تاجر میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے سامنے پولیس سرجن کے سنسنی خیز انکشافات

Spread the love

محمود احمد, September 15,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 15 ستمبر 2026ء

کراچی سے تعلق رکھنے والے آئی بی اے کے فارغ التحصیل اور معروف تاجر میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے کیس کے مختلف پہلوؤں پر اہم سماعت ہوئی، جس میں مقتول کے کاروباری و مالی معاملات، سی سی ٹی وی فوٹیج، پولیس کی ابتدائی تفتیش اور پوسٹ مارٹم سے متعلق امور تفصیل سے زیرِ بحث آئے।

جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں دو روز تک موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد کی جانب سے تعاقب کر کے دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ ایسا کرنے پر ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی۔ پولیس سرجن نے ان دھمکیوں کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں باقاعدہ شکایت بھی درج کرائی ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ سید نے پوسٹ مارٹم اور جسم پر موجود زخموں سے متعلق انتہائی اہم نکات اٹھاتے ہوئے بتایا کہ میر رضا کے سر کے پچھلے حصے پر کسی سخت چیز کے لگنے سے چوٹ کا نشان اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کے آثار موجود تھے، جو موت سے قبل کے زخم ہیں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جسم کے ہاتھوں اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات پائے گئے جبکہ مقتول کی قمیض سے ہائیڈروکلورک ایسڈ کی موجودگی ثابت ہوئی۔ پولیس سرجن کے مطابق گولی کے زخم کی ابتدائی تشریح میں غلطی کی گئی تھی، کیونکہ گولی جسم میں پیچھے سے داخل ہوئی، دل کو متاثر کیا اور سامنے سے باہر نکلی۔ علاوہ ازیں میر رضا کے جسم میں بے ہوشی کی دوا کے آثار بھی پائے گئے۔

میر رضا کیس میں پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ پہلے ہی شدید سوالات کی زد میں رہی ہے۔ کراچی پولیس کی دستیاب رپورٹس کے مطابق پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے کمیشن کے سامنے خود اعتراف کیا کہ ان کے پاس میڈیکو لیگل کی باقاعدہ تربیت نہیں تھی، جبکہ پولیس سرجن کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

تحقیقات کے دوران مقتول کے مالی اور کاروباری معاملات بھی زیرِ بحث رہے ہیں، جہاں پولیس نے میر رضا کے مبینہ مالی لین دین اور قرض سے متعلق معلومات اکٹھی کی ہیں۔ پولیس کو میر رضا اور ان کے والد کی ایسی آڈیو ریکارڈنگز بھی موصول ہوئی ہیں جن میں مالی معاملات اور قرض کی ادائیگی سے متعلق گفتگو کا دعویٰ کیا گیا ہے، اور تفتیشی ٹیم ان آڈیو ریکارڈنگز کی صداقت اور کیس سے تعلق کی جانچ کر رہی ہے۔

اس کیس میں سی سی ٹی وی اور الیکٹرانک شواہد کو بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ مقتول کے خاندان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں جائے وقوعہ کو مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا، گواہوں کے بیانات میں تاخیر ہوئی اور الیکٹرانک آلات کی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں ایک آزاد اور غیرجانبدار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آئی بی اے کے فارغ التحصیل اور شعبہ تجارت سے وابستہ میر رضا علی 28 جولائی کو پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ان کی لاش ملی تھی۔ ان کے اہل خانہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے اور انہوں نے موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ پولیس تفتیش پر سوالات کے بعد کیس میں قتل کی دفعات شامل کر کے نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی اور عدالت نے تفتیشی افسر کو فرانزک رپورٹس سمیت تمام زیر التوا شواہد مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید وقت فراہم کیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ جوڈیشل کمیشن کی سماعت میں پولیس سرجن کے بیان، میڈیکل رپورٹس اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں تحریر کی گئی ہے۔

ماخذ: جوڈیشل کمیشن سماعت بریفنگ، دفتر پولیس سرجن کراچی، اور سندھ ہائی کورٹ درخواست ڈیسک۔