گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا معاملہ: سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر ملوث ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کر لی

Spread the love

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی خریدو فروخت اور گردوں کی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کے کیس میں نامزد ملزم ڈاکٹر نادر کی باضابطہ درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جمعہ کے روز اس اہم کیس کی باقاعدہ سماعت کی۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ملک میں نافذ قانون کے تحت اگر مریض کا کوئی قانونی رشتہ دار گردہ عطیہ نہ کر رہا ہو تو غیر متعلقہ فرد سے پیوند کاری کے لیے مجاز اتھارٹی سے خصوصی اور باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ اب تک 65 مختلف ٹرانسپلانٹ کیسز میں راست یا بالواسطہ ملوث رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر کا تحریر کردہ ایک نسخہ بھی بطور ثبوت پولیس تحویل میں لیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ زیرِ بحث مقدمے میں گردے کی پیوند کاری کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا تھا، یعنی ٹرانسپلانٹ کا عملی عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مذکورہ ڈاکٹر مسلسل گردوں کی پیوند کاری کے معاملات میں مصروف ہے اور انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کو اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔

سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر نادر کی ضمانتِ بعد از گرفتاری منظور کر لی اور درخواست کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔