رہے تھے، تاہم ان کا نیا حکم سامنے آنے کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ عارضی وقفہ ہے یا کوئی مستقل جنگ بندی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج فوری طور پر متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج اب بھی بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگی عملیات کے لیے متحرک اور تیار حالت میں ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت اور خبر کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔