ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کا اہم انقلابی منصوبہ، شہریوں کو علاج کی سہولیات دہلیز کے قریب ملیں گی: وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن کا قیام ایک انتہائی اہم اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جس کے زبردست ثمرات کے ذریعے عام شہریوں کو ان کے گھروں اور دہلیز کے بالکل قریب جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی اور معمولی عوارض یا بیماریوں کے علاج کے لیے انہیں دور دراز بڑے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔

اسلام آباد میں جدید ٹیلی میڈیسن سینٹر کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عوام کو صحت کی بنیادی اور معیاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے ذریعے عام شہریوں کو ماہر ترین ڈاکٹروں اور طبی معالجین کی فوری مشاورت کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر مریضوں کا غیرضروری بوجھ اور رش بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے تمام والدین سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو جیسی موذی بیماری سے بچانے کے لیے ہر مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر نونہال کو پولیو سے محفوظ بنانا ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے بچوں کو 13 دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن) کی مفت اور موثر سہولت قائم کر رکھی ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ ایک سے پانچ سال کی عمر کے کسی بچے کا بھی کوئی حفاظتی ٹیکہ کورس سے چھوٹ نہ جائے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریاں پھیلنے سے قبل ہی اگر بروقت، مناسب اور سائنسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو بچوں کو بعد میں شدید بیمار ہونے، ڈسپنسریوں یا ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کا رخ کرنے کی ضرورت کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ ایک صحتمند اور فعال معاشرے کی تعمیر کے لیے بیماریوں سے پہلے ہی بچاؤ، باقاعدہ ویکسینیشن اور بروقت تدابیر بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے پہلے مرحلے کے آخری اور مرکزی ہیلتھ سینٹر کے باضابطہ افتتاح اور اس ابتدائی فیز کی کامیاب تکمیل پر ڈاکٹر سارہ، ان کی پوری تکنیکی ٹیم، ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر راشدہ انجم اور تمام متعلقہ انتظامی افسران اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سینٹرز سے فائدہ اٹھانے والے غریب و مستحق مریضوں کی خدمت کرنا ایک عظیم انسانی اور دینی عمل ہے، جس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی بہبود اور بلا معاوضہ علاج کے اس سلسلے کو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا کر مزید موثر اور وسیع بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پمز کارڈیک سنٹر اور الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا اچانک دورہ: طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے کارڈیک سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں دل کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کارڈیک سنٹر میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور علاج معالجے کے معیار، مفت ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔

مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال میں قائم جدید ترین الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا بھی خصوصی معائنہ کیا جہاں انہوں نے دل کے امراض کے علاج کے لیے دستیاب جدید ترین آلات اور تکنیکی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر پمز انتظامیہ اور متعلقہ طبی حکام نے وفاقی وزیر صحت کو کیتھ لیب کی کل روزمرہ کی استعداد، جدید مشینری کے فعال ہونے اور آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور جدید ترین طبی سہولیات کی بلا تاخیر فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال آنے والے ہر مریض کے مسئلے کے فوری حل کو انتظامیہ اپنی اولین ترجیح بنائے۔

عوام کو صحت کی اعلیٰ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہیلتھ سیکٹر اصلاحات میں تیزی

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام الناس کو صحت عامہ کی جدید اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی سرِ فہرست ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے ملک میں ہیلتھ کیئر اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں مجوزہ ‘جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر’ اور ‘فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک فیز 2 ایکسٹینشن’ کی تعمیر و پیشرفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت کے باشندوں کو فوری اور معیاری طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹرجی/ 11″ میں زیرِ تعمیر فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک ایکسٹینشن کو جناح میڈیکل کمپلیکس کے پہلے فیز کے طور پر شروع اور فعال کیا جائے گا تاکہ ہسپتال کی تعمیر میں تاخیر کو ختم کر کے اسے فوری شہریوں کی خدمت کے لیے کھولا جا سکے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو حتمی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس کے اس پہلے فیز کی تعمیر کو ہر صورت مارچ 2027ء تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس ہسپتال کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید اور ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’ بنایا جائے اور اس میں اعلیٰ ترین اور ہائی ٹیک میڈیکل مشینری کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم شہباز شریف نے شفافیت قائم رکھنے کے لیے ہدایت کی کہ منصوبے کی تعمیراتی پیشرفت کے ساتھ ساتھ مسلسل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کو یقینی بنایا جائے۔ اس اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیرِ توانائ سردار اویس احمد خان لغاری اور دیگر سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔

پمز ہسپتال آتشزدگی کیس: وزیراعظم شہباز شریف کی نومولود بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات، ‘تمغۂ خدمت’ اور 1 کروڑ روپے انعام کا اعلان

منصور احمد, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے دوران اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچی کی جان بچانے والی بہادر نرس رضیہ نورین سے جمعرات کے روز یہاں وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی ملاقات کی اور ان کی بے مثال ہمت، بہادری اور انسانیت کے جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جس عظمت اور ہمت کے ساتھ نومولود بچی آصفہ کو آگ کی لپیٹ سے محفوظ باہر نکالا، وہ ایک عظیم انسانی عمل ہے جس پر پوری قوم کو ان پر بے حد فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی اس بیٹی کا کارنامہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا اور بچی کی والدہ زندگی بھر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔

وزیراعظم نے رضیہ نورین کی اس اعلیٰ ترین کارکردگی اور قربانی کے اعتراف میں اعلان کیا کہ آنے والے قومی دن یعنی 23 مارچ کو انہیں باضابطہ طور پر “تمغۂ خدمت” سے نوازا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے نرس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی مالی انعام کا اعلان کیا اور چیک بھی ان کے حوالے کیا۔

ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین نے وزیراعظم کو واقعے کی دلدوز تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے ہسپتال کے شعبے میں اچانک آگ کی خوفناک لپٹیں اور دھواں دیکھا تو اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اندر داخل ہو گئیں اور چھوٹی بچی آصفہ کو محفوظ نکال کر ڈاکٹر عبدالرحمٰن کے حوالے کیا تا کہ بھگدڑ میں بچی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر بچوں کو بچانے کی بھی کوشش کی گئی تاہم آگ اور سیاہ دھوئیں کے تیزی سے پھیلنے کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ اس غفلت اور حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارتِ صحت کو پمز ہسپتال میں مریضوں اور عملے کے تحفظ کے لیے سہولیات اور حفاظتی اقدامات فوری بہتر بنانے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔