ریپبلکن پارٹی کا ڈلاس میں پہلا وسط مدتی انتخابی کنونشن: ڈونلڈ ٹرمپ کا ہر بالغ امریکی کو 5,000 ڈالر دینے کا بڑا اور غیر متوقع اعلان

محمود احمد, September 10,2026

ڈلاس (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کا پہلا وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابی کنونشن منعقد ہوا جس میں روایتی صدارتی انتخابی سال کے بڑے اجتماعات جیسا شاندار اور جوشیلا ماحول دیکھنے میں آیا۔ چمکدار اور رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس جذباتی حامی، اہم امیدواروں کی تقاریر کا مسلسل سلسلہ، اور انتخابی مہم سے متعلق یادگاری اشیا فروخت کرنے والے دکاندار اس بڑے اجتماع کا نمایاں حصہ تھے۔

تاہم کسی بھی روایتی حزبی کنونشن کے برعکس ڈلاس میں منعقد ہونے والی اس دو روزہ تقریب میں پارٹی کا کوئی باضابطہ یا قانونی کاروبار انجام نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے یہ تمام تر اجتماع ریپبلکن رہنماؤں کے لیے ایک زبردست پاور شو اور انتخابی جلسے کی حیثیت رکھتا تھا، جو رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے دوران امریکی کانگریس کا کنٹرول مکمل طور پر برقرار رکھنے اور اپنے ووٹ بینک و ووٹرز کی شرکت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کا ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور ووٹرز پر اثر و رسوخ آج بھی بدستور مکمل طور پر قائم و دائم ہے، نے دو روزہ تقریب کی افتتاحی شام ایک انتہائی طویل اور جذباتی کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں ان تمام اہم موضوعات اور پالیسیوں پر کھل کر بات کی جن پر وہ رواں سال انتخابی جلسوں میں بار بار اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، تاہم اس تقریب کے دوران ان کی جانب سے چند انتہائی غیر متوقع اور سنسنی خیز اعلانات بھی کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے سیاسی جلسوں اور تقریروں میں غیر روایتی اور چونکا دینے والی تجاویز پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ اپنے اسی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5,000 ڈالر (تقریباً 3,700 برطانوی پاؤنڈ) کا بڑا کیش ریلیف دینے کی باقاعدہ قانون سازی کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس معاشی منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کی فراہمی کی صرف اور صرف ایک بنیادی شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ہر شہری کو یہ رقم لازمی طور پر امریکہ کی حدود ہی کے اندر مختلف اشیاء اور خدمات پر خرچ کرنا ہوگی تاکہ ملکی معیشت کو تقویت مل سکے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پورے خطاب میں یہ بالکل نہیں بتایا کہ اس دیوہیکل منصوبے پر عملی طور پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا، اس کھربوں ڈالر کی خطیر رقم کا انتظام کہاں سے ہوگا، یا امریکی حکومت اور اس کے محکمے یہ کیسے چیک اور جانچ سکیں گے کہ یہ رقم واقعی امریکہ کے اندر ہی خرچ کی گئی ہے۔

ریاستی مخالف جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اعلان پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے فوری طور پر ایک سیاسی اور “کھوکھلا وعدہ” قرار دے کر مسترد کر دیا، جبکہ متعدد معاشی اور قانونی ناقدین نے یہ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ آیا امریکی آئین اور قانونی فریم ورک کے تحت ایسا معاشی وعدہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔

حساب کتاب کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد موجود ہیں، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر فی کس 5,000 ڈالر کی رقم تقسیم کی جائے تو امریکی حکومت کے خزانے پر اس کا مجموعی بوجھ تقریباً 1.3 کھرب (1.3 ٹریلین) ڈالر پڑے گا۔

امریکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز عملی طور پر قابلِ عمل ہے یا نہیں، بظاہر اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس بڑے اعلان کا کنونشن میں موجود ٹرمپ کے حامیوں اور حاضرین پر کیا تاثر قائم ہوا۔ پورے ہال میں اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی پرجوش شرکاء نے کھڑے ہو کر منٹوں تک زوردار تالیاں بجائیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے اس والہانہ ردِعمل سے بے حد محظوظ اور خوش دکھائی دیے۔

ٹروتھ سوشل پر آئس لینڈ سمیت گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکی پرچم میں لپٹا دکھانے کا معاملہ؛ ریکیاوک انتظامیہ نے پوسٹ کو مکمل طور پر نامناسب قرار دے دیا

محمود احمد, September 08,2026

کوپن ہیگن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یورپی ملک آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع اور اشتعال انگیز نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد ریکیاوک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں آئس لینڈ سمیت خطے کے کئی آزاد اور خود مختار ممالک کو امریکی پرچم کے نیچے دکھایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی شائع کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بغیر کسی تحریری وضاحت کے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ، آئس لینڈ، میکسیکو، وسطی امریکہ اور کیریبین کے تمام تر جغرافیائی علاقوں کو امریکی پرچم کے اندر ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا، جبکہ اس پورے خطے کو مجموعی طور پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ” کا لیبل دیا گیا تھا۔

اس غیر معمولی واقعے کے بعد آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیرڈور کترین گُنّارسڈوتیر نے نو تعینات شدہ امریکی سفیر بلی لانگ کو ہنگامی بنیادوں پر وزارتِ خارجہ طلب کیا۔ واضح رہے کہ سفیر بلی لانگ نے گزشتہ ماہ ہی آئس لینڈ میں بحیثیت امریکی سفیر اپنی باضابطہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے مقامی میڈیا اور نشریاتی اداروں کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ آئس لینڈ جیسے خود مختار ملک کو امریکہ کے نقشے اور پرچم میں دکھانا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی یہ پوسٹ سفارتی آداب کے منافی اور “مکمل طور پر نامناسب” تھی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ، کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں قائم امریکی سفارت خانوں، نیز نوک میں واقع امریکی قونصل خانے نے آئس لینڈ کے اس احتجاج اور طلبی پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی یہ تنازع سے بھرپور تصویر ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب گرین لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے حساس معاشی و تزویراتی خطے سے متعلق امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے والے خدشات پر پہلے ہی یورپی و سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سفارتی کوششیں تیز: ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو پہنچ گئے

محمود احمد, September 05,2026

ماسکو / کیئو (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

یوکرین میں کئی سالوں سے جاری خونریز جنگ اور عسکری بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سفارتی کوششوں میں اس وقت ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو قریبی اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اہم مذاکرات کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے ہیں۔

روسی اور امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں اعلیٰ سطحی امریکی ایلچی ہفتے کے روز ماسکو پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر روسی صدارتی ایلچی کریل دمترییف نے ان کا باضابطہ استقبال کیا۔ ماسکو میں روسی حکام اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم بات چیت کے بعد، دونوں ایلچیوں کا اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیئو روانہ ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں وہ جاری جنگ کے بعد پہلی مرتبہ یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست اور آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وٹکوف اور کشنر یوکرین جنگ کے پائیدار خاتمے اور فوری جنگ بندی کے لیے ایک بالکل نئی سٹریٹجک تجویز اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے فی الوقت اس امن فارمولے کی باریک تفصیلات اور شرائط کو ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی وفد کی اس سفارتی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئو حکومت ان سے تعمیری بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکے۔

یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان سابقہ تمام امن مذاکرات طویل تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ خطے میں جاری اس جنگ کے دوران سرحدی کنٹرول اور سیکیورٹی ضمانتوں پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی برادری اس امریکی مشن کو جنگ بندی کی بحالی کے لیے انتہائی اہم اور آخری کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

فلسطینیوں کی جبرًا جلا وطنی کا منصوبہ ایجنڈے سے خارج نہیں ہوا: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا متنازع اور اشتعال انگیز دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔

عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔

سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد تہران کا اردن اور امارات میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

تہران/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خطے کے تمام ممالک کو سخت اور واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے ان کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران حکومت ایسے حملوں کا باعث بننے والے تمام ’ذرائع‘ کو بلا جھجھک نشانہ بنائے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی اور پڑوسی ممالک اپنے سابقہ علانیہ مؤقف اور وعدوں کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنی حدود اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ اپنے خلاف ہونے والی ’کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا پہلے سے ’مزید سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ایرانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ رات خطے میں کی جانے والی جوابی عسکری کارروائیاں بھی اسی واضح پالیسی کا تسلسل اور ردِعمل تھیں۔

یہ تند و تیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایرانی جزیرے ‘لارک’ پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس امریکی کارروائی کے ردِعمل میں اس نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب، ان جوابی حملوں پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ایرانی حملوں کو ’بغیر جواب‘ دیے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی پاداش میں ایران کو امریکہ کی جانب سے انتہائی ‘سخت اور موثر جواب’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘

گوگل میپس کا بڑا اقدام: امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا گیا

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

عالمی ٹیک کمپنی گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی مشہور زمانہ سروس ‘گوگل میپس’ پر کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ سرحد پر واقع تاریخی جھیل ‘اونٹاریو’ کا باقاعدہ نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، جغرافیائی نام میں یہ غیر معمولی تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے حالیہ باضابطہ اعلان کے بعد کی گئی ہے۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں موجود صارفین کو ان کے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور اپنے روایتی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تاریخی جڑیں خطے کی مقامی آبادی کی قدیم زبان اور تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو اب یہ جھیل “لیک امریکا” کے نام سے نظر آئے گی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے باہر دنیا بھر کے دیگر ممالک کے صارفین کو دونوں نام بیک وقت دکھائی دیں گے۔ ٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جغرافیائی ناموں کی اپڈیٹ کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب ٹیک کمپنی ‘ایپل’ نے اپنی ‘ایپل میپس’ ایپ پر جھیل کا اصل نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔

جھیل کے نام کی اس اچانک تبدیلی پر کینیڈین حکام اور اعلیٰ قیادت نے شدید غم و غصے اور ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا کے اہم صوبے اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی شدید سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور دونوں اتحادی ممالک کو ’’الٹی سمت میں لے جانے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ جغرافیائی اور سفارتی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی و برآمدی مصنوعات پر بھاری جوابی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب کینیڈا کی ساختہ گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کسی بھی قسم کی کینیڈین پروڈکٹس نہیں خریدنا چاہتا۔

صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگی، لیکن اس کے منفی اثرات امریکہ پر کہیں زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں اور سپیئر پارٹس کا سب سے بڑا اور بنیادی خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کا بائیکاٹ کیا تو امریکی آٹو فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، اور کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانا دراصل امریکی عوام کی جیبوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ‘جھیل اونٹاریو’ شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل شمار کی جاتی ہے اور یہ جغرافیائی طور پر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔

امریکی افواج کا جزیرہ لارک پر بڑا حملہ: ایران کے دو راکٹ لانچرز تباہ، جولائی کے بعد پہلا براہِ راست امریکی اقدام

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی مسلح افواج کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع سٹریٹجک ‘جزیرہ لارک’ پر ایرانی فوج کے دو بڑے لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جولائی کے اواخر کے بعد سے یہ ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا پہلا براہِ راست اور شدید ترین عسکری حملہ ہے۔

امریکی افواج کی یہ سرجیکل کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین جاری براہِ راست عسکری تصادم کی شدت میں کچھ کمی آئی تھی اور دونوں فورسز کے درمیان جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔ ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے گائیڈڈ راکٹ داغنے کی آخری تیاریوں میں المصروف تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں یا تو مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی بحریہ کے قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی جہاز، کشتی یا نجی ڈرون جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گا، اسے امریکی فورسز فوری طور پر تباہ کر دیں گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے عملی کنٹرول اور اسے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید ترین تنازع اور عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے بھرنے کا اعلان: تیل کو امریکی عوام کے لیے ‘تحفہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے خالی ہوتے ہوئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک “تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ بھرنے کا باقاعدہ عمل بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں آنے والی شدید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ سطح پر استعمال کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی مجموعی مقدار میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 21 اگست تک تیل کا ذخیرہ تقریباً 290 ملین بیرل تک گر گیا تھا، جو کہ گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوارِ حکومت میں تجارتی اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر سے بڑے پیمانے پر خام تیل مارکیٹ میں جاری کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو یہ رسمی اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی طویل عرصے سے تباہ حال اور معاشی دباؤ کا شکار تیل کی صنعت کی بحالی و پیداوار کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے امریکہ تک تیل کی فوری اور بڑی مقدار میں سپلائی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو مؤثر اور نمایاں سطح تک بڑھانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، ڈرلنگ ریگز اور وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہوگی۔

فی الوقت معاشی اور ایندھن کی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ نیا توانائی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا اور آیا قلیل مدت کے دوران امریکی عوام کے لیے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

وینزویلا اور امریکہ کے مابین تاریخی تیل معاہدہ: عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کی توثیق، 100 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور 209 ارب ڈالر ٹیکس آمدن کی پیش گوئی

کاشف عباسی , August 29,2026

کاراکاس/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے انتہائی اہم اور کثیر ارب ڈالر کے تیل کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے ایک ’تاریخی معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس پیش رفت سے طویل عرصے سے معاشی زوال، اقتصادی پابندیوں اور مشکلات کا شکار وینزویلا کی قومی معیشت کی فوری بحالی میں بے مثال اور تاریخی پیش رفت متوقع ہے۔ ان کے فراہم کردہ محتاط اعداد و شمار کے مطابق، اس بین الاقوامی منصوبے کے ذریعے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی نجی سرمایہ کاری آئے گی، جبکہ ملکی خزانے کو آئندہ سالوں میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔

عالمی توانائی بحران، ایندھن کی بلند قیمتیں اور امریکی سیاسی منظرنامہ

یہ غیر معمولی اور اہم معاہدہ ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین ملٹری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی رسد شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی \ انتخابات قریب آ رہے ہیں اور پیٹرول کی بلند ہوتی ہوئی قیمتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی و معاشی چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا جیسے وسیع ذخائر رکھنے والے ملک کا امریکی منڈیوں اور کمپنیوں کے لیے کھلنا عالمی اور امریکی دونوں سطحوں پر ایندھن کے بحران کو قابو کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور مارکو روبیو کا مؤقف: تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل اس منصوبے کے خد و خال پر بات کرتے ہوئے کھلے عام یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ باہمی سمجھوتہ واشنگٹن اور امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل ذخائر تک نمایاں اور مستقیم رسائی فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو ’دنیا کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘ بھی قرار دیا تھا۔ اسی حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے حتمی نفاذ کے نتیجے میں وینزویلا کی ایندھن انڈسٹری میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو طویل عرصے سے زوال پذیر معیشت کی دوبارہ تعمیرِ نو اور وینزویلا کی توانائی کی صنعت کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئل فیلڈز کی ملکیت، قانونی سوالات اور نجی کمپنیوں کا کردار

اگرچہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس معاہدے کی افادیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول، انتظامی اختیارات اور ملکیت کی حتمی منتقلی سے متعلق تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ریسرچ فیلو جارج پنیون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے پر تکنیکی نقطہ نظر سے کئی اہم اور قانونی سوالات ابھی جواب طلب ہیں، جن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے قومی ذخائر کی ملکیت کس قانونی طریقہ کار، شرائط اور کس ٹائم فریم کے تحت امریکی یا نجی کمپنیوں کو منتقل کی جائے گی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور وینزویلا کی ٹیمیں اس وقت وینزویلا کے 12 مختلف اور اہم آئل فیلڈز سے متعلق حتمی مذاکرات کر رہی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 90 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد عالمی اور امریکی نجی کمپنیاں ان وسائل سے فائدہ اٹھانے، نئے کنویں کھودنے اور پیداوار کو چند ماہ میں گنا بڑھانے کے لیے وینزویلا میں فوری طور پر اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ‘آبنائے ہرمز کھلی ہے، امریکہ ایران کے خلاف بہت بڑی فتح کی جانب گامزن’

محمود احمد, August 26,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تناؤ کے باوجود انتہائی اہم عالمی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور امریکی بحریہ نے کامیابی سے جہاز رانی کو بحال رکھا ہوا ہے۔ امریکی مبصر اور معروف سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک ‘بلیز میڈیا’ کے بانی گلین بیک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ‘گزشتہ رات ہم نے 22 تجارتی کشتیاں اور جہاز وہاں سے بحفاظت نکالے ہیں’۔ انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی پر کھل کر بات کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف اس جغرافیائی اور سیاسی معرکے میں امریکی بحریہ، برّی فوج اور امریکہ کی مضبوط معاشی طاقت نے انتہائی فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ ایک ‘بہت بڑی تاریخی فتح’ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے وینزویلا کے بحران میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور بالکل اسی طرح ‘ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کو بہت جلد حتمی کامیابی حاصل ہو جائے گی’۔

انٹرویو کے دوران جب امریکی صدر سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہ ‘حملوں یا واقعے میں بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں’۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سفارتی، دفاعی اور معاشی حلقوں میں شدید تحرک پیدا ہو گیا ہے، بالخصوص تیل کی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت سے متعلق امریکی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایرانی قیادت سے متعلق امریکی صدر کا یہ نیا موقف آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

امریکی ٹیرف کا منہ توڑ جواب: کینیڈا نے 8 ستمبر سے اربوں ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا

محمود احمد, August 24,2026

اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے فوراً بعد کینیڈا کی حکومت نے امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اور حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ ہاؤس اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر سامانِ تجارت پر ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر یکساں جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔

کینیڈا کا یہ انتہائی سخت قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے اس فیصلے پر کڑا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں؛ ہم پر تجارتی حملہ ہوا ہے اور کینیڈا اپنے محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری طبقات کے تحفظ کے لیے امریکی ٹیرف کا برابر اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا واشنگٹن کی یکطرفہ شرائط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اس نئے امریکی اقدام سے کینیڈا کی وائن، ڈیری، فرنیچر، سیمنٹ اور ہاکی کے سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جبکہ تینوں ممالک کے آزادانہ تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ کینیڈا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے ایک بہترین اقتصادی موقع گنوا دیا ہے اور فی الحال امریکہ کینیڈا سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے اس جرات مندانہ فیصلے کو وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی حکومتی موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک کے روزگار اور معیشت کی دفاع کے لیے متحد ہونے کا اعادہ کیا ہے۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع لیون پینیٹا کی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر شدید تنقید: معاشی ناکہ بندی کو امریکہ کی کمزوری قرار دے دیا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع اور امریکی استخباراتی ادارے (سی آئی اے) کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی ’معاشی جنگ‘ کو امریکہ کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ ایک نشریاتی ادارے (سی این این) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی اور سخت اقتصادی دباؤ سے امریکہ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ایران خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو بند کر کے خود امریکہ پر زبردست اقتصادی اور تجارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔

لیون پینیٹا نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تہران کو شدید اقتصادی مشکلات، غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک سنگین غلطی ہے، جو کہ عالمی قوانین کی نظر میں ’جنگی جرم‘ کی زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت دنیا بھر میں مخالف طاقتوں کے ایک منظم محور — جس میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں — سے نمٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چاروں ممالک ایک دوسرے کی بھرپور مدد کر رہے ہیں؛ جیسے شمالی کوریا روس کو 10,000 جنگجو اور جدید ڈرونز فراہم کر چکا ہے، لیکن امریکی صدر اس کے برعکس اپنے اتحادوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر دشمنوں کو خوش کرنے کی ’الٹی حکمتِ عملی‘ پر گامزن ہیں۔

سابق امریکی وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے، چاہے امریکی صدر ڈیموکریٹ رہا ہو یا ریپبلکن، بنیادی عالمی اصول یہی رہے ہیں کہ امریکہ کو دنیا میں مضبوط قیادت فراہم کرنی ہے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے ہیں اور آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ عالمی قیادت سے پیچھے ہٹ چکے ہیں اور انہوں نے ولادی میر پیوٹن، شی جن پنگ اور کم جونگ ان جیسے آمروں کے سامنے لچک دکھائی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کی معاشی ناکہ بندی کے نتیجے میں وہاں کی سخت گیر حکومت اپنی طاقت اور مقبولیت میں مزید اضافہ کر لے گی، جبکہ عالمی سطح پر امریکہ ایک اور جنگ ہارتا ہوا اور تنہا دکھائی دے گا، جو کہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔

امریکی وفاقی عدالت نے 75 ممالک پر عائد امیگریشن ویزا پابندی کالعدم قرار دے دی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کو بڑا قانونی دھچکا

محمود احمد, August 23,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

امریکی وفاقی عدالت نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ سناتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کے 75 مختلف ممالک کے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر امریکا میں آباد ہونے سے روکنے والی متنازع امیگریشن ویزا پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ نیویارک کی جنوبی ضلعی عدالت کی معزز جج جینیٹ ورگاس نے اس حکومتی پالیسی کو امریکہ کے نافذ العمل قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس قسم کی اجتماعی پابندی جاری کر کے اپنے آئینی و قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو وائٹ ہاؤس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن اصلاحات کے لیے ایک بڑا اور غیر متوقع قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ متنازع امیگریشن پالیسی رواں سال جنوری 2026ء میں باقاعدہ نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے 75 سے زائد ممالک جن میں افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن شامل ہیں، کے شہریوں کے لیے گرین کارڈ اور امیگرنٹ ویزوں کی جاری کارروائیوں پر معطلی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے موقف میں یہ کہا تھا کہ ان زیادہ خطرے والے ممالک سے آنے والے غیر ملکی تارکینِ وطن امریکہ کی عوامی و فلاحی سہولیات پر غیر ضروری مالی بوجھ بنتے ہیں، جس کو روکنے کے لیے ویزا پراسیسنگ پر پابندی لگائی گئی تھی۔ تاہم جج ورگاس نے اپنے فیصلے میں اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی درخواست گزار کا ویزا محض اس کے آبائی ملک کی بنیاد پر منسوخ یا منجمد نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص اس وقت جب قونصلر افسران نے تمام قانونی شرائط اور دستاویزات کی تصدیق کر لی ہو۔

عدالت کے اس فیصلے کے فوری نتیجے میں وہ تمام تمام ویزا انوائسز اور معطل شدہ درخواستیں خود بخود بحال ہو جائیں گی جو صرف اس صدارتی پالیسی کا سہارا لے کر منسوخ کی گئی تھیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی وزارتِ انصاف اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ اپیلٹ کورٹ میں جانے کا حق رکھتی ہے، لیکن فی الوقت 75 ممالک کے لاکھوں امیگریشن درخواست دہندگان کے لیے امریکی سفارت خانوں کا راستہ دوبارہ کھل گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم کے دوران امریکی سرحدوں پر سخت کنٹرول، ملک بدری کی رفتار تیز کرنے اور قانونی و غیر قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کے جو بلند و بانگ وعدے کیے تھے، ان کی راہ میں امریکی عدالتیں اب ایک مضبوط رکاوٹ کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف ‘غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی’ کے آغاز کا اعلان

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک “غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی” شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ اہم اور سخت موقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک بیان کے ذریعے سامنے لایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ انہوں نے ایران کو ایک اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور اور مکمل موقع فراہم کیا تھا، لیکن ایرانی قیادت اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس نئے اور شدید معاشی دباؤ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی و معاشی کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس نئے اعلان کے بعد عالمی معاشی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکیہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے: صدر رجب طیب اردوان

محمود احمد, August 18,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرانے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفون پر اہم گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترک ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں میں ترکیہ کی مکمل حمایت اور تعاون فراہم کرنے کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ پہلے بھی علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے اور اب بھی دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے سہولت کار بن سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات انتہائی سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکومتوں کے مختلف اداروں کے درمیان سفارتی رابطے پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ہیں، تاہم تاحال دونوں فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے یا باہمی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: کم جونگ اُن نے میرے رابطوں کا جواب دے دیا ہے

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے حالیہ رابطوں کا مثبت جواب دے دیا ہے۔ یہ اہم بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کے حکم کے ٹھیک ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ پیانگ یانگ نے ان کی سفارتی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ کم جونگ اُن کا جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس جواب کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو انتہائی مہنگی اور شمالی کوریا کے لیے معاندانہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرِ دفاع کو ان میں نمایاں کمی کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی مہم میں ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، اسی لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ میں شمالی کورین مشن نے فی الحال اس پر باقاعدہ تبصرے سے معذرت کی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2019ء میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس اور چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ حال ہی میں یوکرینی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔