بشام خود کش حملہ کیس: 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی درخواست کی سماعت 20 اگست تک ملتوی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بشام خود کش حملہ کیس میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے دائر سرکاری اپیل کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے ملزمان کے ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے اور وکیل کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جب ایک شریک ملزم نے غریبی اور ریڑھی لگانے کا عذر پیش کرتے ہوئے وکیل کی عدم استطاعت کا بتایا تو جسٹس نعیم اختر افغان نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر دہشت گردی اور سہولت کاری جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں سے ملزم نذیر کا سم کارڈ براہ راست خودکش حملہ آور کے زیرِ استعمال پایا گیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر لازمی وکیل کے ساتھ پیش ہونے کا حتمی حکم دیا اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کی ضمانتیں فوری منسوخ کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 26 مارچ 2024ء کو بشام میں ہونے والے خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

آذربائیجان میں ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام: سپریم کورٹ پاکستان کی فعال شرکت؛ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا خطاب

منصور احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ اور عدالتی نظام میں بہترین عالمی روایات کے تبادلے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کی ہے، جہاں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ماہرِ وسائل (ریسورس پرسن) کے طور پر خصوصی خطاب کیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ چار روزہ عالمی تربیتی پروگرام حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قانون و انصاف اور جمہوریہ آذربائیجان کی وزارتِ انصاف کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے ججوں، قانونی ماہرین اور شعبہ انصاف سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے “متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) عالمی تناظر، ججوں کے لیے رہنما اصول” کے عنوان سے خصوصی سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کا نظام انصاف تک عام شہریوں کی رسائی کو وسعت دینے، عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ججوں کو جدید تنازعاتی حل کے طریقہ کار سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بروقت، مؤثر اور آسان انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اعلامیے کے مطابق اس عالمی پروگرام میں عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی شفافیت، مقدمات کے انتظام، ڈیٹا کی سالمیت، الیکٹرانک آرکائیونگ اور عدالتی فیصلہ سازی جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت عالمی عدالتی مکالمے اور تجربات کے تبادلے کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

عدلیہ میں ڈیجیٹل انقلاب: سپریم کورٹ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر دیا

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جامع ڈیجیٹل عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، عدالت نے 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں سکین، بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کر دی ہیں۔ اس تزویراتی عمل کے دوران معمول کی عدالتی کارروائیاں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں اور ڈیجیٹلائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا چکے ہیں۔

موقر اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کو معزز ججوں کی کمیٹی کے تیار کردہ منظم فریم ورک کے تحت دائرہ اختیار اور نوعیت کے مطابق درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم خصوصی کیٹیگرائزیشن سیل نے تمام مقدمات کی منظم درجہ بندی کی جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بہتر سماعتی شیڈول اور عدالتی وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ای فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستیں، وکلاء کی ڈیجیٹل انرولمنٹ، ون لنک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتیں اور پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے تحت ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم پر 35 عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو بھی حکومت کے ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے سرکاری کارروائی کاغذ سے پاک (پیپر لیس) نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس سے انتظامی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ مقتدر اصلاحات روایتی کاغذی نظام سے مکمل ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہیں جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں اور شہریوں کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت مستقبل میں خودکار کیس مینجمنٹ، عدالتی تجزیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔