طبی شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، مقامی پیداوار اور ایم ڈی کیٹ کا نظام شفاف بنانے کے لیے بڑے اقدامات: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

Spread the love

منصور احمد,September 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل نظام کو تیزی سے فروغ دینے، طبی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور میڈیکل آلات و ادویات کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض بیماریوں کے علاج تک محدود رہنے کے بجائے ایک فعال، احتیاطی اور جامع ہیلتھ کیئر سسٹم کا قیام موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

کراچی میں منعقدہ تین روزہ ‘ہیلتھ ایشیا’ نمائش کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن کے تمام تر عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے تاکہ ماضی میں ہونے والی بیوروکریٹک تاخیر کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 100 میڈیکل ڈیوائس فیکٹریاں کام کر رہی ہیں۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں 10 سے 12 ستمبر تک جاری رہنے والی اس انٹرنیشنل نمائش میں 29 ممالک کے 200 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی اور 600 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے۔

سید مصطفیٰ کمال نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی پہلی باضابطہ ‘قومی ویکسین پالیسی’ کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ انڈونیشیا کے ساتھ ویکسین بنانے کی جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی (Technology Transfer) کے معاہدے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ نادرا کے تعاون سے ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اس کے میڈیکل ہسٹری ریکارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز پر بھی مشاورت جاری ہے۔

طبی تعلیم اور شفافیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ رواں سال میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) میں 1,38,000 طلبہ شرکت کر رہے ہیں، اور یہ امتحان 20 ستمبر 2026ء کو ملک بھر میں ایک ساتھ منعقد ہوگا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے اس ٹیسٹ کو مکمل شفاف بنانے کے لیے مرکزی سوالات کا ڈیجیٹل بینک تیار کیا ہے۔ نیز، بلوچستان اور فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل کی اضافی نشستوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

وزارتِ صحت نے ایچ آئی وی/ایڈز (HIV/AIDS) اور دیگر متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس قائم کر کے فیلڈ انسپکشنز کا حکم دے دیا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نرسنگ کی تعلیم اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ پر توجہ دے کر پاکستان کے صحتِ عامہ کے نظام کو پائیدار بنایا جائے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وفاقی وزارتِ صحت، پی ایم ڈی سی کے باضابطہ اعلانات اور ہیلتھ ایشیا کراچی کے میڈیا بریفنگ کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: وزارتِ صحت اسلام آباد، پی ایم ڈی سی ڈیسک۔