منشیات سازی اور اسمگلنگ کیس: مشہور مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو سزائے موت کا حکم

Spread the love

محمود احمد, September 06,2026

قاہرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

مصر کے معروف سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مصری عدالت نے ملک کی نامور اور معروف ٹیلی وژن اینکر سارہ خلیفہ اور ان کے 11 دیگر ساتھیوں کو منشیات کی خریدو فروخت اور سنگین جرائم سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر باقاعدہ پھانسی (سزائے موت) کا حکم سنا دیا ہے۔

الاہرام کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، سارہ خلیفہ اور ان کے دیگر مجرمانہ گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور خام اجزاء کی غیر قانونی درآمد کی اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی آتشیں اسلحہ، جدید پسطول اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

39 سالہ سارہ خلیفہ مصری میڈیا پر اپنے مقبول عام ٹی وی شو ’مشن امپاسبل‘ کی وجہ سے ملک گیر شہرت رکھتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر سنسنی خیز جرائم اور ان کی تحقیقاتی رپورٹس پر بات کی جاتی تھی۔ سارہ خلیفہ اور ان کے مرکزی ساتھیوں نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد تمام سنگین الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی کیس میں شامل دیگر 9 ملزمان کو عمر قید (25 سال قیدِ با مشقت) کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ عدم ثبوت کی بنا پر 7 افراد کو مقدمے سے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ سارہ خلیفہ کے قانونی دفاعی وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اس سزائے موت کے خلاف فوری اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کا ابتدائی اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، تاہم مصری قانون کے تحت سزائے موت کی حتمی توثیق سے قبل تمام قانونی دستاویزات کو مصر کے گرینڈ مفتی کی شرعی و مذہبی رائے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ گرینڈ مفتی سے شرعی منظوری ملنے کے بعد اب عدالت نے سزا کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔