نئی دہلی میں 5 منزلہ ہاسٹل کی عمارت زمین بوس: درجنوں طلبہ ملبے تلے دب گئے، ایک ہلاک اور متعدد زخمی

Spread the love

کاشف عباسی , September 06,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ رہائشی ہاسٹل کی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں طلبہ اور مزدور موجود تھے، جن میں سے متعدد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ ‘ہاسٹل ڈیز’ نامی اس عمارت کے گرنے کے وقت اس میں اندازً 50 کے قریب افراد موجود تھے۔ چونکہ اتوار کے روز دہلی یونیورسٹی میں تعطیل تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں ہی موجود تھے۔

مقامی پولیس اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 1 شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ موقع پر موجود ایک مقامی رکنِ اسمبلی نے میڈیا کو بتایا کہ ملبے تلے محصور بعض طلبہ فون کالز کے ذریعے اپنی موجودگی اور مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرنے کی بنیادی وجہ اس کے تہہ خانے میں جاری تعمیراتی اور کھدائی کا کام بنا۔ عمارت کے قریب موجود ایک دکاندار نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ عمارت کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیز ہولڈر نے نیچے ستونوں کے پاس کھدائی کروائی تھی، جس سے بنیادیں کمزور ہو گئیں اور پوری عمارت بیٹھ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں متصل واقع ایک اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اور این ڈی آر ایف ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کی دیگر تمام عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار بلڈنگ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی اس عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔