نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے دو پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز، سماعت 1 ستمبر تک ملتوی

محمود احمد, August 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

کراچی میں وافلکس کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ون مین جوڈیشل کمیشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جمعے کے روز جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ قانون دان جبران ناصر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ یاد رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعد ازاں ان کی لاش گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی، جس کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے کیس میں مجرمانہ غفلت برتی، جبکہ 29 جولائی کو بااثر افراد یا پولیس افسران کے پہنچنے سے قبل دوپہر سوا 12 بجے نرسری کے ایک ملازم کی اطلاع پر محض دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر آئے تھے، جس کے بعد لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹر اسامہ نے متنازعہ پوسٹ مارٹم کیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم دیا کہ سندھ حکومت اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرائے جس میں میر رضا کیس سے متعلق معلومات دینے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا جائے، نیز سندھ حکومت کو متعلقہ پولیس افسران، ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات اور تمام اصل میڈیکل ریکارڈز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن شہریوں اور نوجوانوں پر مقدمات درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود اصل قاتلوں کا تعاقب نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس عمر سیال نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مکمل شفافیت کے لیے عوام کے لیے کھلی رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ کمیشن کا کام حقائق تلاش کرنا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور چالان عدالت میں پیش کرنا تفتیشی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

نئے ججز کی تعیناتی کی سمری روکے جانے کا تنازع: اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی اور کنفرمیشن کی سمری کی منظوری نہ ہونے پر پیدا ہونے والا آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سنگین معاملے پر صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک حتمی جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار لقمان ظفر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔ کیس کی پیروی زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ “وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا آپ کی اس اہم معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی غرض ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ ہمیں امید تھی کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سمری اس وقت کس مرحلے پر رکی ہوئی ہے؟”

فاضل جج نے مزید نشاندہی کی کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ بھی روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سمری اپنے پاس رکھ کر تو نہیں بیٹھا جا سکتا، پہلے 15 دن کی آئینی مدت کا کہا جا رہا تھا لیکن اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار بالکل واضح ہے۔ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد صدرِ مملکت اس طرح سمری کو روکے نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ قانونی و آئینی نقطہ نظر سے اب صدر اس سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتے۔

عدالت نے تمام فریقین اور وفاقی حکومت کو کل تک تفصیلی اور حتمی جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

ججز تقرری کی سمری پر صدارتی منظوری کا تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدرِ مملکت کو منظوری کی ہدایت کے لیے آئینی درخواست دائر

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔