عوامی اعتماد وراثت میں نہیں، دیانت داری سے ملتا ہے: سپریم کورٹ میں قومی کانفرنس سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا تاریخی خطاب

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے لیے عوام کا اعتماد کسی وراثت کا نام نہیں بلکہ یہ محض دیانت داری اور شفافیت سے حاصل ہوتا ہے، اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے اصلاحات کرتے وقت زمینی حقائق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

ہفتے کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام سپریم کورٹ اسلام آباد میں “عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی” کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس (جوڈیشل ویل بیئنگ) سے بطور مہمانِ گرامی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ ماتحت عدلیہ پورے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت مشکلات کے باوجود کام کرنے والے ماتحت عدلیہ کے ججوں کو بااختیار بنانا عدلیہ کی اولین ترجیح ہے اور انہیں اپنی ضلعی عدلیہ پر فخر ہے۔

چیف جسٹس نے ماضی میں ضلعی عدلیہ اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو جدید اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی افسران کی سہولیات، شرائطِ ملازمت اور تحفظ کے لیے خاص کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ پاکستان بھر کے عدالتی افسران کے لیے ‘ہیلتھ انشورنس’ کی سہولت کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک بڑا اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی افسران پر کسی بھی قسم کے بیرونی، سیاسی یا انتہا پسند عناصر کے دباؤ کے خلاف باقاعدہ حفاظتی طریقہ کار یقینی بنایا گیا ہے، اور ججز کے ضابطۂ اخلاق میں بھی اس حوالے سے ضروری تبدیلیاں لا کر پوری عدلیہ کو ججوں کے پیچھے کھڑا کر دیا گیا ہے۔

مالی و بنیادی سہولیات پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ عدلیہ کی بہتری اور عوامی رسائی کے پروگرام کے تحت رواں سال ۳ ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی کے ۲۰ سالوں میں اس مقصد کے لیے صرف ۹۰ کروڑ روپے دیے گئے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے ۱۸ اضلاع سمیت تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر اور دیگر دور دراز علاقوں میں عدالتوں کو شمسی توانائی، تیز ترین انٹرنیٹ، ای لائبریریوں اور صاف پانی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں اور تمام تحصیلوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے انصاف کی راہ میں جانوں کی قربانیاں دینے والے ججوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ خطاب کے دوران جب شرکاء نے تالیاں بجائیں تو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے انہیں روکتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ اس چھت کے نیچے ہم سب جج ہیں اور ہمیں مکمل طور پر ججوں جیسا ہی و قار برقرار رکھنا چاہیے۔

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا معاملہ: سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر ملوث ڈاکٹر نادر کی ضمانت منظور کر لی

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسانی اعضا کی مبینہ غیر قانونی خریدو فروخت اور گردوں کی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) کے کیس میں نامزد ملزم ڈاکٹر نادر کی باضابطہ درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے جمعہ کے روز اس اہم کیس کی باقاعدہ سماعت کی۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتِ عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ملک میں نافذ قانون کے تحت اگر مریض کا کوئی قانونی رشتہ دار گردہ عطیہ نہ کر رہا ہو تو غیر متعلقہ فرد سے پیوند کاری کے لیے مجاز اتھارٹی سے خصوصی اور باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ اب تک 65 مختلف ٹرانسپلانٹ کیسز میں راست یا بالواسطہ ملوث رہا ہے، جبکہ ڈاکٹر کا تحریر کردہ ایک نسخہ بھی بطور ثبوت پولیس تحویل میں لیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ زیرِ بحث مقدمے میں گردے کی پیوند کاری کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا تھا، یعنی ٹرانسپلانٹ کا عملی عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ مذکورہ ڈاکٹر مسلسل گردوں کی پیوند کاری کے معاملات میں مصروف ہے اور انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کو اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔

سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر نادر کی ضمانتِ بعد از گرفتاری منظور کر لی اور درخواست کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔

ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات ریٹائرمنٹ کے وقت ہی فراہم کی جائیں: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی کی سخت ہدایت

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بروقت پنشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے تمام تر پنشنی حقوق ریٹائرمنٹ کے دن ہی فراہم کر دیے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اپنی تمام تر زندگی ادارے کے لیے وقف کرنے والے افسران و ملازمین کو ان کے قانونی و آئینی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے حفظ الرحمٰن کو ان کی تمام پنشنری مراعات کا چیک موقع پر ہی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو آئندہ کے لیے بھی پنشن سے متعلق تمام ضروری کاغذی و انتظامی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور ایک مؤثر و شفاف انتظامی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، دیگر اعلیٰ افسران اور عملے نے بھی شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کی ادارے کے لیے پیش کردہ طویل و پرخلوص خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حفظ الرحمٰن کے لیے صحت مند، خوشحال اور پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی و آئینی اصول طے: بغیر پیشگی دشمنی اور اچانک اشتعال میں پیش آنے والے قتل کے واقعات پر دفعہ 302(بی) کے بجائے 302(سی) لاگو ہو گی

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔

مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کا تاریخی اور اہم قانونی فیصلہ: کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کر کے ازخود (سوموٹو) کارروائی یا درخواست سے باہر کے امور پر فیصلے صادر نہیں کر سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور آئینی اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح اور حتمی طور پر قرار دیا ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانونی ٹریبونل اپنے عطا کردہ قانونی و آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی زیرِ سماعت درخواست میں شامل نہ ہونے والے زائد معاملات پر اپنے فیصلے جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے صادر کرنا قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس محمد علی مظہر اور فاضل خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک متنازع فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تمام اپیلیں باقاعدہ منظور کرتے ہوئے یہ اہم اور آئینی فیصلہ صادر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے تفویض کردہ قانونی اختیارات اور حدود سے واضح تجاوز کیا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود (سوموٹو) اختیارات استعمال کرنے کا کوئی قانونی و انتظامی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں قانونی بنیادوں پر مسترد کر دینے کے باوجود ایک عجیب طریقہ اپنایا۔ ٹریبونل نے درخواستیں خارج کرنے کے ساتھ ہی 2015ء سے لے کر اب تک ہونے والی تمام تر ترقیوں (پروموشنز) کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے، متعدد دیرینہ ملازمین و افسران کو اچانک تنزلی (ڈیمووٹ) کرنے اور حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے جیسے انتہائی سنگین احکامات جاری کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام تر معاملات اور پالیسی سے متعلقہ امور اصلاً اپیل کنندگان کی بنیادی درخواستوں کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی متاثر ہونے والے درجنوں ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنانا آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قدرتی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کے شدید خلاف ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا قانونی ٹریبونل صرف اور صرف وہی محدود اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے جو اسے آئین یا متعلقہ قانون و ایکٹ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں۔ عدالت نے تشریح کی کہ پالیسی سازی، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور اداروں کے اندرونی قواعد و ضوابط بنانا صرف اور صرف متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومتی محکموں کا صوابدیدی اختیار ہے، جس میں ٹریبونلز کا بلا جواز مداخلا درست نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025ء کو دیا گیا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس متعلقہ حکام کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور اپنی ترقی کے لیے نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے۔

بشام خود کش حملہ کیس: 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی درخواست کی سماعت 20 اگست تک ملتوی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بشام خود کش حملہ کیس میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے دائر سرکاری اپیل کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے ملزمان کے ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے اور وکیل کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جب ایک شریک ملزم نے غریبی اور ریڑھی لگانے کا عذر پیش کرتے ہوئے وکیل کی عدم استطاعت کا بتایا تو جسٹس نعیم اختر افغان نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر دہشت گردی اور سہولت کاری جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں سے ملزم نذیر کا سم کارڈ براہ راست خودکش حملہ آور کے زیرِ استعمال پایا گیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر لازمی وکیل کے ساتھ پیش ہونے کا حتمی حکم دیا اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کی ضمانتیں فوری منسوخ کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 26 مارچ 2024ء کو بشام میں ہونے والے خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

آذربائیجان میں ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام: سپریم کورٹ پاکستان کی فعال شرکت؛ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا خطاب

منصور احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ اور عدالتی نظام میں بہترین عالمی روایات کے تبادلے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کی ہے، جہاں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ماہرِ وسائل (ریسورس پرسن) کے طور پر خصوصی خطاب کیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ چار روزہ عالمی تربیتی پروگرام حکومتِ پاکستان کی وزارتِ قانون و انصاف اور جمہوریہ آذربائیجان کی وزارتِ انصاف کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے ججوں، قانونی ماہرین اور شعبہ انصاف سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے “متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) عالمی تناظر، ججوں کے لیے رہنما اصول” کے عنوان سے خصوصی سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کا نظام انصاف تک عام شہریوں کی رسائی کو وسعت دینے، عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ججوں کو جدید تنازعاتی حل کے طریقہ کار سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بروقت، مؤثر اور آسان انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اعلامیے کے مطابق اس عالمی پروگرام میں عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی شفافیت، مقدمات کے انتظام، ڈیٹا کی سالمیت، الیکٹرانک آرکائیونگ اور عدالتی فیصلہ سازی جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت عالمی عدالتی مکالمے اور تجربات کے تبادلے کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

عدلیہ میں ڈیجیٹل انقلاب: سپریم کورٹ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر دیا

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جامع ڈیجیٹل عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، عدالت نے 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں سکین، بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کر دی ہیں۔ اس تزویراتی عمل کے دوران معمول کی عدالتی کارروائیاں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں اور ڈیجیٹلائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا چکے ہیں۔

موقر اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کو معزز ججوں کی کمیٹی کے تیار کردہ منظم فریم ورک کے تحت دائرہ اختیار اور نوعیت کے مطابق درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم خصوصی کیٹیگرائزیشن سیل نے تمام مقدمات کی منظم درجہ بندی کی جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بہتر سماعتی شیڈول اور عدالتی وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ای فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستیں، وکلاء کی ڈیجیٹل انرولمنٹ، ون لنک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتیں اور پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے تحت ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم پر 35 عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو بھی حکومت کے ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے سرکاری کارروائی کاغذ سے پاک (پیپر لیس) نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس سے انتظامی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ مقتدر اصلاحات روایتی کاغذی نظام سے مکمل ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہیں جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں اور شہریوں کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت مستقبل میں خودکار کیس مینجمنٹ، عدالتی تجزیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔